Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / کشمیر میںاحتجاجیوں پرسکیورٹی فورسیس کی فائرنگ ، 5 ہلاک

کشمیر میںاحتجاجیوں پرسکیورٹی فورسیس کی فائرنگ ، 5 ہلاک

تاحال63 ہلاکتیں اور ہزاروں زخمی، 39 دن سے کرفیو اور تحدیدات جاری ، فوجی سربراہ جنرل دلبیر سوہاگ کا آج دورہ
سرینگر ۔ 16 اگست (سیاست ڈاٹ کام) ریاست جموں و کشمیر کے اضلاع بڈگام اور اننت ناگ میں سنگباری کرنے والے احتجاجیوں کے خلاف فوجی کارروائی میں کم از کم 5 افراد ہلاک اور دیگر کئی زخمی ہوگئے۔ ان علاقوں میں مسلسل 39 ویں دن کرفیو کی وجہ سے معمولات زندگی مفلوج رہے۔ کرفیو کے علاوہ تحدیدات اور علحدگی پسندوں کی زیرسرپرستی ہڑتال بھی اس کی وجہ تھے۔ تازہ اموات کے بعد وادی میں جاریہ تشدد کے نتیجہ میں ہلاکتوں کی تعداد 63 ہوگئی۔ ضلع بڈگام کے علاقہ ماگام میں اری پاتھان کے مقام پر سنگباری میں مصروف احتجاجیوں کو منتشر کرنے کیلئے سی آر پی ایف کی کارروائی کے نتیجہ میں چار افراد ہلاک اور دیگر پانچ زخمی ہوگئے۔ پولیس کے ایک ملازم نے کہا کہ مہلوکین کی شناخت بحیثیت جاوید احمد، منظوراحمد، محمد اشرف اور کوثر شیخ کی گئی ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جبکہ احتجاجیوں کے ایک گروپ نے آج صبح سی آر پی ایف کی گذرتی ہوئی گاڑی پر سنگباری کی۔ اننت ناگ میں جنگلات منڈی پیش آئے ہوئے ایک اور واقعہ میں سنگباری کرنے والے نوجوانوں کے ایک گروپ کو منتشر کرنے فوج کی فائرنگ سے پانچ افراد زخمی ہوگئے۔ عہدیدار نے کہا کہ زخمیوں میں سے ایک امیر یوسف زخموں سے جانب نہ ہوسکا۔دریں اثناء فوجی سربراہ جنرل دلبیر سوہاگ کل جموں کا دورہ کرتے ہوئے صورتحال کا جائزہ لیں گے۔ اتفاقی طور پر ایسٹرن کمانڈ چیف لیفٹننٹ جنرل پراوین بخشی جو آئندہ فوجی سربراہ ہوں گے ، وہ بھی کل جموں میں موجود رہیں گے۔ دفاعی ذرائع نے بتایا کہ لیفٹننٹ جنرل بخشی ایک فوجی پروگرام میں حصہ لینے کیلئے یہاں آرہے ہیں

لیکن وہ جائزہ اجلاس میں بھی شریک ہوسکتے ہیں۔ جنرل سوہاگ ناردن فوجی کمانڈر لیفٹننٹ جنرل ڈی ایس ہوڈا اور دیگر سرکردہ سکیورٹی عہدیداروں سے ملاقات کریں گے۔ واضح رہے کہ پورے ضلع سرینگر اور ہفتہ اننت ناگ میں کرفیو برقرار رہا جبکہ وادی کے باقی علاقہ میں تحدیدات کی وجہ سے مسلسل 39 ویں دن بھی معمولات زندگی مفلوج رہے۔ سرکاری عہدیدار کے بموجب کرفیو اور تحدیدات علحدگی پسندوں کے دھرنا پروگرام کے منصوبہ کو ناکام بنانے کیلئے عائد کی گئی تھیں۔ وادی کے بازاروں میں تاجر برادری شہریوں کی ہلاکت کے خلاف بطور احتجاج دھرنا دینے والی تھی۔ نظم و ضبط کی برقراری کیلئے احتیاطی اقدامات کے طور پر پورے ضلع سرینگر اور جنوبی کشمیر کے قصبہ اننت ناگ میں کرفیو جاری رہا۔ اسکولس، کالجس اور خانگی دفاتر بند رہے۔ سرکاری بسیں علحدگی پسندوں کی ہڑتال کی وجہ سے سڑکوں پر نظر نہیں آئیں۔ سرکاری دفاتر میں حاضری بہت کم تھی۔ پوری وادیمیں انٹرنیٹ اور موبائیل خدمات معطل رہیں۔ ہفتہ کے دن سے براڈ بیانڈ خدمات معطل کردی گئیں۔ اسی دن رات دیر گئے سے موبائیل ٹیلیفون خدمات بھی معطل کردی گئیں۔ برہان وانی کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کی وجہ سے 8 جولائی سے معمولات زندگی معطل ہیں۔ احتجاجی مظاہروں کے دوران شہریوں کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کی قیادت علحدگی پسند کررہے ہیں۔ 9 جولائی سے جاری جھڑپوں میں 63 افراد بشمول دو ملازمین پولیس ہلاک اور ہزاروں دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT