کشمیر : ایک فوجی و تین جنگجو ہلاک ، پولیس فائرنگ میں 7 شہری جاں بحق

منحرف فوجی سپاہی کی ہلاکت پر مقامی عوام کا احتجاج ، ہجوم کو منتشر کرنے پولیس کی اندھادھند فائرنگ

سرینگر ۔ /15 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں انکاؤنٹر کے مقام پر جمع شدہ بے قابو ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے سکیورٹی فورسیس کی طرف سے کی گئی فائرنگ کے نتیجہ میں کم سے کم سات شہری ہلاک ہوگئے ۔ انکاؤنٹر کے دورن فائرنگ کے تبادلہ میں ایک فوجی اہلکار اور تین عسکریت پسند بھی ہلاک ہوگئے ہیں ۔ پولیس عہدیداروں نے کہا ہے کہ یہ واقعہ آج صبح سرنوگاؤں میں پیش آیا جہاں سکیورٹی فورسیس نے بشمول ایک منحرف سپاہی ظہور احمد تین عکسریت پسندوں کی روپوشی سے متعلق باوثوق اطلاعات موصول ہونے کے بعد علاقہ کی ناکہ بندی کردی تھی ۔ انکاؤنٹر میں مفرور فوجی سپاہی ظہور احمد ٹھوکر کے پکڑے جانے کی اطلاع عام ہوتے ہی کئی افراد انکاؤنٹر کے مقام پر جمع ہوگئے کیونکہ منحرف فوجی سپاہی کا اس گاؤں سے تعلق تھا ۔ تین عسکرکیت پسندوں کی ہلاکت کے بعد یہ انکاؤنٹر اگرچہ 25 منٹ میں ختم ہوگیا لیکن سکیورٹی فورسیس کو اس وقت دشوار گزار وقت کا سامناکرنا پڑا جب کئی افراد فوجی گاڑیوں پر چڑھنے لگے ۔ ذرائع نے کہا کہ بے قابو ہجوم کو خبردار کرنے کے لئے کئی مرتبہ ہوائی فائرنگ کی گئی لیکن وہ اپنے احتجاج سے باز نہیں آئے ۔ چنانچہ سکیورٹی فورسیس کو شہریوں پر فائرنگ کرنا پڑا ۔ جس کے نتیجہ میں سات عام شہری ہلاک اور دیگر درجنوں زخمی ہوگئے ۔ جن میں ایک نوجوان کی حالت تشویشناک ہے ۔ ظہور احمد ٹھوکر گزشتہ سال جولائی سے شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے علاقہ گنٹ مُلا کی فوجی یونٹ سے منحرف ہونے کے بعد مفرور تھا ۔ ظہور احمد ٹھوکر جو سرویس رائفل ، تین میگزینس کے ساتھ فرار ہوتے ہوئے عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہوگیا تھا ۔ سکیورٹی فور سیس نے کہا کہ ٹھوکر ضلع پلوامہ میں متعدد ہلاکتوں میں ملوث تھا اس کے ساتھ مہلوک دیگر دو عسکریت پسندوں کی شناخت کا پتہ چلایا جارہا ہے ۔ عہدیداروں نے کہا کہ انکاؤنٹر میں ایک فوجی جوان بھی ہلاک ہوا ہے ۔ دیگر دو زخمی سپاہیوں کی حالت تشویشناک ہے ۔ اس واقعہ کے بعد حکام نے جنوبی کشمیر کے تمام چار اضلاع میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات کو معطل کردیا ہے ۔ جموں و کشمیر کی سابق چیف منسٹر محبوبہ مفتی نے ان واقعات پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ٹوئیٹر پر لکھا کہ ’کوئی بھی تحقیقات متوفی بے قصور شہریوں کو زندہ واپس نہیں لاسکتیں ۔ جنوبی کشمیر گزشتہ چھ ماہ سے ڈر و خوف کی گرفت میں ہے ۔ کیا گورنر رول سے یہی توقع تھی ‘ ۔

کشمیری نوجوانوں کی ہلاکت کیلئے گورنر کا انتظامیہ موردِالزام!

سرینگر۔ 15 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) کشمیر کے ضلع پلوامہ میں ہفتہ کو ہوئے انکاؤنٹر کے دوران شہریوں کی ہلاکت پر وادی کی اہم سیاسی پارٹیوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس کے لئے گورنر ستیہ پال ملک انتظامیہ کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے جو معصوم عوام کی زندگیوں کو بچانے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب انکاؤنٹر کے مقام پر عوامی بھیڑ جمع ہوگئی تھی جس کے باعث سکیورٹی فورسیس نے فائرنگ شروع کردی جس کے باعث سات شہری، تین انتہا پسند اور ایک فوجی ہلاک ہوگیا۔ صدر پی ڈی پی اور وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنے ٹوئٹر پر تحریر کیا کہ معصوم مہلوک نوجوانوں کی زندگیوں کو کسی بھی تحقیقاتی ایجنسی کے ذریعہ واپس نہیں لایا جاسکتا۔ کوئی حکمراں انتظامیہ ان معصوم عوام کی ہلاکت کا ذمہ دار نہیں ہے۔ انہوں نے متاثرہ افراد کے خاندانوں نے تعزیت بھی کیا اور انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی ملک معصوم افراد کو ہلاک کرکے نگ جیتی نہیں جاسکتی۔ نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ انکاؤنٹر دراصل قاتل انکاؤنٹر تھا کیونکہ اس انکاؤنٹر میں چھ شہری ہلاک ہوگئے اور کئی دوسرے زخمی ہوگئے۔ سابق چیف منسٹر نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ میں تحریر کیا کہ مجمع اور بھیڑ بھاڑ تو روز کا معمول ہے لیکن ان کا قتل تشویشناک معاملہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT