Wednesday , September 26 2018
Home / ہندوستان / کسی بھی ذات کا آدمی مندر کا پجاری بن سکتا ہے: اترا کھنڈ ہائی کورٹ

کسی بھی ذات کا آدمی مندر کا پجاری بن سکتا ہے: اترا کھنڈ ہائی کورٹ

نئی دہلی ۔ 13 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) اترا کھنڈ ہائی کورٹ نے کہا کہ شرائط پوری کرنے والا کسی بھی ذات کا آدمی مندر کا پجاری بن سکتا ہے اور مندر میں اعلیٰ ذات کا کوئی پجاری ایس سی یا ایس ٹی برادری کے کسی آدمی کی طرف سے پوجا کرنے سے انکار نہیں کر سکتا۔ کورٹ ایس سی اور ایس ٹی کے لوگوں کے مندروں میں جانے اور مذہبی رسومات کے حقوق سے متعلق ایک درخواست کی سماعت کر رہی ہے۔ 2016 میں راجستھان کے رہنے والے ایس سی اور ایس ٹی کے لوگوں نے کورٹ میں پی آئی ایل دائر کر کے مانگ کی کہ ہری دوار میں روی داس مندر کے بغل میں لگی سیڑھی کو نہ ہٹایا جائے۔دراصل ہری دوار انتظامیہ سیڑھی کو ہٹا کر کہیں اور شفٹ کرنا چاہتا تھا لیکن عرضی میں کہا گیا ہے کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو مندر کو بہت نقصان پہنچے گا۔ جسٹس راجیو شرما کی بنچ نے اسی عرضی پر فیصلہ دیا ہے۔عدالت کا یہ آرڈر مندروں میں اعلیٰ ذات کے لوگوں کا دبدبہ ختم کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم مانا جا رہا ہے۔ عدالت نے معاملے کی اگلی شنوائی کے لیے 18 جولائی کی تاریخ طے کی ہے۔ کورٹ نے اس دن گڑھوال کمشنر کو ذاتی طور پر سماعت کے دوران عدالت میں موجود رہنے کی بھی ہداہت دی ہے۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہری دوار میں اعلیٰ ذات والے پجاری پسماندہ طبقہ کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے ہیں اور ان کی طرف سے مذہبی رسومات جیسے آرتی کرنے،پرساد چڑھانے وغیرہ سیمنع کرتے ہیں۔ اس پر عدالت نے اعلیٰ ذات والے پجاریوں سے سبھی مندروں میں پسماندہ طبقہ کے لوگوں کی طرف سے پوجا اور مذہبی رسومات کرانے سے منع نہیں کرنے کی ہدایت دی ۔ہائی کورٹ نے اپنے آرڈر میں کہا کہ پوری ریاست میں کسی بھی طبقہ کے لوگوں کو بغیر کسی امتیازی سلوک کے مندر میں جانے کی اجازت ہے اور کسی بھی ذات اہل آدمی مندر میں پجاری ہوسکتا ہے۔ عدالت نے یہ حکم 5 جون کو ہی دیا تھا لیکن کل اس حکم کو جاری کیا گیا۔بتادیں کہ مندروں میں دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور برے سلوک کے کئی معاملے سامنے آتے رہتے ہیں۔کچھ دن پہلے ہی صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کووند کے ساتھ اڑیسہ کے جگن ناتھ مندر میں وہاں کے پنڈوں نے برا سلوک کیا تھا۔الزام ہے کہ ان کے دلت ہونے کی وجہ سے ان کو اور ان کی اہلیہ کو مندر کے گربھ گرہ تک جانے سے روک دیا تھا۔یہ معاملہ 18مارچ کا ہے اور تین مہینے بعد گزشتہ مہینے جون میں اس بات کا انکشاف ہوا تھا۔

TOPPOPULARRECENT