Sunday , November 19 2017
Home / Top Stories / کشمیر میں اِنکاؤنٹر، 4 عسکریت پسند، ایک عام شہری اور 2 فوجی ہلاک

کشمیر میں اِنکاؤنٹر، 4 عسکریت پسند، ایک عام شہری اور 2 فوجی ہلاک

Kashmiri villagers carry body of Mudasir Ahmed, one among four suspected rebels killed at his residence in Redwani, 65 Kilometers (40 miles) south of Srinagar, Indian controlled Kashmir, Sunday, Feb. 12, 2017. Four suspected rebels, two Indian army soldiers and a civilian have been killed in a fierce gunbattle in Indian-controlled Kashmir, officials said Sunday.(AP Photo/Dar Yasin)

موضع ناگا بل کی ناکہ بندی کے بعد گھمسان لڑائی ،عوام کا پرتشدد احتجاج ، فوج کی فائرنگ میں 15 افراد زخمی

کلگام۔ 12 فروری (سیاست ڈاٹ کام) جنوبی کشمیر کے موضع ناگابل میں آج  طلوع آفتاب سے قبل ہوئے ایک انکاؤنٹر میں سکیورٹی فورسیس نے حزب المجاہدین کے 4 عسکریت پسندوں کو گولی مارکر ہلاک کردیا۔ اس کارروائی میں 2 فوجی سپاہی اور ایک عام شہری ہلاک ہوگئے۔ پولیس کے ایک عہدیدار نے کہا کہ اس کارروائی میں بشمول ایک افسر 3 فوجی اہلکار زخمی ہوئے جنہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعہ سرینگر کے فوجی ہاسپٹل کو منتقل کردیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل پولیس ایس پی وید نے پی ٹی آئی سے کہا کہ سکیورٹی فورسیس نے 4 عسکریت پسندوں کو گولی مارکر ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ انکاؤنٹر میں 4 مقامی عسکریت پسندوں کی ہلاکت کے خلاف عوام نے پرتشدد احتجاج کیا جس کے باعث فوج کو فائرنگ کرنی پڑی اور اس میں 15 شہری زخمی ہوگئے ۔ بعد ازاں ایک شخص زخموں سے جانبر نہ ہوسکا۔ سکیورٹی فورسیس نے انٹلیجنس اطلاعات کے بعد ایک ٹھکانہ کو نشانہ بنایا جو ممنوعہ لشکر طیبہ اور حزب المجاہدین کی جانب سے استعمال کیا جارہا تھا ۔ یہ مقام سری نگر کے جنوب میں 70 کیلو میٹر دور واقع ہے ۔ ریاستی پولیس نے سکیورٹی فورسیس کو ایک ٹیلر کے مکان میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کے بارے میں اطلاع دی ۔ ایس پی وید نے کہا کہ  انکاؤنٹر کے دوران فائرنگ کے تبادلے کی زد میں مالک مکان کا بیٹا بھی زخموں سے جانبر نہ ہوسکا‘‘۔ مملکتی وزیر جیتندر سنگھ نے انکاؤنٹر کے بارے میں ایک سوال پر اخباری نمائندوں کو جواب دیا کہ پاکستان کی جانب سے ہندوستانی سرزمین پر دہشت گردی کی سرپرستی و حوصلہ افزائی کی جارہی ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’کئی سلسلہ وار ثبوت ہیں، اب یہ راز پوشیدہ نہیں رہا کہ ہندوستانی سرزمین بالخصوص جموں و کشمیر میں اسلام آباد کی طرف سے دہشت گردی کی مدد اور سرپرستی کی جارہی ہے‘‘۔ جیتندر سنگھ نے سکیورٹی فورسیس کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہ (فورسیس) انتہائی دشوار گذار حالات میں کام کررہے ہیں اور کسی شک و شبہ کے بغیر واضح طور پر ثابت کرچکے ہیں کہ وہ دنیا کے بہترین فورسیس ہیں‘‘۔ انکاؤنٹر کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نے موصولہ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر زیسال میں ناگابل گاؤں کی فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں نے رات 4:30 بجے ناکہ بندی کردی۔ عہدیداروں نے کہا کہ انٹلیجنس اطلاعات میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ اس گاؤں کے ایک گھر میں عسکریت پسند روپوش ہیں جس کے بعد ہی گاؤں کی مکمل ناکہ بندی کے ساتھ تلاشی مہم شروع کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کئی گھروں کی بار بار تلاشی کے باوجود کوئی کامیابی نہیں ملی لیکن دھاوا کرنے والی ٹیم کے ساتھ موجود پولیس اہلکاروں نے ایک گھر کی دوبارہ تلاشی کیلئے اصرار کیا، جہاں کی ایک فرضی چھت پر راشٹریہ رائفلز کا ایک اہلکار چڑھ گیا جہاں کی تلاشی کے دوران وہاں عسکریت پسندوں کی روپوشی کا پتہ چلا۔ دھاوا کرنے والی ٹیم کو دیکھنے کے بعد سپاہیوں اور ان کے ساتھ موجود مالک مکان کے بیٹے کو اندھادُھند فائرنگ کا نشانہ بنایا جس کے نتیجہ میں 2 فوجی جوان ہلاک ہوگئے، جن کی شناخت لانس نائیک رگھویر سنگھ اور لانس نائیک گوپال سنگھ بدوایا کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران 3 عسکریت پسند قریبی جنگلوں میں فرار ہونے میں کامیاب رہے لیکن ممنوعہ تنظیم حزب المجاہدین سے تعلق رکھنے والے دیگر 4 عسکریت پسند ہلاک ہوگئے، جن کے منجملہ تین کی شناخت مدثر احمد تانترے، فاروق احمد ڈار اور اظہر احمد کی حیثیت سے کی گئی ہے، چوتھے کی شناخت کی کوشش جاری ہے۔ انکاؤنٹر کے مقام سے چار اسلحہ بھی ضبط ہوئے۔

TOPPOPULARRECENT