Thursday , January 18 2018
Home / اداریہ / کشمیر میں انسانی جانوں کی بے قدری

کشمیر میں انسانی جانوں کی بے قدری

مرے خدا مجھے اپنی پناہ میں رکھنا مرے خلاف ہواؤں میں جنگ جاری ہے کشمیر میں انسانی جانوں کی بے قدری

مرے خدا مجھے اپنی پناہ میں رکھنا
مرے خلاف ہواؤں میں جنگ جاری ہے
کشمیر میں انسانی جانوں کی بے قدری
جموں و کشمیر میں سیاسی و سماجی صورتحال کو ابتر بنانے والے عوامل بہت ہیں اور اس خرابی کے کردار بھی کئی ہیں۔ لیکن جن افراد کو منظر عام پر دیکھا یا دکھایا جارہا ہے، یہ بھی ایک طاقت کی جانب سے تیار کردہ کہانی کا کردار ادا کررہے ہیں۔ کشمیر کو اپنے سیاسی مقصد کے لئے استعمال کرنے کا طریقہ نیا نہیں ہے۔ آزادی کے بعد سے حکمرانوں نے جموں و کشمیر کو مختلف مواقع پر اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کیا ہے۔ اس وقت ریاست میں بی جے پی ۔ پی ڈی پی زیرقیادت حکومت ہے۔ مرکز کی نریندر مودی حکومت اس ریاست کے معاملہ میں کیا رول ادا کررہی ہے یا کرنے والی ہے یہ پوشیدہ نہیں ہے۔ کشمیر میں امن و امان کی صورتحال بگاڑنے کے پیچھے کئی سازشیں کارفرما نظر آرہی ہیں۔ سب سے پہلے تو بی جے پی ۔ پی ڈی پی حکومت کی جانب سے سخت گیر علیحدگی پسند لیڈر مسرت عالم کو رہا کردیا گیا۔ گزشتہ ماہ ان کی جیل سے رہائی کے بعد پارلیمنٹ میں زبردست ہنگامہ بھی ہوا تھا۔ کانگریس نے مسرت عالم کو 120 نوجوانوں کا قاتل قرار دیا تھا کیوں کہ 2010 ء میں سنگباری کی تحریک کے پیچھے انہی کا ہاتھ بتایا گیا تھا۔ اس تحریک کے دوران پولیس فائرنگ میں 100 سے زائد کمسن بچے اور نوجوان ہلاک ہوئے تھے۔ مسرت عالم کی رہائی کے پیچھے کہیں گہری سیاسی چال چلی گئی ہے یا پھر مفتی محمد سعید حکومت کے کندھوں پر رکھ کر مودی حکومت کچھ اپنے مطلب کا نشانہ لگارہی ہے۔ مسرت عالم اور حریت لیڈر سید علی شاہ گیلانی میں گہرے روابط ہیں۔ انھیں گیلانی کا سیاسی جانشین بھی سمجھا جاتا ہے۔ گزشتہ روز سرینگر میں گیلانی کے خیرمقدم کے لئے نکالی گئی ریالی میں مسرت عالم کے حامیوں نے پاکستانی پرچم لہراکر موافق پاکستان نعرے لگائے تھے۔ اس واقعہ کے بعد مسرت عالم اور گیلانی نظر بند کردیئے گئے۔ مودی حکومت کو قومی سلامتی کے معاملات میں مختلف طریقوں سے بیانات دیتے ہوئے سنا گیا ہے لیکن درپردہ مودی حکومت کی پالیسیاں کیا ہیں یہ بات اس وقت تک پوشیدہ رہے گی تاوقتیکہ جموں و کشمیر کی کیفیت حکومت ہند کے کنٹرول سے بے قابو ہوجائے۔ پی ڈی پی کے ساتھ اتحاد کرکے بی جے پی نے ضرور کوئی گھناؤنا پلان بنایا ہوگا اس پلان کے حصہ کے طور پر مسرت عالم کی رہائی پھر پاکستانی پرچم لہرانے موافق پاکستان نعرے بلند کرنے کے بعد گیلانی و مسرت عالم کے خلاف کارروائی کے پیچھے ایک طویل منصوبہ بند یا منظم سازش ہوسکتی ہے۔ کشمیری پنڈتوں کو دوبارہ بسانے کے لئے کوشاں بی جے پی وادی کشمیر میں کشمیری پنڈتوں کو بسانا چاہتی ہے ٹھیک اسی طرح فلسطین میں اسرائیل کو بسانے کی کوشش کی گئی تھی جس کا نتیجہ آج ساری دنیا کے سامنے ہے۔ فلسطین کی سرزمین پر اسرائیلیوں کو بسایا گیا تھا۔ کشمیری پنڈتوں کا معاملہ اسی تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔ مگر یہ سب سیاسی منفعت بخش منصوبے ہیں اس سے عوام الناس کو خاص کر کشمیری پنڈتوں کو چوکنا رہنا ہوگا۔ کشمیر میں اب تک کی حکومتوں نے جو کچھ حالات پیدا کئے ہیں اس سے بڑھ کر مودی حکومت ایسے حالات واقعات پیدا کرنے کی کوشش کرسکتی ہے جہاں امن کا احیاء مشکل ہوجائے گا۔ پاکستانی پرچم لہرانے اور موافق پاکستان نعرے لگانے کی پاداش میں مسرت عالم کو گرفتار کرلیا گیا۔ مرکز کے دباؤ کے بعد مفتی سعید حکومت نے یہ کارروائی کی ہے۔ چیف منسٹر مفتی سعید نے اپنی پارٹی کے انتخابی منشور میں کئے گئے وعدے کے مطابق ہی مسرت عالم کو جیل سے رہا کرالیا تھا۔ انھوں نے کشمیر کے چند علیحدگی پسند لیڈروں کو رہا کرنے پر غور کیا تھا جنھیں وہ سیاسی قیدی تصور کرتے تھے لیکن اب حکومت کو اپنے مرکز کے آقا کے سامنے بے بس ہونا پڑا ہے تو وہ وادی کی صورتحال کو ابتر بنانے والی طاقتوں کو قابو میں کرنے میں ناکام ہوں گے۔ سید علی شاہ گیلانی نے وادی میں ترال واقعہ کے خلاف بند منایا۔ ترال میں دو نوجوانوں کو گولی مار دی گئی تھی۔ وادی کے حالات کو بہتری کی جانب لے جانے کے بجائے خوف کی سیاست کو ہوا دے کر ذاتی سیاسی مقاصد کو طاقتور کرنے کی کوشش تشویشناک ہے۔ انسانی جانوں کی بے قدری کا سلسلہ جاری رکھا گیا تو بی جے پی کو سیاسی فائدہ کے بجائے نقصان ہوگا۔
برڈ فلو اور پولٹری صنعت
اس وقت ریاست تلنگانہ کی بڑی خدمت یہ ہوگی کہ ریاست کو وبائی امراض سے محفوظ رکھا جائے۔ سوائن فلو کے بعد برڈ فلو نے شہریوں کو دہشت زدہ کردیا ہے یا برڈفلو کے نام پر کوئی طاقت اپنی تجارت پر توجہ دے رہی ہے۔ عوام کو وبائی امراض سے بچانے کے لئے حکومت یا صحت کے حکام نے اب تک ریاست بھر میں 2 لاکھ سے زائد مرغیاں تلف کردیئے ہیں اور جہاں کہیں برڈ فلو کے وائرس کا اندیشہ پایا جاتا ہے وہاں احتیاطی اقدامات پر دھیان دیا جارہا ہے۔ برڈ فلو سے پولٹری صنعت کو مالی اعتبار سے شدید دھکہ پہونچ رہا ہے۔ ایسے میں حکومت نے اصولی طور پر اتفاق کیا ہے کہ متاثرہ پولٹری صنعت کے مالکین کو معاوضہ دیا جائے۔ پولٹری صنعت کو برسوں سے اس مہلک مرض برڈفلو کا خطرہ رہا ہے۔ عالمی سطح پر بھی برڈفلو کے کئی کیسیس سامنے آتے رہے ہیں لیکن اس کی روک تھام کے لئے ہنوز کوئی تدبیر یا مؤثر ٹیکہ ایجاد نہیں کیا گیا ہے۔ 2011 ء میں بھی برڈفلو کی وباء پھیلی تھی اس وقت بھی صحت کے حکام نے موقتی کارروائیاں کرکے پولٹری صنعت کے لئے بنائے گئے اُصولوں کو نظرانداز کردیا تھا۔ اس صنعت کے قیام کے ساتھ حفظان صحت اور فضاء میں وباء کو پھیلنے سے روکنے کے اقدامات نہیں کئے گئے۔ تلنگانہ میں پولٹری صنعت کے اصولوں کو نظرانداز کئے جانے کی وجہ سے صورتحال سنگین ہوگئی ہے۔ تلنگانہ کے 18 مواضعات اس وباء سے متاثر ہونے پر حکومت یا محکمہ صحت و خاندانی بہبود نے بروقت چوکسی اختیار نہیں کی۔ اگرچیکہ عالمی تنظیم صحت نے اس وائرس کو انسانی صحت کے لئے مضر قرار نہیں دیا ہے تاہم ایشیاء اور افریقہ کے بعض حصوں میں پولٹری صنعت میں پائے گئے H5N1 کی وجہ سے انسانی اموات ہوئی ہیں۔ تلنگانہ حکومت نے جو سوائن فلو پر قابو پانے کے لئے کوشاں تھی برڈفلو نے اس کو مزید چوکسی اختیار کرنے کے لئے مجبور کردیا ہے تو اس وباء کو یوں ہی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT