Tuesday , December 12 2017
Home / مذہبی صفحہ / کسی کو بُرا کہنے کا انجام

کسی کو بُرا کہنے کا انجام

محمد الیاس ندوی بھٹکلی محمد الیاس ندوی بھٹکلی
مغرب کی نماز مکمل کرکے جیسے ہی امام صاحب نے سلام پھیرا، پچھلی صف سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: ’’میرے بھائیو! میری بچی بہت بیمار ہے، اُس کو کینسر ہو گیا ہے، میں مجبور اور معذور ہوں، آپ لوگ میری مدد کیجئے‘‘۔ وہ شخص ابھی اپنی بات مکمل بھی نہیں کرپایا تھا کہ صف میں موجود کئی مصلیوں نے بیک آواز اس کو خاموش کرکے بٹھا دیا اور اس سے کہا گیا کہ ’’مسجد میں نہیں مانگتے، باہر جاکر مانگو‘‘۔ سنتوں سے فراغت کے بعد جب میں مسجد سے باہر نکل رہا تھا تو دیکھا کہ وہ مجبور و مسکین شخص مسجد کی سیڑھیوں پر اپنی چادر پھیلاکر بیٹھا ہوا ہے اور اس میں کچھ مصلیوں کی طرف سے دی گئی رقم بھی پڑی ہوئی ہے۔ میرے پیچھے وہ صاحب بھی آگئے، جو شہر کے ایک سرمایہ دار بھی تھے اور جنھوں نے اس سائل کو امداد کے لئے اعلان سے ترش لہجہ میں منع کیا تھا۔ جب اس مسکین کو مسجد کی سیڑھی پر بیٹھا دیکھا تو ان صاحب کا پارہ چڑھ گیا۔ اس سائل کو مخاطب کرکے کہنے لگے: ’’تم مسجد کے کمپاؤنڈ سے باہر جاکر مانگو، بیماری کا بہانہ کرکے بھیک مانگتے ہو، جھوٹ بولتے ہو، ہٹے کٹے ہو کماتے کیوں نہیں ہو‘‘۔ غرض کہ انھوں نے اس سائل کو بُرا بھلا کہتے ہوئے مسجد کے احاطہ سے نکال کر سڑک پر پہنچا دیا۔وہ صاحب بڑے نیک انسان تھے، شہر کے دیندار رؤسا میں ان کا شمار ہوتا تھا، لیکن ان کو اس بات کا خیال نہیں رہا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فقیروں اور مسکینوں کو قطع اس کے کہ وہ مستحق ہیں یا نہیں جھڑکنے، ڈانٹنے اور بُرا بھلا کہنے سے منع فرمایا ہے۔ کسی کی دل آزاری اور توہین اللہ پاک کو سخت ناپسند ہے اور اس کا بدلہ دنیا ہی میں مل جاتا ہے۔ چند ہی دن گزرے تھے کہ وہ صاحب اتفاق سے اسی مسجد اور اسی نماز کے بعد اسی جگہ مجھے ملے اور کہنے لگے: ’’مولانا! میری چھوٹی بیٹی کے لئے خاص دعا فرمائیں، اس کو بلڈ کینسر ہو گیا ہے‘‘۔ میں نے دل ہی دل میں کہا: ’’ایک زمانہ تھا کہ کسی کو بُرا بھلا کہنے پر یا کسی کا دل دُکھانے یا عار دِلانے پر برسوں کے بعد اس کے برے انجام و نتیجہ کا سامنا کرنا پڑتا تھا، مگر اب تو زمانہ ترقی یافتہ اور معاملہ نقدی ہوگیا ہے۔ اِس ہاتھ دے اُس ہاتھ لے کی طرح برسوں کی بجائے اب لمحوں اور دِنوں میں ہی اس کے نتائج سامنے آجاتے ہیں‘‘۔
اسی طرح ماضی قریب میں ایک صاحب کی کنواری بچی ایک غیر رشتہ دار مرد کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی۔ شہر میں اس واقعہ کا چرچا ہونے لگا۔ ایک جگہ اس واقعہ کا ذکر ہو رہا تھا، اس مجلس میں ایک صاحب جو شریف خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور اس گفتگو میں شریک تھے، کہنے لگے کہ ’’اس بچی کے باپ کو شرم سے ڈوب کر مرجانا چاہئے۔ ان کی بچی نے صرف اپنے خاندان کا نہیں، بلکہ پوری قوم کا نام بدنام کیا ہے۔ بے جا لاڈ پیار نے ان کو یہ دن دِکھائے ہیں‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ ابھی اس واقعہ کو چند ماہ بھی نہیں گزرے تھے کہ ان صاحب کے ایک بچہ کے متعلق جو گاؤں سے باہر ایک بڑے شہر میں زیر تعلیم تھا، ایک غیر مسلم لڑکی کے ساتھ فرار ہونے کی اطلاع ملی۔ اطلاع ملتے ہی وہ صاحب اتنے شرمسار ہوئے کہ چند ماہ کے لئے شہر سے باہر جاکر مقیم ہو گئے۔کسی کو عار دِلانے یا کسی کی دل آزاری کرنے، کسی گناہ پر کسی کو طعنہ دینے، اس کا چرچا کرنے اور لوگوں میں اس کی تشہیر کرنے کے گناہ میں ہم اگر مبتلا ہوں گے تو ہماری یہ عادت اللہ تعالیٰ کو اتنی ناپسند ہوگی کہ جیتے جی خود ہماری اولاد ہی سے ہمیں بُرا انجام دکھا دے گا اور ہم خون کے آنسو رونے پر مجبور ہوں گے۔ غلطی اور گناہ انسان ہی سے صادر ہوتے ہیں۔ بڑے سے بڑا گناہ بھی کسی سے سرزد ہو تو دوسروں کے سامنے اس کا ذکر و چرچا کرنے اور اس کی تشہیر سے بچیں۔ بلکہ ایسے شخص سے براہ راست مل کر یا قریب بلاکر محبت سے سمجھانے کی کوشش کریں۔ کیا بعید کہ اللہ تعالیٰ آپ کی ان مخلصانہ باتوں کو اس شخص کے دل میں اُتاردے اور وہ گناہوں سے تائب ہو جائے، یا پھر اس کے لئے اور اس کے والدین کے لئے عذر تلاش کریں اور یہ سوچیں کہ کیا اس کی جگہ میری اولاد ہوتی یا میرے بھائیوں یا میرے کسی رشتہ دار کے بچے ہوتے تو کیا میرا اس وقت بھی یہ ردعمل ہوتا؟ یا پھر میں تاویل کرکے ان کو بچانے یا ان کے گناہوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا؟۔دوسروں کی ستر پوشی اور عیوب پردہ ڈالنے کی عادت ستار العیوب رب العالمین کو اتنی زیادہ پسند ہے کہ اس نے قیامت کے دن اپنے ایسے بندوں کی ستاری اور عیب پوشی کا وعدہ فرمایا ہے۔ ہم اپنی اولاد کو نیک بنانے کی حتی المقدور کوشش کریں اور ان کی اخلاقی و دینی تربیت میں کوئی کوتاہی نہ کریں۔ دینی تعلیم سے ان کو آراستہ کریں اور پھر اللہ تعالیٰ سے روزانہ اپنے بچوں کے لئے دعا بھی کرتے رہیں۔ قرآن مجید میں ہمیں مؤثر ترین دعا سکھائی گئی ہے، اس دعا کو روزانہ اپنا معمول بنالیں کہ ’’اے اللہ! میرے لئے ایسی بیوی اور بچے عنایت فرما کہ جو میرے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک ہوں اور مجھے متقیوں کا امام بنا‘‘۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو بُری عادات سے بچائے اور نیک عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

TOPPOPULARRECENT