Thursday , November 23 2017
Home / اضلاع کی خبریں / کسانوں کے خودکشی واقعات میں اضافہ پر تشویش

کسانوں کے خودکشی واقعات میں اضافہ پر تشویش

ظہیرآباد میں تلگودیشم لیڈر وائی نروتم کی پریس کانفرنس
ظہیرآباد 9 اکٹوبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) انچارج تلگودیشم پارٹی حلقہ اسمبلی ظہیرآباد مسٹر وائی نروتم نے کل شام یہاں پارٹی آفس میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کسانوں کے قرضہ جات کو ی کمشت ادا کرنے، تشکیل تلنگانہ کے بعد خودکشی کرنے والے تمام کسانوں کے ورثاء کو 6 لاکھ روپئے ایکس گریشیاء دینے کے علاوہ 17.5 کروڑ روپئے کے بقایا جات کی عاجلانہ ادائیگی کے لئے مقامی شوگر فیکٹری کے انتظامیہ پر زور دینے کا ریاستی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا۔ انھوں نے کہاکہ ریاستی حکومت کی جانب سے قرضہ جات یکمشت ادا نہ کئے جانے کے نتیجے میں کسان بینکوں سے دوبارہ قرضہ جات کے حصول سے محروم ہوگئے ہیں۔ اس پر طرفہ تماشہ یہ کہ امساک باراں نے کسانوں کی بچی کچی قوت برداشت کو بھی ختم کرکے رکھ دیا ہے۔ ان حالات میں اگر ریاستی حکومت کسانوں کو قرضہ جات کے بوجھ سے نجات دلانے کے لئے ٹھوس اقدامات کرے تو کسانوں کی پریشانی میں کمی واقع ہوگی۔ انھوں نے کہاکہ مقامی شوگر فیکٹری کے انتظامیہ کی جانب سے 17.5 کروڑ روپئے کے بقایا جات کی عدم ادائیگی سے نیشکر کاشتکار مالی بحران کا شکار ہوگئے اور وہ اس ضمن میں ریاستی حکومت کی مداخلت کے خواہاں ہیں۔ اُنھوں نے ایکس گریشیاء سے استفادہ کے لئے خودکشی کرنے والے کسانوں کے ورثاء کی فہرست میں ان کسانوں کے ورثاء کو بھی شامل کرنے کی جانب حکومت کو توجہ دلائی جنھوں نے تشکیل تلنگانہ کے بعد معاشی بحران کے سبب خودکشی کا ارتکاب کیا تھا۔ انھوں نے ریاست تلنگانہ میں کسانوں کے خودکشی کے واقعات میں اضافہ پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اس کے لئے زراعت سے متعلق ریاستی حکومت کی مجہول پالیسی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہاکہ تاحال کسانوں کی خودکشی کے 1529 واقعات نے نئی ریاست تلنگانہ کے دامن کو داغدار کردیا ہے۔ اس موقع پر تلگودیشم کے دیگر سرکردہ قائدین مسرز ملیا سوامی، نرسمہلو گوڑ، سدنا پاٹل، سبھاش ریڈی، سید مسعود حسین، محمد شریف، حیدر پٹیل، سکیندر ریڈی، شری کانت، کرشنا اور دیگر موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT