Tuesday , June 19 2018
Home / ہندوستان / کشمیری پنڈتوں کے علحدہ ٹاؤن شپ کی تعمیرکا منصوبہ نہیں

کشمیری پنڈتوں کے علحدہ ٹاؤن شپ کی تعمیرکا منصوبہ نہیں

نئی دہلی ۔ /5 مئی (سیاست ڈاٹ کام) کشمیری پنڈتوں کیلئے علحدہ رہائشی علاقوں (زونس) کے قیام کی کوئی منصوبہ زیرغور نہیں ہے ۔ حکومت نے آج لوک سبھا میں یہ اطلاع دیتے ہوئے نقل مکانی کرنے والی برادری کیلئے خصوصی ٹاؤن شپ کی تعمیر پر اٹھے تنازعہ کو ختم کردیا ہے جبکہ ان اطلاعات پر زبردست تنازعہ اٹھ کھڑا ہوگیا تھا کہ وادی میں کشمیری پنڈتوں کیلئے خ

نئی دہلی ۔ /5 مئی (سیاست ڈاٹ کام) کشمیری پنڈتوں کیلئے علحدہ رہائشی علاقوں (زونس) کے قیام کی کوئی منصوبہ زیرغور نہیں ہے ۔ حکومت نے آج لوک سبھا میں یہ اطلاع دیتے ہوئے نقل مکانی کرنے والی برادری کیلئے خصوصی ٹاؤن شپ کی تعمیر پر اٹھے تنازعہ کو ختم کردیا ہے جبکہ ان اطلاعات پر زبردست تنازعہ اٹھ کھڑا ہوگیا تھا کہ وادی میں کشمیری پنڈتوں کیلئے خصوصی کالونیوں کی تعمیر کیلئے حکومت منصوبہ بنارہی ہے جس پر نیشنل کانفرنس اور علحدگی پسند تنظیموں نے شدید اعتراض کیا تھا ۔ تاہم ریاستی حکومت نے بتایا تھا کہ نو تعمیر ٹاؤن شپ میں پنڈتوں ، مسلمانوں ، سکھوں اور بدھسٹوں کی مخلوط آبادی رہے گی ۔ کشمیری پنڈتوں کی بازآبادکاری کے مسئلہ پر سوال کا جواب دیتے ہوئے مملکتی وزیر داخلہ پرتی بھائی چودھری نے بتایا کہ نقل مکانی کرنے والے کشمیری پنڈتوں کو مالی امداد یکم / مئی سے فی کس 1,650 روپئے سے 2550 روپئے ادا کئے جارہے ہیں

اور ہرایک خاندان کیلئے اعظم ترین مالی امداد میں 6600 سے 10,000 روپئے تک اضافہ کرایا گیا ہے اور یہ امداد کشمیری مہاجرین کی حیثیت رجسٹرڈ 62000 خاندانوں میں سے 21700 خاندانوں کو ادا کی جارہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ جملہ 62000 کشمیری مہاجر خاندانوں میں اکثریت کشمیری پنڈتوں ، سکھوں اور بعض مسلم شامل ہیں جس میں 40,668 خاندان جموں میں ، 19338 خاندان دہلی میں اور 2,000 خاندان ملک کے دیگر علاقوں میں رجسٹرڈ ہیں۔ دریں اثناء جموں و کشمیری پنڈتوں نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وادی کشمیر میں ان کیلئے مشترکہ ٹاؤن شپ کی تعمیر کے ساتھ اقلیتی موقف کی منظوری اور سرکاری ملازمتوں اور 10 اسمبلی حلقوں میں تحفظات فراہم کیا جائے ۔

صدر جگتی ٹینی منٹ کمیٹی مسٹر ایس ایل پنڈتا نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کے خاندانوں کیلئے ماہانہ مالی امداد کے مطالبہ پر ریلیف کمشنر جموں سے نمائندگی کی گئی جس پر ہمدردانہ غور کرنے کا تیقن دیا گیا ہے ۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر مرکزی و ریاستی حکومتیں ان کے مطالبات کی تکمیل نہیں کریں گے تو وہ سڑکوں پر احتجاج کیلئے نکل آئیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 25 سال کے دوران نقل مکانی کرنے والے کشمیری پنڈتوں کی جائیدادوں پر قبضہ کرلیا گیا جسے بازیاب کرکے پنڈتوں کے حوالے کردینا چاہئیے ۔ بصورت دیگر مکانات اور زرعی اراضیات سے محروم پنڈتوں کو فی کس 50 لاکھ روپئے مصارف ادا کیا جائے ۔

TOPPOPULARRECENT