Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / کشمیری عوام ہندوستانی شہری ۔ ریاست کو خود اختیاری حاصل نہیں

کشمیری عوام ہندوستانی شہری ۔ ریاست کو خود اختیاری حاصل نہیں

سپریم کورٹ میں جائیدادوں کی قرقی کے تنازعہ پر ہائیکورٹ فیصلہ کالعدم

نئی دہلی 17 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج یہ تاثر پیش کیا ہے کہ جموں و کشمیر کی خود اختیاری، دستور ہند کے دائرہ کار سے باہر نہیں ہے جبکہ ریاستی عوام سب سے پہلے ہندوستانی شہری ہیں بعد میں کشمیری ہیں۔ عدالت العالیہ نے جموں و کشمیر ہائیکورٹ کی جانب سے یہ نتیجہ اخذ کئے جانے کو بالکلیہ غیر درست قرار دیا کہ ریاست کو یہ مکمل خود اختیاری حاصل ہے کہ مستقل مکینوں کو ان کی منقولہ جائیدادوں پر حقوق کیلئے قانون سازی کرسکتی ہے۔ جسٹس کورین جوزف اور جسٹس آر ایف نریمن پر مشتمل بنچ نے کہاکہ ریاست جموں و کشمیر کو دستور ہند کے چوکھٹے سے باہر خود اختیاری حاصل نہیں ہے گوکہ اس کا اپنا ایک دستور ہے اور یہ دستور ہند کے تابع ہے۔ لہذا یہ جواز پیش کرنا کہ ریاستی عوام منفرد شناخت کے حامل ہیں۔ ہم ہائیکورٹ کو یہ یاد دہانی کرواتے ہیں کہ جموں و کشمیر کے مکین سب سے پہلے ہندوستانی شہری ہیں۔ سپریم کورٹ نے سیکوریٹریشن اینڈ دیکسنٹرکشن آف فینانشیل اسسٹٹس اینڈ انفورسمنٹ آف سکیوریٹی ایکٹ 2002 کے دفعات کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے کہاکہ پارلیمنٹ کے قانونی اختیار کے تحت جموں و کشمیر میں یہ نافذ کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ بنچ نے جموں و کشمیر ہائیکورٹ کے اس فیصلہ کو کالعدم کردیا کہ پارلیمنٹ کا کوئی بھی قانون ریاستی اسمبلی میں منظورہ قانون سے متصادم ہونے کی صورت میں جموں و کشمیر میں نافذ نہیں کیا جاسکتا۔ سپریم کورٹ نے کہاکہ ہائیکورٹ کا فیصلہ غلط دلائل پر قائم کیا گیا ہے جس کی وجہ سے غیر درست نتائج اخذ کئے گئے ہیں۔ اس فیصلہ میں کہا گیا کہ جموں و کشمیر کے دستور کی دفعہ 50 میں یہ توضیح کی گئی ہے کہ ریاست کو یہ مکمل خود اختیاری حاصل ہے کہ اپنے شہریوں کے غیر منقولہ جائیدادوں کے حقوق پر قانون سازی کرسکتی ہے۔ عدالت العالیہ نے مزید کہاکہ ہم یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ جموں و کشمیر کے مستقل مکین (ریزڈنٹس) سب سے پہلے ہندوستانی شہری ہیں اور انھیں دیگر ممالک کے وفاقی دستور کی طرح دوہری شہریت حاصل نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ ہائیکورٹ کے خلاف اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی شکایت پر دیا ہے جبکہ ہائیکورٹ نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ مذکورہ (SARFAEST) ایکٹ جموں و کشمیر کے قانون منتقلی جائیداد 1920 سے متصادم ہے۔ یہ خصوصی ایکٹ بینکوں کو یہ اختیار تفویض کرتا ہے کہ قرض داروں کی جائیدادوں کو قرق کرتے ہوئے فروخت کیا جاسکتا ہے جس میں عدالت سے رجوع ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

TOPPOPULARRECENT