Saturday , October 20 2018
Home / سیاسیات / کشمیر میں دہشت گرد سرگرمیوں میں کمی کا دعوی قابل اعتراض: شیوسینا

کشمیر میں دہشت گرد سرگرمیوں میں کمی کا دعوی قابل اعتراض: شیوسینا

ممبئی۔27 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) شیوسینا نے آج حکومت کے دعوئوں پر اعتراض کیا کہ جموں و کشمیر میں دہشت گرد سرگرمیاں کم ہوگئی ہیں اور کہا کہ اب فوجی جوانوں کو وادیٔ کشمیر کے نوجوانوں میں خوف پیدا کرنے کے الزام میں اغوا اور قتل کیا جارہا ہے۔ علاقائی فوجی سپاہی عرفان احمد کی ہلاکت کا حوالہ دیتے ہوئے شیوسینا نے کہا کہ یہ نئی ٹیکنیک ہے جس کا مقصد کشمیری نوجوانوں میں خوف پیدا کرنا اور ان کے حوصلے پست کرنا ہے۔ فوجیوں کی بے رحمانہ ہلاکت پاکستانی سازش ہے۔ یہ صرف پاکستانیوں کے ’’من کی بات‘‘ ہے۔ کیا ہر ماہ من کی بات کرنے والے شخص کو اس کا احساس ہے۔ شیوسینا نے وزیراعظم نریندر مودی کے ماہانہ ریڈیو پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ممبئی حملے کے سازشی حافظ سعید کو پاکستان میں حراست سے رہا کردیا گیا ہے جس سے سرحدی ریاستیں دہشت گردوں کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں۔ فوجی عرفان احمد کا ضلع شوپیان سے اغوا کرکے قتل کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے نوجوانوں میں خوف پھیل گیا ہے جو نوجوان فوج میں کام کرتے ہیں ان کے دل خوف سے بھر گئے ہیں۔ شیوسینا کے ترجمان سامنا کے اداریہ میں یہ الزام عائد کیا گیا ہے۔ تازہ ترین ہلاکت ایک ٹیکنیک ہے جس کے ذریعہ کشمیریوں میں جو فوج میں اور نیم فوجی تنظیموں میں بھرتی ہوچکے ہیں، یہ احساس پیدا کیا جارہا ہے کہ دہشت گرد جب چاہیں اور جسے چاہیں ہلاک کرسکتے ہیں۔ جاریہ سال ماہ مئی میں لیفٹننٹ عمر فیاض کو اسی انداز میں قتل کیا گیا تھا اور ستمبر میں بی ایس ایف فوجی رمضان پارے کو بھی ہلاک کردیا گیا تھا۔ عرفان احمد کی ہلاکت ان لوگوں کے دعوے کی تکذیب ہے جو کہتے ہیں کہ دہشت گردی میں کمی آچکی ہے۔

TOPPOPULARRECENT