Saturday , January 20 2018
Home / شہر کی خبریں / کسی ریاست کی حکمرانی ،ایجی ٹیشن کی قیادتجیسی آسان نہیں

کسی ریاست کی حکمرانی ،ایجی ٹیشن کی قیادتجیسی آسان نہیں

ٹی آر ایس سے مفاہمت کے بغیر بھی تلنگانہ میں کانگریس مستحکم :جئے رام رمیش

ٹی آر ایس سے مفاہمت کے بغیر بھی تلنگانہ میں کانگریس مستحکم :جئے رام رمیش

سنگاریڈی 9 مارچ ( این ایس ایس ) مرکزی وزیر جئے رام رمیش جنہوں نے تلنگانہ پر مرکزی وزراء کے گروپ کے ایک رکن کی حیثیت سے آندھرا پردیش کی تقسیم میں کلیدی روم ادا کیا تھا آج کہا کہ علحدہ ریاست تلنگانہ کے قیام کیلئے دستور کے مطابق ریاست کی تقسیم کی گئی اور اگر کوئی تقسیم کے عمل کے خلاف انصاف کے لئے دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو اس سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔ مسٹر جئے رام رمیش نے ضلع میدک کے ہیڈ کوارٹرس سنگاریڈی میں کانگریس کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپنے اس تاثر کا اظہار کیا کہ موثر و منظم انداز میں ایک ریاست پر حکمرانی کرنا کسی کاز کیلئے تحریک چلانا جیسا آسان نہیں ہوتا انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس پارٹی علاقہ تلنگانہ میں ٹی آر ایس سے اتحاد کے بغیر بھی بدستور مضبوط وہ مستحکم رہے گی ۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی ہمخیال جماعتوں کے ساتھ اتحاد کیلئے تیار ہے۔ مسٹر جئے رام رمیش نے اعادہ کیا کہ محض ووٹوں اور سیٹوں کیلئے ریاست کیت قسیم نہیں کی گئی بلکہ غریبوں اور پچھڑے ہوئے طبقات کو سماجی انصاف دلانے کیلئے یہ قدم اٹھایا گیا سابق مرکزی وزیر دگو باٹی پورندیشوری کی وفاداریوں کا حوالہ دیتے ہوئے جئے رام رمیش نے کہا کہ آٹھ سال تک بحیثیت مرکزی وزیر اقتدار کے مزے لوٹنے کے بعد کانگریس چھوڑ دینا ان (پورندیشوری) کی غلطی ہے ۔ مسٹر رمیش نے کانگریس چھوڑتے ہوئے نئی پارٹی قائم کرنے سابق چیف منسٹر کرن کمار ریڈی کے اعلان کو احسان فراموشی قرار دیتے ہوئے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ایک کانگریس نے انہیں چیف منسٹر کے جلیل القدر منصب پر فائز کیا تھا اور سیاسی عروج پر پہنچایا تھا لیکن انہوں نے اس پارٹی چھوڑتے ہوئے نئی جماعت بنانے کا اعلان کیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT