Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / کشمیر سے کنیا کماری تک سارا ملک غیرمحفوظ

کشمیر سے کنیا کماری تک سارا ملک غیرمحفوظ

مسلمانوں اور دلتوں کے قتل عام میں بی جے پی اور سنگھ پریوار ملوث : غلام نبی آزاد

 

کسی شخص کو مرتے ہوئے دیکھ کر بھی بچانے
کیلئے آگے نہ آنے کا افسوسناک رجحان
حکومت ووٹ بینک کی سیاست ترک کرے
یہ مذہبی یا ہندو ۔ مسلم لڑائی نہیں :اپوزیشن
قتل کے واقعات پر راجیہ سبھا میں مباحث
فرقہ وارانہ رنگ نہ دیا جائے : حکومت

نئی دہلی ۔ 19 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ملک بھر میں قتل عام کا مسئلہ آج راجیہ سبھا میں چھایا رہا جہاں اپوزیشن نے ان واقعات میں بی جے پی کے بعض ارکان اور سنگھ پریوار کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔ دوسری طرف حکومت نے کہا کہ اس طرح کے تشدد کو فرقہ وارانہ رنگ نہیں دیا جانا چاہئے۔ ایوان میں اس مسئلہ پر جیسے ہی بحث شروع ہوئی، وزیراقلیتی امور مختارعباس نقوی نے کہا کہ حکومت کو بھی ان مجرمانہ واقعات پر تشویش ہے اور ہر ایک کو اس طرح کی تخریبی طاقتوں کے خلاف مل کر آواز اٹھانی چاہئے۔ نقوی نے کہا کہ مرکز ان واقعات کی مذمت کرتا ہے اور ریاستوں کو چاہئے کہ جو ایسے واقعات میں ملوث ہیں ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے بھی حالیہ کل جماعتی اجلاس میں اپنا موقف واضح کیا ہے۔ راجیہ سبھا میں آج ملک بھر میں اقلیتوں اور دلتوں کے کو قتل کرنے اور ان پر مظالم کے واقعات میں اضافہ کی وجہ سے پیدا شدہ صورتحال پر بحث ہورہی تھی۔ مختار عباس نقوی نے الزام عائد کیا کہ یہ ایک سازش ہے جہاں چند افراد حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور اس طرح کے واقعات کے نام پر اپنے ایجنڈہ پر کام کررہے ہیں کیونکہ ان کا خیال تھا کہ گذشتہ 3 سال کے دوران وہ حکومت پر کرپشن کے الزامات عائد کرسکتے ہیں۔ قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد نے مباحث کا آغاز کرتے ہوئے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان واقعات میں اضافہ کی وجہ سے خوف کا پیام پھیل رہا ہے۔ پہلے یہ کام انفرادی سطح پر ہوتا تھا۔ حکومت کو شاید یہ بات بری لگے کہ قتل کے تمام واقعات حکمراں جماعت اور سنگھ پریوار کے بعض ارکان انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منظم انداز میں یہ کام کیا جارہا ہے اور اسی وجہ سے اب تک پیش آئے واقعات میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مجرمین کو جیل بھیجا جانا چاہئے۔ وہ ایسے کئی افراد کی نشاندہی کرسکتے ہیں اور میڈیا بھی ان سے واقف ہے۔ غلام نبی آزاد نے کہا کہ اس طرح کے واقعات سے اپوزیشن جماعت کو کوئی فائدہ نہیں ہورہا ہے بلکہ ایک سیاسی جماعت حکمراں پارٹی ہی فائدہ حاصل کررہی ہے جو صرف سیاسی فائدہ کیلئے کیا جارہا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ اس معاملہ پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک سب کا ہے اور آپ کی ذمہ داری کافی بڑھ جاتی ہے۔ ہم ایک بہتر ماحول تیار کرنے میں آپ کی مدد کرسکتے ہیں۔ انہوں نے حکمرا ںجماعت پر ووٹ کی سیاست ختم کرکے ملک کو مضبوط بنانے کیلئے کام کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی مذہبی لڑائی نہیں ہے۔ یہ ہندو مسلم کی لڑائی بھی نہیں ہے۔ یہ انسانیت کیلئے ہر ایک کی لڑائی ہے۔ اگر ہمارا گھر کمزور ہوگا تو ہم بیرونی طاقتوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ ووٹ کی خاطر اپنے گھر کو ٹوٹنے سے بچائیے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر سے لیکر کنیا کماری تک ملک میں کوئی جگہ محفوظ نہیں رہی۔ قتل کے واقعات ہر طرف پیش آرہے ہیں اور یہ ملک میں پہلی مرتبہ ہورہا ہے۔ ایسا قدیم دور یہاں تک کہ انگریز دور میں بھی نہیں ہوا۔ انہوں نے اس رجحان پر بھی افسوس ظاہر کیا کہ ایک انسان کا قتل ہوتا دیکھ کر کوئی مدد کیلئے آگے نہیں بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن پر بھی اس معاملہ میں متحد ہوکر آواز اٹھانے کی خواہش کی۔

 

مایاوتی سے استعفیٰ کے فیصلہ پر
نظرثانی کی خواہش : کورین
نئی دہلی ۔ 19 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) نائب صدرنشین راجیہ سبھا پی جے کورین نے مایاوتی سے اپنا استعفیٰ واپس لینے کی خواہش کی ہے۔ واضح رہیکہ کل دلتوں کے مسئلہ پر بات کرنے کی اجازت نہ دینے پر مایاوتی نے بطور احتجاج استعفیٰ دے دیا تھا۔ وہ پی جے کورین کے رویہ پر ناراض تھیں ۔ کورین نے کہا کہ وہ مایاوتی کا احترام کرتے ہیں اور ان کے استعفیٰ دینے سے کوئی بھی خوش نہیں۔ غلط فہمی کے سبب ایسا ہوا ہے لہٰذا انہیں اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT