Tuesday , June 19 2018
Home / Top Stories / کریمیا ریفرینڈم : روس میں شمولیت کیلئے 97 فیصد ووٹ

کریمیا ریفرینڈم : روس میں شمولیت کیلئے 97 فیصد ووٹ

ماسکو ؍ سیمفروپول ، 17 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) کریمیا میں اتوار کو منعقدہ ریفرینڈم میں ووٹروں کی بھاری اکثریت نے اس جزیرہ نما علاقے کی یوکرین سے علیحدگی اور روس میں شمولیت کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ روس کی سرکاری خبررساں ایجنسی ’ریا‘ نے ریفرینڈم کے حتمی نتائج کے حوالے سے بتایا ہے کہ ستانوے (97) فیصد رائے دہندگان نے کریمیا کی روس میں شمولیت کی

ماسکو ؍ سیمفروپول ، 17 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) کریمیا میں اتوار کو منعقدہ ریفرینڈم میں ووٹروں کی بھاری اکثریت نے اس جزیرہ نما علاقے کی یوکرین سے علیحدگی اور روس میں شمولیت کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ روس کی سرکاری خبررساں ایجنسی ’ریا‘ نے ریفرینڈم کے حتمی نتائج کے حوالے سے بتایا ہے کہ ستانوے (97) فیصد رائے دہندگان نے کریمیا کی روس میں شمولیت کی حمایت کی ہے۔یوکرین کے اس خودمختار علاقے میں منعقدہ استصواب رائے کا یہ نتیجہ متوقع تھا۔ کریمیا کے قریباً پندرہ لاکھ ووٹروں نے ریفرینڈم میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے اور انھوں نے مستقبل میں معاشی ترقی کے امکانات کے پیش نظر یوکرین سے علیحدگی اور روسی وفاق میں شمولیت کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

تاہم اس ریفرینڈم کے مخالفین نے اس کو روس کی جانب سے یوکرین کے جغرافیائی علاقے پر قبضے کی کوشش قراردیا ہے۔ یوکرین کے صدر اولکسندر ترچینوف نے کریمیا کے عوام سے اس جعلی ریفرینڈم میں حصہ نہ لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ اس کے نتائج کریملن میں پہلے سے ہی مرتب کئے جا چکے ہیں۔اس کا مقصد سرکاری طور پر ہماری سرزمین پر روسی فوجیوں کو تعینات کرنا اور ایک ایسی جنگ کا آغاز ہے جس سے کریمیا کے عوام کی زندگیاں اور اس کی اقتصادی ترقی کے مواقع تباہ ہوکررہ جائیں گے۔ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے آج دوشنبہ سے کریمیا میں فوجی مداخلت پر روس کے خلاف ممکنہ نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کررکھا ہے۔ کریملن کے ایک بیان میں کریمیا کی صورتحال کا کوسوو سے موازنہ کیا گیا ہے۔

کوسوو کی 2008ء میں سربیا سے علیحدگی کو دنیا کے 100 سے زیادہ ممالک تسلیم کرچکے ہیں اور ان میں امریکہ سمیت سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل ارکان بھی شامل ہیں۔ واضح رہے کہ یوکرین کے خودمختار علاقے کریمیا کی پارلیمان گزشتہ منگل کو اس عوامی ریفرینڈم سے قبل ہی ’’اعلانِ آزادی‘‘کی منظوری دے چکی ہے۔اس نے بھی اس ضمن میں اقوام متحدہ کے چارٹر اور دوسری بین الاقوامی دستاویزات اور کوسوو کے اعلان آزادی کا بھی حوالہ دیا تھا جس کے بارے میں 22 جولائی 2010ء کو اقوام متحدہ کے تحت عالمی عدالت انصاف نے کہا تھا کہ کسی ملک کے ایک حصے کی جانب سے یکطرفہ طور پر اعلانِ آزادی بین الاقوامی اقدار کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ مگر مغربی ممالک پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ کریمیا میں استصواب رائے کے انعقاد کو جائز تسلیم نہیں کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT