Tuesday , September 18 2018
Home / اضلاع کی خبریں / کریم نگر- انتخابی تیاریوں پر جائزہ اجلاس

کریم نگر- انتخابی تیاریوں پر جائزہ اجلاس

کریم نگر۔/22مارچ، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) عام انتخابات کے پولنگ مراکز میں برقی، پینے کے پانی کی سہولت، واچس، پیشاب خانے وغیرہ جیسے بنیادی سہولتیں فراہم کرنے ضلع کلکٹر و ضلع الیکشن عہدیدار ایم ویرا برہمیا نے جمعہ کو کلکٹریٹ میٹنگ ہال میں اسمبلی حلقہ جات کے ریٹنرننگ عہدیداران، نوڈل عہدیداران کے ساتھ انتخابی تیاریوں پر جائزہ اجلاس منعق

کریم نگر۔/22مارچ، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) عام انتخابات کے پولنگ مراکز میں برقی، پینے کے پانی کی سہولت، واچس، پیشاب خانے وغیرہ جیسے بنیادی سہولتیں فراہم کرنے ضلع کلکٹر و ضلع الیکشن عہدیدار ایم ویرا برہمیا نے جمعہ کو کلکٹریٹ میٹنگ ہال میں اسمبلی حلقہ جات کے ریٹنرننگ عہدیداران، نوڈل عہدیداران کے ساتھ انتخابی تیاریوں پر جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ریٹرننگ عہدیداران کو پولنگ مراکز کو شخصی طور پر جانچ کرکے انتظامات کا جائزہ لینے ضروری انتظامات کرنے کا حکم دیا۔ ضلع میں ووٹرس کی تعداد بڑھنے کی وجہ سے زائد پولنگ مراکز کے قیام کے لئے پولنگ کے ناموں کی تبدیلی، پولنگ مراکز کے مقام کی تبدیلی کیلئے متعلقہ تجاویز ہوں تو سیاسی پارٹیوں کے ساتھ کل جماعتی اجلاس منعقد کرکے23مارچ تک تجاویز ارسال کریں۔ ضلعی سطح پر کل جماعتی اجلاس منعقد کرکے الیکشن کمیشن کو اس کی تجاویز 26مارچ تک ارسال کی جائیں گی۔ ای وی ایم کے استعمال کی مکمل طور پر تربیت دیں۔ سنٹرل الیکشن کمیشن ای وی ایمس کو انتخابات میں کس طرح استعمال کریں ڈاکیومنٹری فلم بناکر آن لائن رکھا گیا ہے، آر اوز، اے آر اوز، لازمی طور پر اس کو دیکھیں۔ اس موقع پر ای وی ایمس پر فلم کا مظاہرہ کیا۔ اس اجلاس میں جوائنٹ کلکٹر سرفراز احمد، جگتیال سب کلکٹر سری کیش لٹکر، 13اسمبلی حلقہ جات کے ریٹرننگ عہدیداران، نوڈل عہدیداران و دیگر نے شرکت کی۔

٭٭کریم نگر ایم پی ٹی سی چناؤ میں ٹی ڈی پی اور بی جے پی امیدوار ہی نہیں مل رہے ہیں۔ جملہ 29 ایم پی ٹی سی کی نشستوں کیلئے 189 امیدواروں کی جانب سے 300 درخواستوں کی تنقیح کرلی گئی جو درست پائے گئے ہیں۔ ان داخل کردہ درخواستوں کی نامزدگی کی وجہ سے 3لاکھ روپئے کی آمدنی ہوچکی ہے۔ ایس سی، ایس ٹی، بی سیز کے لئے 1250 اور جنرل کے لئے 2500 فیس مقرر تھی۔ 29ایم پی ٹیز کی نشستوں میں سے ٹی ڈی پی کے صرف 4امیدوار ہیں اس طرح بی جے پی کے 12امیدوار شامل ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ ان دونوں پارٹیوں ٹی ڈی پی اور بی جے پی کی سیاسی صورتحال کس حد تک بدترین ہے۔ جبکہ ٹی ڈی پی کا دعویٰ ہے کہ وہ آندھرا اور تلنگانہ میں حکومت بنائے گی اور بی جے پی تو کہہ رہی ہے کہ مرکز اور ریاست میں اسی کی حکومت ہوگی۔ جبکہ انہیں مجالس مقامی اور پنچایت چناؤ میں امیدوار ہی نہیں مل پارہے ہیں۔ دو مقامات سے بی جے پی قائدین نے ٹی آر ایس کی جانب سے ہی نامزدگی داخل کی ہے۔ ٹی ڈی پی کے بہت سارے کارکن اور قائدین ٹی آر ایس میں شامل ہورہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT