Tuesday , December 12 2017
Home / ہندوستان / کشمیر:معمر شخص کو ’چوٹی کاٹنے والا‘ سمجھ کر ہلاک کیا گیا، موبائل و انٹرنیٹ سرویس معطل

کشمیر:معمر شخص کو ’چوٹی کاٹنے والا‘ سمجھ کر ہلاک کیا گیا، موبائل و انٹرنیٹ سرویس معطل

سری نگر ، 6 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) وادی کشمیر میں خواتین کی چوٹیاں کاٹنے کے نہ تھمنے والے سلسلے نے اب تشویشناک اور خطرناک رخ اختیار کرلیا ہے ۔ جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں لوگوں نے ایک 70 سالہ معمر شخص کو ’چوٹی کاٹنے والا‘ سمجھ کر ہلاک کردیا ہے ۔ وادی میں چوٹی کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ان واقعات کے خلاف عوام میں بڑھتی ہوئی ناراضگی کے پیش نظر انتظامیہ نے جمعہ کو ساری وادی میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات منقطع کرادیں۔ اس کے علاوہ ریلوے حکام نے سیول و پولیس انتظامیہ کی ایڈوائزری پر وادی میں جمعہ کو دن کے ایک بجے ریل خدمات معطل کردیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق وادی میں جمعہ کو خواتین کی چوٹیاں کاٹنے کے تین نئے واقعات سامنے آئے ہیں جن کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے ۔ اس دوران چوٹی کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے دوران نامعلوم افراد نے وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں ایک امام مسجد کی داڑھی کاٹ دی ہے ۔ یہ واقعہ جمعہ کی علی الصبح فجر نماز سے قبل پیش آیا ہے ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ جنوبی ضلع اننت ناگ میں لوگوں نے ایک 70 سالہ معمر شخص کو غلطی سے ’چوٹی کاٹنے والا‘ سمجھ کر ہلاک کردیا ہے ۔ یہ واقعہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات کو پیش آیا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ اننت ناگ کے ڈانٹر نامی گاؤں میں لوگوں نے 70 سالہ بزرگ شخص پر یہ سمجھ کر اینٹ سے حملہ کیاکہ وہ چوٹی کاٹنے والا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ وانی کو پہلے ضلع اسپتال اننت ناگ اور بعدازاں تشویشناک حالت میں شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکا۔ وادی میں حالیہ دنوں میں کسی فرد کو غلطی سے ’چوٹی کاٹنے والا‘ سمجھ کر تشدد کا نشانہ بنانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے ۔ اطلاعات کے مطابق وادی میں گذشتہ دو ہفتوں کے دوران لوگوں نے متعدد افراد کی یہ سمجھ کر شدید پٹائی کی کہ وہ چوٹی کاٹنے والے ہیں۔ خواتین کی چوٹیاں کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر وادی بھر میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات احتیاطی اقدامات کے طور پر منقطع کردی گئی ہیں۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ خدمات کی معطلی کا قدم کسی بھی طرح کی افواہ بازی کو روکنے کے لئے اٹھایا گیا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ وادی میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات جمعہ کو دوپہر قریب ساڑھے بارہ بجے منقطع کی گئیں۔ وادی میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر گذشتہ دو ہفتوں کے دوران درجنوں ویڈیوز نمودار ہوئے جن میں متاثرہ خواتین کی روداد اور عوامی ناراضگی کو دکھایا گیا۔ ریلوے انتظامیہ نے وادی میں ریل خدمات جمعہ کو دوپہر ایک بجے معطل کردیں۔ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سیول و پولیس انتظامیہ کی ایڈوائزری پر اٹھایا گیا ہے ۔ کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے وادی میں خواتین کے بال کاٹنے میں آئے روز تشویشناک اور شرمناک اضافے کے خلاف جمعہ کے روز نماز کے بعد ریاست گیر احتجاجی مظاہرہ کرنے کی اپیل کی تھی۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق وادی میں جمعہ کو چوٹی کاٹنے کے 3 نئے واقعات سامنے آئے ہیں۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ گرمائی دارالحکومت سرینگر کے بالائی شہر کے نٹی پورہ جمعہ کی صبح چوٹی کاٹنے کا واقعہ پیش آیا۔

 

TOPPOPULARRECENT