Friday , May 25 2018
Home / ہندوستان / کشمیر میں ایک اور مقامی عسکریت پسند گھر واپس

کشمیر میں ایک اور مقامی عسکریت پسند گھر واپس

ایک اور فکرمند ماں کی اپیل کارگر: ڈی جی پی وید ۔محبوبہ مفتی حکومت نوجوانوں کے حق میں سرگرم
جموں ؍ سرینگر 2 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) کشمیر کا ایک لڑکا جو عسکری تنظیم میں شامل ہوگیا تھا، وہ اپنی والدہ کی اپیل پر آج گھر واپس ہوگیا۔ ایک سینئر پولیس عہدیدار نے یہ بات بتائی۔ ڈی جی پی ایس پی وید نے آج ایک ٹوئٹ میں کہاکہ فکرمند ماں کی اپیل پر ایک اور لڑکا وادی میں تشدد کی راہ ترک کرتے ہوئے اپنی فیملی میں واپس ہوچکا ہے۔ ڈی جی پی نے اِس تبدیلی پر خوشی کا اظہار کیا اور کہاکہ وہ اِس لڑکے کی فیملی کے لئے نیک تمنائیں رکھتے ہیں۔ تاہم اِس لڑکے کی خودسپردگی کی تفصیلات راز میں رکھی گئی ہے کیوں کہ اُس کی سکیورٹی یقینی بنائی جاسکے۔ گزشتہ سال سے کشمیر میں زائداز ایک درجن عسکریت پسندوں نے اپنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں جبکہ پولیس نے اعلان کیا تھا کہ وہ انکاؤنٹرس کے دوران بھی مقامی عسکریت پسند خودسپردگی کا ارادہ ظاہر کریں تو اُنھیں قبول کرلیں گے۔ نمایاں بات یہ ہے کہ گزشتہ ماہ چیف منسٹر جموں و کشمیر محبوبہ مفتی نے قانون ساز کونسل کے بی جے پی رکن وکرم رندھاوا کے ایک سوال کے تحریری جواب میں کہا تھا کہ 4 گمراہ نوجوانوں نے تشدد کی راہ ترک کردی اور اصل دھارے میں واپس ہوگئے ہیں۔ اس طرح کے واقعات سے تحریک پاکر مزید عسکریت پسندوں کو اُن کی فیملیوں تک واپس لانے کے جتن کئے جارہے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہاکہ اُن کی حکومت نے کٹر پسندی اور انتہا پسندی پر قابو پانے کے لئے متعدد اقدامات کئے ہیں اور نوجوانوں کو تعمیری سرگرمیوں میں مشغول کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ محبوبہ مفتی نے کہاکہ پولیس اسٹیشن کی سطح پر یوتھ کلبس تشکیل دیئے گئے ہیں تاکہ نوجوانوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تربیت دی جائے اور اُنھیں انڈور گیمز کی ترغیب بھی دی جاسکے۔ اس دوران ماجد کے والد ارشاد احمد خان کو 14 نومبر کو اس وقت دل کا دورہ پڑا جب اسے کہیں سے معلوم ہوا کہ اس کا بیٹا ضلع کولگام میں سیکورٹی فورسز کے محاصرے میں پھنس گیا ہے ۔ تاہم ماجد کے سیکورٹی فورسز کے محاصرے میں پھنسنے کی خبر صحیح نہیں تھی۔ ماجد خان کے والد اور والدہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد کشمیر کے بیشتر سوشل میڈیا صارفین نے ماجد سے اپیل کی تھی وہ اپنے گھر کو واپس لوٹ آئیں۔ بعض صارفین نے ماجد کو اللہ اور اس کے رسول ﷺکا واسطہ دیکر اپنے گھر کو واپس لوٹنے کی اپیل کی تھی۔جنوبی کشمیر کے قصبہ اننت ناگ میں کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ ڈگری کالج اننت ناگ میں بی کام سال دوم کے طالب علم ماجد نے اپنے ایک قریبی دوست یاور نثار کی ہلاکت کے بعد جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی۔ نثار نے جولائی 2017 ء میں عسکری صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی اور اسے گذشتہ ماہ سیکورٹی فورسز کے ساتھ ایک مسلح تصادم میں جاں بحق کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT