کشمیر:جنگجوؤں اور عام شہریوں کی ہلاکتوں کیخلاف مکمل ہڑتال

سری نگر 26نومبر (سیاست ڈاٹ کام ) وادی کشمیر میں پیر کے روز جنگجوؤں اور عام شہریوں کی حالیہ ہلاکتوں کے خلاف مکمل ہڑتال کی وجہ سے معمول کی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔ سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک پر مشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت نے ہڑتال کی کال دی تھی۔انتظامیہ نے ہڑتال کے دوران احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش سری نگر کے پائین شہر کے نوہٹہ میں بندشیں عائد کر رکھیں۔ نوہٹہ میں واقع تاریخی جامع مسجد کو خاردار تاروں سے سیل کیا گیا جبکہ اس کے دروازوں کو مقفل رکھا گیا۔ پائین شہر میں کسی بھی طرح کے احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات رہی جبکہ حساس مقامات پر فورسز کی بلٹ پروف گاڑیاں کھڑی کی گئی تھیں۔اس دوران ریلوے انتظامیہ نے پیر کو پوری وادی میں ریل خدمات معطل رکھیں جبکہ یونیورسٹیوں کی جانب سے لئے جانے والے امتحانات ملتوی کئے گئے ۔بتادیں کہ وادی میں گذشتہ چار روز کے دوران جنگجو مخالف آپریشن اور فائرنگ کے دوسرے واقعات کے دوران کم از کم 13 جنگجو اور 3 عام شہری جاں بحق جبکہ درجنوں دیگر زخمی ہوگئے ۔مہلوک شہریوں میں ایک 14 سالہ بچی اور 17 سالہ نوجوان بھی شامل ہیں۔ زخمیوں میں ایک ڈیڑھ سالہ بچی حبا نثار بھی شامل ہے جو اپنی ایک آنکھ میں پیلٹ لگنے سے زخمی ہوئی ہے ۔کشمیری مشترکہ مزاحمتی قیادت نے گزشتہ چار دنوں کے دوران بقول ان کے کشمیر میں افواج کے ہاتھوں جنگجوؤںسمیت 18افراد کو جاں بحق، جبکہ درجنوں افراد جن میں خواتین، بچے ، نوجوان شامل کو گولیوں اور پیلٹ گنوں کے بے تحاشا استعمال کے ذریعے زخمی کرنے کی کارروائیوں کے خلاف آج (پیر کے روز) ریاست گیر ہڑتال کی کال دے رکھی تھی۔ انہوں نے شوپیان میں بقول ان کے قتل عام، غارت گری اور ظلم وجبر کو صریح سرکاری دہشت گردی کا کھلا مظاہرہ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ فورسز نوآبادیاتی ذہن فاشسٹ حکمرانوں کی ایما پر نیز مواخذے سے مکمل استثنیٰ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کشمیریوں کا بے دریغ قتل عام جاری رکھے ہوئے ہیں جس کی تازہ مثال حالیہ تین ایام کے دوران شوپیان، بجبہاڑہ، پانپورہ وغیرہ کے خونین واقعات ہیں۔یو این آئی کے ایک نامہ نگار جس نے پیر کی صبح سری نگر کے مختلف حصوں کا دورہ کیا، نے نوہٹہ میں واقع تاریخی جامع مسجد کو چاروں اطراف سے سیل کیا ہوا پایا۔ نامہ نگار نے بتایا کہ اگرچہ نوہٹہ کو چھوڑ کر پائین شہر کے دوسری حصوں میں کوئی پابندیاں نافذ نہیں کی گئی تھیں، تاہم سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری کو سڑکوں پر تعینات کیا گیا تھا۔سری نگر بھر میں پیر کو دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ اور اسٹیٹ روڑ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی گاڑیاں سڑکوں سے غائب رہیں۔ سرکاری دفاتراور بینکوں میں معمول کا کام کاج متاثر رہا۔ تقریباً تمام تعلیمی ادارے اور ٹیوشن مراکز بند رہے ۔جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی کشمیر کے قصبوں اور تحصیل ہیڈکوارٹروں میں مکمل ہڑتال کی وجہ سے کاروباری اور دیگر سرگرمیاں مفلوج رہیں۔ اطلاعات کے مطابق جنوبی کشمیر کے بیشتر حصے ایسے ہیں جہاں 22 نومبر سے ہڑتال بدستور جاری ہے ۔

TOPPOPULARRECENT