Tuesday , November 21 2017
Home / سیاسیات / کشمیر دوراہے پر ، ہر طالب علم سنگباری میں ملوث نہیں: محبوبہ مفتی

کشمیر دوراہے پر ، ہر طالب علم سنگباری میں ملوث نہیں: محبوبہ مفتی

میڈیا کو نفرت انگیز مہم سے گریز کا مشورہ، پلوامہ میں اسکولی طلبہ اور سکیورٹی فورسیس کے مابین جھڑپ

سرینگر 8 مئی (سیاست ڈاٹ کام) کشمیر کے ضلع پلوامہ میں آج اسکولی طلبہ کی سکیورٹی فورسیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی جبکہ چیف منسٹر محبوبہ مفتی نے اِس بات پر زور دیا کہ ہر کشمیری نوجوان سنگباری کرنے والا نہیں ہوتا۔ اُنھوں نے کہاکہ کشمیر آج ایک بار پھر دوراہے کھڑا ہے لیکن بدامنی سے متاثرہ اِس وادی میں امن بحال ہوگا۔ یہاں گزشتہ دو ماہ سے زائد عرصہ سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جس میں طلبہ کی اکثریت حصہ لے رہی ہے۔ محبوبہ مفتی نے کہاکہ چند نوجوان ہیں جو سنگباری کررہے ہیں اِس کا یہ مطلب نہیں کہ کشمیر کا ہر نوجوان سنگباری کرنے والوں میں شامل ہے۔ اُنھوں نے قومی میڈیا پر بھی زور دیا کہ وہ ایسے مباحثے کو نمایاں نہ کرے جس میں ریاست کے عوام کے ساتھ نفرت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اُنھوں نے سیول سکریٹریٹ کے آغاز کے موقع پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے مختصر بات چیت کے دوران جاریہ احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ کشمیری طلبہ برہم اور مایوس ہیں۔ پلوامہ میں یہ برہمی صاف دکھائی دی جہاں اسکولی طلبہ نے احتجاجی مارچ کیا اور سکیوریٹی فورسیس کے ساتھ اِن کی جھڑپ ہوگئی۔ پولیس نے کہاکہ طلبہ نے سکیوریٹی عملہ پر سنگباری کی جس کے بعد لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ طلبہ اُن سکیوریٹی عملے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کررہے تھے جنھوں نے جاریہ احتجاجی مظاہروں کے دوران طلبہ کے ساتھ ناروا سلوک کیا۔ اس کے علاوہ گرفتار طلبہ کی رہائی کا مطالبہ کررہے تھے۔ چیف منسٹر نے کہا اُنھیں اِس بات کا یقین ہے کہ چند طلبہ کو مشتعل کیا جارہا ہے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ اِس صورتحال سے نمٹنے کے لئے ہم سب کو مل کر کام کرنا چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ صورتحال انتہائی سنگین ہے لیکن ایسی بھی نہیں جسے حل نہ کیا جاسکے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ کشمیر میں اِس سے بھی بدتر حالات پیش آچکے ہیں۔ 1947 ء سے ایسے کئی مواقع آئے جہاں کشمیر خراب دور سے گزرا۔ آج پھر ایک بار ہم دو راہے پر کھڑے ہیں۔ کشمیر کے موقف پر 1950 ء کے دہے میں استصواب عامہ کی تحریک شروع ہوئی جو 22 سال تک جاری رہی۔ لیکن قیادت کو یہ اندازہ ہوچکا ہے کہ اِس مسئلہ کو تشدد کے ذریعہ حل نہیں کیا جاسکتا۔ اندرا گاندھی اور شیخ عبداللہ نے معاہدہ کیا ، اس کے بعد 1990 ء میں صورتحال ایک بار پھر انتہائی ابتر ہوگئی۔ کبھی عسکریت پسندی میں اضافہ ہوا اور کبھی کمی واقع ہوئی۔ چیف منسٹر نے کہاکہ جموں و کشمیر ہندوستان کی ’’روح‘‘ ہے اور اُنھوں نے ریاست کے عوام پر زور دیا کہ وہ ہندوستان پر اپنا حق جتائیں۔ محبوبہ مفتی نے کہاکہ جموں و کشمیر ہوگا تو ہندوستان بھی ہوگا، جموں و کشمیر کے عوام کا نہ صرف جموں و کشمیر بلکہ ملک کے ہر حصے پر حق ہے اور اُنھیں یہ حاصل کرنا چاہئے۔ اُن میں اتنی صلاحیتیں پائی جاتی ہیں کہ وہ ملک میں کہیں بھی لوہا منواسکتے ہیں۔ اُنھوں نے قومی میڈیا پر کشمیری نوجوانوں کو سنگباری کرنے والوں کے طور پر نمایاں کرنے سے گریز کا مشورہ دیا اور کہاکہ ایسے مباحث نہیں ہونے چاہئیں جس سے ریاست کے عوام کے خلاف نفرت پیدا ہو۔

TOPPOPULARRECENT