Tuesday , December 18 2018

کشمیری پنڈتوں کیلئے علیحدہ نوآبادیات

آپ کا فرض ہے کہ سب کے دلوں کو جوڑیں آپ برعکس عمل کرتے ہیں کیوں ہے ایسا؟ کشمیری پنڈتوں کیلئے علیحدہ نوآبادیات

آپ کا فرض ہے کہ سب کے دلوں کو جوڑیں
آپ برعکس عمل کرتے ہیں کیوں ہے ایسا؟
کشمیری پنڈتوں کیلئے علیحدہ نوآبادیات
ریاست جموں و کشمیر میں بی جے پی ۔ پی ڈی پی اتحادکے مابین روز اول سے ہی اختلافات کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا ۔ کئی مسائل پر پر دونوں جماعتیں ایک دوسرے سے مختلف موقف رکھتی ہیں اس کے باوجود حکومت میں برابر کی حصہ داری نبھا رہی ہیں۔ اب ان جماعتوں کے مابین کشمیری پنڈتوں کیلئے علیحدہ تعمیرات کے مسئلہ پر اختلافات دکھائی دے رہے ہیں۔ ان جماعتوں کے نظریاتی اختلافات اپنی جگہ لیکن عسکریت پسندی کے عروج میں وادی سے نقل مقام کرکے کئی علاقوں میں پھیل جانے اور پناہ گزینوں کی زندگی گذارنے والے کشمیری پنڈتوں کو وادی کشمیر میں دوبارہ واپس لانا ایک اہم کام ہے اور اس کو اب سیاسی رنگ دے کر ووٹ بینک کی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے ۔ حیرت کی بات ہے کہ ہندوستان کے جامع اور ہمہ جہتی کلچر کو فروغ دینے کے بلند بانگ دعوے کرنے والی مرکزی حکومت ان کشمیری پنڈتوں کیلئے سماج کے اندر ہی علیحدہ نوآبادیات یا کالونیاں تعمیر کرنے کی تجویز رکھتی ہے ۔ یہ ہندوستان کی ہمہ جہتی تہذیب کی روایات کے یکسر مغائر ہے ۔ ہندوستان ایک ہمہ جہتی روایات رکھنے والا اور کثرت میں وحدت والا مذہب ہے ۔ یہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے ‘ مختلف زبانیں بولنے اور مختلف رسوم اختیار کرنے والے افراد اپنی اپنی علیحدہ شناحت کے ساتھ لیکن ایک دوسرے سے مل کر رہتے ہیں ۔ اب اگر کسی بھی برادری کیلئے علیحدہ آبادیات کے قیام کی روایت چل پڑی تو یہ ملک کیلئے انتہائی خطرناک ہوگا ۔ پہلے ہی گجرات میں ہندو آبادیوں میں مسلمانوں کو جائیدادیں اور مکانات خریدنے سے روکا جا رہا ہے اور جو لوگ کسی طرح جائیداد خریدنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں انہیں انتہائی اوچھے اور متعصب ہتھکنڈے اختیار کرتے ہوئے وہاں جائیدادیں فروخت کرنے کیلئے مجبور کیا جا رہا ہے ۔ ممبئی میں کئی رہائشی کامپلکس ایسے ہیں جہاں مسلمانوں کو فلیٹس فروخت نہیں کئے جا رہے ہیں۔ ایسے واقعات سے ملک بھر میں مقبولیت رکھنے والے فلم اداکار بھی مستثنی نہیں ہیں اور انہیں بھی بڑے رہائشی کامپلکس عمارتوں میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ اگر اس صورتحال میں کشمیری پنڈتوں کیلئے علیحدہ کالونیاں تعمیر کی گئیں تو اس سے انتہائی غلط مثال قائم ہوگی ۔
در اصل سنگھ پریوار کی تنظیمیں چاہتی ہی یہی ہیں کہ ملک میں ہندووں کیلئے علیحدہ کالونیاں قائم کی جائیں تاکہ انہیں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا موقع مل جائے ۔ ابتداء ہی سے ایسی تنظیمیں مطالبہ کر تی رہی ہیں کہ کشمیری پنڈتوں کو علیحدہ کالونیاں تعمیر کرکے فراہم کی جائیں ۔ فرقہ پرست تنظیموں کی جانب سے یہ مطالبات اپنی جگہ لیکن اب ان مطالبات کو حکومت عملی شکل دینے کمربستہ ہوگئی ہے اور یہی انتہائی خطرناک رجحان ہے ۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اس سلسلہ میں ریاستی حکومت کی مخالفت کو بھی خاطر میں نہ لانے کا اعلان کیا ہے اور کہا کہ مرکزی حکومت کشمیری پنڈتوں کیلئے علیحدہ کالونیوں کی تعمیر کے فیصلے سے انحراف نہیں کریگی ۔ یہی وہ طریقہ کار ہے جو اسرائیل میں فلسطینیوں کو محصور کرنے کیلئے اختیار کیا گیا تھا ۔بتدریج فلسطینی اراضیات پر اسرائیلی نوآبادیات تعمیر کرتے ہوئے فلسطینیوں کی زمین ہڑپ لی گئی اور پھر انہیں دھیرے دھیرے سماجی مسائل میں الجھا کر ان کا عملا محاصرہ کرلیا گیا ۔ یہاں کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں خود فلسطینی رہنے میں خوف محسوس کرتے ہیں اور یہی وہ مقصد تھا جو اسرائیل نے اپنی صیہونی سازشی حکمت عملی سے پورا کرلیا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ مرکز کی نریندر مودی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت بھی کشمیر میںاسی طرح کی حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ریاستی حکومت کی مخالفت کو خاطر میں لائے بغیر اپنے منصوبوں کی تکمیل کا اعلان کیا جا رہا ہے ۔
حکومتوں کا کام ہر برادری کے ماننے والوں کی فلاح و بہبود اور ان کا تحفظ و سلامتی ہے ۔ سلامتی اور تحفظ کے نام پر انہیں اپنے ہی ملک میں اگر علیحدہ کالونیاں تعمیر کرکے دی جائیں تو خود ان میں بھی قومی دھارے میں شامل ہونے کا احساس پیدا نہیں ہوسکتا اور وہ ان کالونیوں میں محفوظ تو ہوسکتے ہیں لیکن طمانیت سے محروم رہیں گے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بے گھر ہوئے کشمیری پنڈتوں کی حقیقی تعداد کا پتہ کیا جائے اور پھر انہیں مرحلہ وار انداز میں جامع پروگرام کے تحت کشمیر میں دوبارہ لایا جائے ۔ کشمیری پنڈت بھی کشمیری کلچر کا حصہ ہیں اور اگر انہیں اس کلچر سے علیحدہ رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ ہندوستان کی روایات کے یکسر مغائر اقدام ہوگا ۔ حکومت کو اس منصوبے پر عمل کرنے سے گریز کرنے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT