Tuesday , December 12 2017
Home / اضلاع کی خبریں / کریم نگر کو منظورہ ایک اور سینک اسکول کی محبوب نگر منتقلی

کریم نگر کو منظورہ ایک اور سینک اسکول کی محبوب نگر منتقلی

کریم نگر ۔ 22؍ اکٹوبر ( سیاست ڈسرکٹ نیوز) سابق میں ایک سینک اسکول جو کہ کریم نگر کو منظور کیا گیا تھا دوسرے ضلع کو منتقل کرنے پر مجھے سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ٹی آر ایس قائدین نے کہاتھا کہ کس طرح یہاں بے حیائی سے گھوم رہے ہے ۔ ٹی آر ایس حکومت کے قیام کے بعد مرکزی حکومت کی جانب سے تلنگانہ کے لئے دو سینک اسکول کی منظوری دی گئی ۔ اس میں سے ایک ورنگل کو دے دیا گیا اور دوسرا جو کہ کریم نگر میں قائم ہونے والا تھا اسے محبوب نگر منتقل کر دیا جا رہا ہے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ کے سی آر کو کریم نگر سے کس قدر محبت ہے ۔ یہاں پر ٹی آر ایس کے وزراء ترقی کے راستہ پر ہمکنار کرنے کے لئے کیا کر رہے ہیں۔ کریم نگر میں عوام نے ٹی آر ایس کو صد فیصد ووٹوں سے کامیابی دلائی تاکہ حکومت تلنگانہ کریم نگر کو ہر حیثیت سے ترقی سے ہمکنار کرے لیکن حکومت کریم نگر کوملنے والی سہولتوں کو دوسرے اضلاع منتقل کر رہی ہے ۔ اب عوام خود اس بات کا فیصلہ کریں کہ ان قائدین کو آنے والے انتخابات میں کامیاب کرنا ہے یا نہ کرنا ہے ۔ ٹی آر ایس حکومت کی اس طرح کی کارکردگی پر ان کی ستائش کی جائے یا نہیں تنقید کا نشانہ بنایا جائے ۔ عوام اب خود ہی فیصلہ کریں ۔ قدیم ضلع کو سات حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے ۔ اس کی تاریخی اہمیت کو پوری طرح ختم کر دیاگیا ہے ۔ ٹی پی سی سی نائب صدر سابق ایم پی پونم پربھاکر نے سخت برہمی کے ساتھ تنقید کی کہ کے سی آر پر مزید اور کتنا بھروسہ کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کیا کریم نگر اپنی خستہ حالی کو چھوڑ کر اسمارٹ سٹی میں تبدیل ہوگیا ۔ٹی آر ایس کے ایم پی ‘ ایم ایل اے ‘ بڑے بڑے اعلانات کر رہے ہیں ۔ ایک دن کریم نگر شہر کا پیدل دورہ کریں تو معلوم ہوگا کہ عوام تمہارا کس طرح استقبال کریں گے ۔ برسراقتدار پارٹی قائدین کے جھوٹے اور بڑے بڑے اعلانات عوام کے کانوں میں پھول رکھ رہے ہیں ۔ حکومت تین سال کے طویل عرصہ میں معمولی سا کام شاتاواہنا یونیورسٹی کے لئے ایک مستقل وائس چانسلر بھی نہیں مقرر کیا ۔ کریم نگر یونیورسٹی کو حکومت نے انجنیئرنگ کالج کی منظوری دی لیکن میڈیکل کالج کا قیام ابھی تک عمل میں نہیں آیا ۔

TOPPOPULARRECENT