Friday , December 15 2017
Home / ہندوستان / کشمیری پنڈتوں کے اجتماعی قتل کی تحقیقات سے سپریم کورٹ کا انکار

کشمیری پنڈتوں کے اجتماعی قتل کی تحقیقات سے سپریم کورٹ کا انکار

نئی دہلی ۔ 24 جولائی ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) سپریم کورٹ نے آج مختلف افراد بشمول علحدگی پسند قائد یٰسین ملک کے خلاف کشمیری پنڈتوں کے اجتماعی قتل کی تحقیقات کرنے کی درخواست سماعت کیلئے قبول کرنے سے انکار کردیا ۔ وادی کشمیر میں 1989-90 ء کے دوران جبکہ عسکریت پسندی عروج پر تھی ، 700 کشمیری پنڈت قتل کردیئے گئے تھے ۔ چیف جسٹس جے ایس کیہر اور جسٹس ڈی وائی چندرا چوڑ پر مشتمل بنچ نے کہا کہ تقریباً 27 سال گذر چکے ہیں ۔ قتل ، آتشزنی اور لوٹ مار کی شہادتیں جمع کرنا بہت مشکل ہوگا ، جن کے نتیجہ میں وادی سے کشمیری پنڈتوں کا خروج عمل میں آیا تھا ۔ انھوں نے کہا کہ درخواست گذار گزشتہ 27 سال سے خاموش کیوں تھے ؟ اب ثبوت کہاں سے حاصل ہوں گے ؟ ۔ ’’کشمیر کی جڑیں‘‘ تنظیم کے وکیل وکاس پڈورا نے کہاکہ کشمیری پنڈت اپنے گھر وادی کشمیر میں چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہوگئے تھے ، کیونکہ مرکز اور ریاستی حکومت کی جانب سے تحقیقات میں تاخیر ہورہی تھی اور کافی ضروری کارروائی نہیں کی گئی تھی ۔ تنظیم نے الزام عائد کیا کہ 215 ایف آئی آر 700 کشمیری پنڈتوں کے قتل کے بارے میں درج کروائے گئے تھے ،جنھیں اُن کے منطقی انجام تک نہیں پہونچایا گیا ۔

TOPPOPULARRECENT