Wednesday , August 15 2018
Home / ہندوستان / کشمیر میں حملوں میں شدت، امن مساعی کو سبوتاج کرنے کی کوشش

کشمیر میں حملوں میں شدت، امن مساعی کو سبوتاج کرنے کی کوشش

رمضان سیز فائر کا فائدہ ہورہا ہے‘ جنگجوؤں کی حرکتوں سے عوام کو تکلیف‘ محبوبہ مفتی کا بیان

سری نگر ، 6 جون (سیاست ڈاٹ کام) جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے وادی کشمیر میں ‘رمضان سیز فائر’ کے باوجود جنگجوؤں کے حملے جاری رہنے پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اپنی متشدد کاروائیاں جاری رکھ کر جنگجو امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں کررہے ہیں۔ محترمہ مفتی نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ‘جہاں ہم یہ محسوس کررہے ہیں کہ رمضان سیز فائر کی بدولت اہلیان جموں وکشمیر کو کافی حد تک راحت نصیب ہورہی ہے ، وہیں جنگجو اپنی متشدد کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ امن عمل کو سبوتاج کرنے کی مسلسل کوششیں کررہے ہیں۔ میں امید کرتی ہوں کہ انہیں بہت جلد احساس ہوگا کہ ایسی کاروائیوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا’۔ واضح رہے کہ وادی میں رواں ماہ کے گذشتہ چھ دنوں کے دوران سیکورٹی فورسز کو نشانہ بناکر کم از کم ایک درجن گرینیڈ حملے کئے گئے جن کے نتیجے میں سیکورٹی فورس اہلکاروں کے سمیت قریب دو درجن افراد زخمی ہوئے ۔ ریاستی پولیس نے یکم جون کو گرمائی دارالحکومت سری نگر میں سیکورٹی الرٹ جاری کردیا تھا۔ پولیس نے الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا تھا ‘جنگ بدر کی یاد میں 2 جون کو منائی جانے والی تقریبات کے موقع پر پہلی ، دوسری اور تیسری جون کو فدائین اور ہٹ اینڈ رن حملوں کا امکان
بہت زیادہ ہے ‘۔ وادی میں جنگجویانہ حملوں میں شدت ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب مرکزی حکومت نے وادی میں جنگجوؤں کے خلاف آپریشنز معطل رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے ۔ مرکزی حکومت نے 16 مئی کو وادی میں ماہ رمضان کے دوران سیکورٹی فورسز کے آپریشنز کو معطل رکھنے کا اعلان کیا۔ تاہم جنگجوؤں کی طرف سے حملے کی صورت میں سیکورٹی فورسز کو جوابی کاروائی کا حق دیا گیا۔ وزارت داخلہ کے اس اعلان کے ساتھ وادی میں جنگجوؤں کے خلاف جاری آپریشن آل آوٹ اور کارڈن اینڈ سرچ آپریشنز پر بریک لگ گئی ۔ محترمہ مفتی نے 9 مئی کو سری نگر کے ایس کے آئی سی سی میں بلائی گئی کُل جماعتی اجلاس کی صدارت کرنے کے بعد کہا تھا کہ ماہ رمضان اور سالانہ امرناتھ یاترا کے پیش نظر مرکزی سرکار سے وادی کشمیر میں یکطرفہ فائر بندی کا مطالبہ کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT