Wednesday , August 15 2018
Home / دنیا / کشمیر اور پاکستان مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں: یو این

کشمیر اور پاکستان مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں: یو این

دستاویزی ثبوت موجود، لائن آف کنٹرول پر متعدد مسلح گروپس سرگرم
فوج کو تفویض کئے گئے خصوصی اختیارات فوری ختم کرنے کا مطالبہ

جنیوا ۔ 14 جون (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ نے اپنی نوعیت کی پہلی رپورٹ کو جاری کیا ہے جو دراصل ہندوستانی حکومت کے تحت کشمیر اور پاکستانی حکومت کے تحت کشمیر میں رونما ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مشتمل ہے جس کیلئے اقوام متحدہ نے ان خلاف ورزیوں کی بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ عالمی انسانی حقوق کی نگرانکار مجلس نے پاکستان سے خصوصی طور پر اپیل کی ہیکہ وہ اپنے انسداد دہشت گردی قانون کا بیجا استعمال کرنا بند کردے کیونکہ ایسا کرتے ہوئے ان جہدکاروں کے خلاف بھی کارروائی کی جارہی ہے جو پرامن طریقہ سے احتجاج کرتے ہیں۔ اگر پاکستان اپنے انسداد دہشت گردی قانون کا بیجا استعمال کرنا بند کردے تو ناراضگیاں ختم کی جاسکتی ہیں۔ رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہیکہ ماضی میں کی گئی خلاف ورزیاں اور وہ خلاف ورزیاں جو اب بھی جاری ہیں، کی جوابدہی کیلئے ایک احتساابی ادارہ کو جوابدہی کا پابند بنایا جانا چاہئے کیونکہ اگر ’’جوابدہی‘‘ کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کی جائے تو اسی صورت میں لائن آف کنٹرول پر جاری تشدد کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ لائن آف کنٹرول کی دونوں جانب رہنے والے افراد کو متعدد نوعیت کی انسانی حقوق خلاف ورزیوں کا سامنا ہے۔ ایسے انسانی حقوق جن سے انہیں محروم کردیا گیا ہے۔ رپورٹ کی اجرائی پر اب تک ہندوستان کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے لیکن حکومت ہند کا ادعا ہیکہ ہندوستان اپنی جمہوریت پر فخر کرتا ہے اور اس کے تحت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملات اگر مناسب اور معقول پائے گئے تو ان کی یکسوئی کی جاسکتی ہے۔ ہندوستانی عہدیداروں کا یہ ماننا ہیکہ پاک مقبوضہ کشمیر اور جموں و کشمیر کا کوئی تقابل نہیں کیا جاسکتا کیونکہ آخرالذکر ریاست میں جمہوری طور پر منتخبہ حکومت کام کررہی ہے جبکہ پاک مقبوضہ کشمیر میں ایک سفارتکار کو زبردستی ریاست کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال، ہندوستانی ریاست جموں و کشمیر میں جون 2016ء تا اپریل 2018ء کے درمیان پیدا ہوئے حالات اور آزاد جے ۔ کے اور گلگت بالتستان میں انسانی حقوق کے عام حالات سے متعلق تشویش کا اظہار کیا گیا ہے جس پر 1980ء کے اواخر سے نظر رکھی گئی ہے جہاں خصوصی طور پر اس بات کو بھی نوٹ کیا گیا ہندوستان ریاست جموں و کشمیر میں متعدد مسلم گروپس سرگرم ہیں جبکہ حزب المجاہدین کے دہشت گرد سربراہان وانی کی ہندوستانی فورسیس کی جانب سے ہلاکت کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے جس کے بعد وادی میں زبردست احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔ مذکورہ مسلح گروپس نے انسانی حقوق کو پامال کیا جن میں شہریوں کا اغواء اور ہلاکت کے علاوہ نوجوان خواتین کا جنسی استحصال بھی شامل ہے۔ مذکورہ گروپس نے انسانی حقوق کی جو پامالی کی ہے اس کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔ حالانکہ حکومت پاکستان نے ان گروپس کے ساتھ تعاون کرنے کے کسی بھی الزام کی تردید کی ہے تاہم سیاسی ماہرین کا ماننا ہیکہ ان مسلح گروپس کو لائن آف کنٹرول پاکستانی فوج کا بھرپور تعاون حاصل ہے۔ رپورٹ میں مسلح افواج (جموں و کشمیر) کو تفویض کئے گئے خصوصی اختیارات کو فوری ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے جو اسپیشل پاورس ایکٹ 1990ء کہلاتا ہے۔ علاوہ ازیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث سیکوریٹی فورسیس کے خلاف سیویلین عدالتوں میں مقدمہ چلانے کیلئے مرکزی حکومت سے پیشگی اجازت لینے کے لزوم کو بھی فوری طور پر برخاست کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT