Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / کسانوں کی موجودہ بدحالی اور پریشانی کیلئے کانگریس ذمہ دار

کسانوں کی موجودہ بدحالی اور پریشانی کیلئے کانگریس ذمہ دار

ٹی آر ایس حکومت سے کسانوں کو راحت پہونچانے کے اقدامات : کے پربھاکر
حیدرآباد ۔ 20۔ اکتوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے الزام عائد کیا کہ کسانوں کی موجودہ بدحالی اور پریشانیوں کیلئے کانگریس پارٹی ذمہ دار ہے ۔ کانگریس دور حکومت میں زرعی شعبہ کو یکسر نظر انداز کردیا گیا تھا جس کا خمیازہ آج کسان بھگت رہے ہیں۔ پارٹی کے رکن قانون ساز کونسل کے پربھاکر نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس قائدین جانا ریڈی ، جئے پال ریڈی اور کے وینکٹ ریڈی گزشتہ چند دنوں سے کسانوں کے حق میں مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہیں اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ٹی آر ایس حکومت کسان دشمن ہے۔ پربھاکر نے کانگریس قائدین کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جن قائدین نے کسانوں کا یہ حشر کیا ، آج وہی ان کی ہمدردی میں کھڑے ہیں تاکہ سیاسی فائدہ حاصل کیا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت پارٹی اقتدار میں تھی ، ان قائدین نے کسانوں کی بھلائی کے بارے میں نہیں سوچا۔ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے گزشتہ 70 برسوں سے مسائل کا شکار کسانوں کو راحت پہنچانے کا بیڑہ اٹھایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ کو فائدہ بخش شعبہ میں تبدیل کرنے کا سہرا کے سی آر کے سر جاتا ہے۔ کانگریس نے ریاست میں 42 برسوں تک راج کیا لیکن کسان ان کے دور میں خوشحال نہیں ہوسکے۔ مسائل کا شکار کسانوں نے خودکشی کی لیکن آج ٹی آر ایس حکومت میں زرعی شعبہ اور کسان خوشحال زندگی بسر کر رہے ہیں۔ مجوزہ اسمبلی اجلاس کے پہلے دن کانگریس کی جانب سے چلو اسمبلی پروگرام کے اعلان پر تنقید کرتے ہوئے پربھاکر نے کہا کہ کسانوں کو دھوکہ دینے والے کانگریس قائدین کو کسانوں سے ہمدردی کا کوئی حق نہیں ہے ۔ ان قائدین کو پہلے کسانوں سے معذرت خواہی کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر آبپاشی ہریش راؤ نے کسانوں کو امدادی رقم کی فراہمی کے سلسلہ میں مرکزی وزیر زراعت رادھا موہن سنگھ سے شخصی طور پر نمائندگی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر نے آئندہ سال سے کسانوں کو دو فصلوں پر فی ایکر 8000 روپئے امداد کی فراہمی کا اعلان کیا ہے۔ پربھاکر نے کہا کہ کانگریس ، تلگو دیشم دور حکومت میں کسانوں کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر روکنے کیلئے ہائیکورٹ میں 196 مقدمات دائر کئے گئے ہیں۔ اگر کانگریس کو کسانوں سے ہمدردی ہے تو اسے مقدمات سے دستبرداری اختیار کرنی چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT