Saturday , October 20 2018
Home / شہر کی خبریں / کسانوں کے قرض کی عدم معافی کی کوئی ایک مثال پیش کرنے کا چیلنج

کسانوں کے قرض کی عدم معافی کی کوئی ایک مثال پیش کرنے کا چیلنج

حکومت سے وعدہ کی تکمیل ، اسمبلی میں مباحث کے دوران چیف منسٹر کی اپوزیشن پر تنقید
حیدرآباد ۔ یکم ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے کانگریس پر طنز و طعنوں کے تیر برساتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے دور حکومت میں بجلی ( برقی ) کا آنا خبر ہوا کرتی تھی ۔ جب کہ ٹی آر ایس حکومت میں حالات اس قدر بہتر ہوگئے ہیں کہ اتفاق سے کبھی بجلی چلی جاتی ہے تو خبر بن جاتی ہے ۔ چیف منسٹر نے اپوزیشن کو کسانوں کے قرض معاف نہ ہونے والے کسی ایک گاؤں کی نشاندہی کرنے کا چیلنج کیا ۔ قائد اپوزیشن کے جانا ریڈی نے چیف منسٹر کے اپوزیشن پر تنقیدی ریمارکس اور اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کے رویہ پر اعتراض کیا ۔ آج اسمبلی میں کسانوں کے مسائل پر مختصر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ قرض معاف کرنے کے معاملے میں ٹی آر ایس حکومت نے اپنے وعدے کو پورا کیا ہے ۔ ریاست کا کوئی ایسا گاؤں نہیں ہے ۔ جہاں کسانوں کے قرض معاف نہیں ہوئے ۔ انہوں نے اپوزیشن کو کسانوں کے قرض معاف نہ ہونے کی فہرست پیش کرنے کا چیلنج کیا ۔ کے سی آر نے کہا کہ کانگریس کے دور حکومت میں سابق چیف منسٹر ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے کسانوں کا قرض معاف کیا تھا جس کو ٹی آر ایس حکومت نے جاری رکھا ہے ۔ کے سی آر نے اپوزیشن بالخصوص کانگریس کو مشورہ دیا کہ وہ اسمبلی میں غیر ذمہ دارانہ مظاہرہ نہ کریں ۔ اگر آپ کے پاس اطلاعات ہیں کسی کسان کے قرض معاف نہیں ہوئے تو حکومت کو فہرست پیش کریں ۔ غیر ضروری بغیر کسی ثبوت کے حکومت پر الزامات عائد کرنا درست نہیں ہے ۔ حکومت ہر مسئلہ کو حل کرنے کے لیے تیار ہے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ جن کسانوں کے قرض معاف ہوئے انہیں دوبارہ قرض دیا گیا ہے ساتھ ہی سود کی رعایت بھی دی گئی ہے ۔ قرض معاف کرنے کا عمل مکمل ہوگیا ہے ۔ کے سی آر نے کہا کہ چند مقامات پر نقلی کھاتے کھلواتے ہوئے قرض معافی اسکیم سے فائدہ اٹھانے کا بھی دعویٰ کیا ہے ۔ چیف منسٹر نے اپوزیشن کو مہلت دیتے ہوئے کہا کہ اگر قرض معافی اسکیم سے جن کسانوں کو فائدہ نہیں ہوا ہے ۔ اپوزیشن اندرون 10 یوم اس کی رپورٹ حکومت کو پیش کریں ۔ اسی اسمبلی سیشن میں ان تمام کسانوں کے قرض بھی معاف کردئیے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ قرض معافی کے معاملے میں ریاست تلنگانہ کا پڑوسی ریاست سے تقابل کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔ نقلی بیج کا مسئلہ ریاست میں سنگین ہوگیا ہے ۔ پیسے نہ رکھنے والے کسان کم قیمت پر نقلی بیج خرید رہے ہیں ۔ نقلی بیج فروخت کرنے والوں کے خلاف حکومت سخت کارروائی کررہی ہے ۔ ان کے خلاف پی ڈی ایکٹ نافذ کیا جارہا ہے ۔ حکومت نے آئندہ سال سے کسانوں کو 2 وقت کی کاشت کے لیے 8 ہزار روپئے کی سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اراضی ریکارڈ کو درست کرنے کے لیے جنگی خطوط پر سروے کیا جارہا ہے ۔ جو دسمبر کے اواخر تک مکمل ہوجائے گا ۔ ٹی ار ایس حکومت کسانوں کی خوشحالی اور فلاح و بہبود کے لیے سنجیدہ کوشش کررہی ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ 8 ہزار کروڑ روپئے کے کسانوں سے دھان خریدے گئے ۔ برقی سبسیڈی پر سالانہ 5 ہزار کرور روپئے خرچ کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کانگریس کی جانب سے مفت برقی سربراہی اسکیم کا آغاز کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ تب برقی کا آنا خبر تھی ۔ ٹی آر ایس کے دور حکومت میں برقی کا جانا خبر ہے ۔ 10 ہزار میگاواٹ برقی سربراہ کی جارہی ہے ۔ اسمبلی میں کانگریس بی جے پی اور تلگو دیشم کے ارکان پر چیف منسٹر ، وزراء اور حکمران جماعت کے ارکان نے تنقید کی جس کا اپوزیشن نے جواب دیا ۔ اسمبلی اجلاس کل تک ملتوی ہونے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے قائد اپوزیشن کے جانا ریڈی اور صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی نے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے رویے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایسے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کو کبھی نہیں دیکھا جو ایوان میں اپوزیشن کو بات کرنے کا موقع فراہم نہیں کرتے اگر بات کرنے کا موقع دیا جاتا ہے تو منٹ دو منٹ میں مائیک کٹ کیا جاتا ہے ۔ اپوزیشن سے زیادہ حکمران ٹی آر ایس ہی زیادہ بات کررہی ہے ۔ صرف وہم اور واستو کے لیے چیف منسٹر نئی عمارتوں کی تعمیرات پر 500 کروڑ روپئے ضائع کررہے ہیں ۔ کسانوں کے مسائل کو پیش کرنے کا موقع نہیں دیا جارہا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT