Thursday , September 20 2018
Home / Top Stories / کشمیر میں تین روز بعد معمولات زندگی بحال

کشمیر میں تین روز بعد معمولات زندگی بحال

بیشتر تعلیمی اداروں میں تدریسی سرگرمیاں معمول پر ‘فوج کی کارروائی میں ایک نوجوان ہلاک
سری نگر ، 5 اپریل (سیاست ڈاٹ کام ) وادی کشمیر کے بیشتر حصوں میں تین روز بعد جمعرات کو معمولات زندگی بحال ہوگئے ۔ شمالی کشمیر کے بارہمولہ اور جموں خطہ کے بانہال کے درمیان چلنے والی ریل خدمات چار روز بعد بحال کی گئیں جبکہ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان اور چند دیگر علاقوں کو چھوڑ کر وادی کے بیشتر حصوں میں جمعرات کو تعلیمی اداروں میں درس وتدریس کی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہوئیں۔ سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ وادی کے کسی بھی حصہ میں جمعرات کو پابندیاں نافذ نہیں رہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ ایک علاقوں میں احتیاطی طور پر سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات رکھی گئی ہے ۔ یو این آئی کے ایک نامہ نگار جس نے جمعرات کی صبح گرمائی دارالحکومت سری نگر کے مختلف حصوں بالخصوص پائین شہر کا دورہ کیا، نے تمام بازاروں، دفاتر اور تعلیمی اداروں کو کھلا پایا۔ انہوں نے بتایا کہ پائین شہر کی جن سڑکوں پر 2 اپریل کو خاردار تاریں بچھاکر لوگوں کی آمدورفت کے لئے بند کیا گیا تھا، کو گاڑیوں اور راہگیروں کے لئے کھول دیا گیا ہے ۔ جنوبی کشمیر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ضلع شوپیان کے کچھ حصوں اورضلع پلوامہ کے ترال کو چھوڑ کر جنوبی کشمیر کے بیشتر حصوں میں جمعرات کو معمولات زندگی بحال ہوگئے ۔ ضلع شوپیان میں تعلیمی ادارے مسلسل چوتھے روز بھی بند رہیں۔ قصبہ ترال میں جمعرات کی صبح سیکورٹی فورسز پر پتھراؤ کا واقعہ پیش آیا جس کے بعد علاقہ میں ہڑتال کی گئی۔ وسطی کشمیر کے بڈگام اور گاندربل اضلاع کے بیشتر حصوں میں بھی معمولات زندگی بحال ہوگئے ۔ تاہم گاندربل کے قصبہ کنگن جہاں گذشتہ روز سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں ایک جواں سال نوجوان جاں بحق ہوا، میں جمعرات کو جزوی ہڑتال رہی۔ علاقہ میں وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے دورے کے خلاف احتجاج بھی ہوا۔

TOPPOPULARRECENT