Friday , September 21 2018
Home / Top Stories / کشمیری پنڈتوں کیلئے اسرائیل کی طرز پر علیحدہ نوآبادیات کی مخالفت

کشمیری پنڈتوں کیلئے اسرائیل کی طرز پر علیحدہ نوآبادیات کی مخالفت

جموں 10 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) وادی کشمیر میں پنڈتوں کیلئے علیحدہ جامع ٹاؤن شپس کی مخالفت کا اعادہ کرتے ہوئے چیف منسٹر جموں و کشمیر مفتی محمد سعید نے کہا کہ وہ بے گھر پنڈتوں کو واپس لانے کیلئے عہد کے پابند ہیں تاہم انہوں نے ان کی اسرائیل کی طرز پر علیحدہ نوآبادیات تعمیر کرنے کا امکان مسترد کردیا ۔ مفتی محمد سعیدنے قانون ساز کونسل میں

جموں 10 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) وادی کشمیر میں پنڈتوں کیلئے علیحدہ جامع ٹاؤن شپس کی مخالفت کا اعادہ کرتے ہوئے چیف منسٹر جموں و کشمیر مفتی محمد سعید نے کہا کہ وہ بے گھر پنڈتوں کو واپس لانے کیلئے عہد کے پابند ہیں تاہم انہوں نے ان کی اسرائیل کی طرز پر علیحدہ نوآبادیات تعمیر کرنے کا امکان مسترد کردیا ۔ مفتی محمد سعیدنے قانون ساز کونسل میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس طرح کے علیحدہ آبادیاں تعمیر نہیں کرینگے جیسی اسرائیل نے تعمیر کی ہیں ہم ان ( پنڈتوں ) کیلئے علیحدہ ٹاؤن شپس تعمیر نہیں کرینگے اور نہ ہی کشمیری پنڈت ایسے حال میں رہنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2003 میں ان کے سابقہ دور حکومت میں حکومت کی جانب سے شیخ پورہ اور اننت ناگ و کپوارہ کے چکھ دوسرے علاقوں میں کیمپس قائم کئے تھے ۔ کشمیری پنڈتوں نے کہا تھا کہ وہ اس طرح علیحدہ نہیں رہ سکتے ۔ ہم اس برادری کو واپس لائیں گے اور انہیں کشمیری ماحول میں شامل کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری پنڈت کم تعداد والی برادری ہے ۔

یہ ہمارا پروگرام ہے کہ کشمیر کی ہمہ جہتی تہذیب کا تحفظ کرینگے ۔ ہمارا عزم واضح ہے کٹہ انہیں دوبارہ وادی کشمیر کو واپس لایا جائے اور انہیں عزت و احترام دیا جائے ۔ مفتی محمد سعید نے کہا کہ 7,247 کشمیری پنڈت ابھی تک کشمیر میں رہتے ہیں۔ اننت ناگ میں 638 کشمیری پنڈت ہیں ‘ گندربل میں 151 میں مقیم ہیں ‘ پلواما میں 390 اور بڈگام میں 870 کشمیری پنڈت ہیں۔ یہ لوگ علیحدہ آبادیوں میں نہیں رہتے ۔ انہوں نے مثالیں پیش کیں کہ کس طرح سے کشمیری پنڈتوں کے خاندان جنہوں نے کشمیر سے نقل مقام نہیں کیا تھا وادی میں بکھرے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلگام میں ایک گاؤں کو گئے تھے ۔ وہاں دو پنڈت خاندان ایک مقام پر مقیم ہیں جبکہ کچھ دوسرے طویل فاصلے پر ہیں۔ یہ لوگ پھیلے ہوئے ہیں اور انہیں کا یک دوسرے سے کوئی رابطہ نہیں ہے ۔ ایسے میں یہ ہمارا مشن ہے کہ اگر ہم اپنے جامع کلچر کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں تو یہ ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ انہیں کشمیر کو واپس لایا جائے ۔ ہم کو اس کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنا ہوگا ۔

ایسا ماحول اس مسئلہ پر بحث مباحث سے پیدا نہیں ہوگا بلکہ اس کیلئے تعلقات کو مستحکم کرنا ہوگا۔ کشمیر میں برسر اقتدار اتحاد کی حلیف جماعتیں پی ڈی پی ۔ بی جے پی اس مسئلہ پر مختلف موقف رکھتی ہیں۔ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کل واضح کیا تھا کہ مرکزی حکومت کشمیری پنڈتوں کیلئے علیحدہ ٹاؤن شپس تعمیر کرنے کے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنائیگی ۔ چیف منسٹر مفتی سعید نے اس کے خلاف رائے ظاہر کی ہے ۔ اس مسئلہ پر ہوا کھڑا کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مفتی سعید نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ کچھ گوشے ایسا کیوں کر رہے ہیں۔ خود کشمیری پنڈت علیحدہ رہنا نہیں چاہتے ۔ انہوں نے ریاست کی صورتحال کے تعلق سے کہا کہ جب ہم کہتے ہیں کہ جموںو کشمیر کو غیر یقینی صورتحال کے ماحول سے باہر لانا ہے تو یہ ایک بڑا مشن ہے اور ہم جموں و کشمیر کو اس صورتحال سے باہر لائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ اس سلسلہ میں وزیر اعظم نریندر مودی نے پی ڈی پی ۔ بی جے پی اتحاد کی ستائش کی ہے ۔

کشمیری پنڈتوں کیلئے علیحدہ کالونیوں کی تعمیر کیلئے پیشرفت
علحدگی پسندوں کی دھمکیاں مسترد۔ مرکزی مملکتی وزیر داخلہ کا بیان
سرینگر۔/10اپریل، ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکز نے آج کہا ہے کہ کشمیری پنڈتوں کی واپسی کیلئے ترغیب دینے ان کیلئے کالونیوں کے قیام پر قطعی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم یہ بھی دعویٰ کیا کہ حکومت علحدگی پسندوں کے اثر و رسوخ کو قبول نہیں کرے گی جو کہ پاکستان کی ہدایت پر کام کرتے ہیں۔ مرکزی مملکتی وزیر داخلہ کرن رجیجو نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال پالیسی کی تفصیلات بتانے سے قاصر ہوں کیونکہ اسے ہنوز قطعیت نہیں دی گئی ہے اور کشمیری پنڈتوں کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ریاستی حکومت اور مرکزی وزارت داخلہ مل کر پالیسی کو قطیعت دینے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مجھے ریاست اور عوام کے مفاد میں دلچسپی ہے اور پالیسی ساز فیصلوں کو قطعیت دینے کے بعد ہی تفصیلات بتائی جائیں گی اور ابتدائی کام کی بنیاد پر بیان نہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری عمل میں جموں و کشمیر عوام کی پرجوش شمولیت کے بعد ایک کارکرد اورموثرحکومت منتخب کی گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT