Wednesday , September 19 2018
Home / سیاسیات / کشمیر میں رائے دہی کے بائیکاٹ کی اپیل نظرانداز

کشمیر میں رائے دہی کے بائیکاٹ کی اپیل نظرانداز

باندی پورہ۔ 25 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) جمہوریت کی طاقت علیحدگی پسندوں کی زیرسرپرستی رائے دہی کے بائیکاٹ کی اپیل پر غالب آگئی۔ وادی کشمیر کے پانچ انتخابی حلقوں کے رائے دہندوں کا ہجوم اپنے حق رائے دہی استعمال کرنے کے لئے مراکز رائے دہی پر جمع ہوگیا تھا۔ آج پانچ مرحلوں پر مشتمل ریاستی انتخابات کا پہلا مرحلہ تھا۔ مراکز رائے دہی پر رائے دہ

باندی پورہ۔ 25 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) جمہوریت کی طاقت علیحدگی پسندوں کی زیرسرپرستی رائے دہی کے بائیکاٹ کی اپیل پر غالب آگئی۔ وادی کشمیر کے پانچ انتخابی حلقوں کے رائے دہندوں کا ہجوم اپنے حق رائے دہی استعمال کرنے کے لئے مراکز رائے دہی پر جمع ہوگیا تھا۔ آج پانچ مرحلوں پر مشتمل ریاستی انتخابات کا پہلا مرحلہ تھا۔ مراکز رائے دہی پر رائے دہندوں کی طویل قطاریں جمہوری عمل میں حصہ لینے اور آئندہ چھ سال کے لئے اپنے نمائندوں کا انتخاب کرنے کی عوامی خواہش کا اظہار تھیں۔ مخالف انتخابات مواد علیحدگی پسند تنظیموں نے ہر جگہ چسپاں کیا تھا لیکن رائے دہندے اس سے متاثر نہیں ہوئے۔ ہجین ٹاؤن میں قائم کردہ مراکز رائے دہی پر جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ سرگرم ہے اور اس نے رائے دہی کے بائیکاٹ کیلئے سرگرمی سے کوشش کی تھی، اور بائیکاٹ کی اپیل پر مشتمل پوسٹر جگہ جگہ چسپاں کئے تھے، لیکن رائے دہندوں نے ان کو نظرانداز کردیا اور مقررہ وقت 8 بجے صبح سے بھی ایک گھنٹہ قبل مراکز رائے دہی پر رائے دہندوں کا ہجوم دیکھا گیا۔ تین مراکز رائے دہی پر پہلے دو گھنٹے میں 10 بجے دن تک 18 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی۔ اس حلقہ میں اہل رائے دہندوں کی جملہ تعداد 2027 ہے۔ پہلے دو گھنٹوں میں 368 ووٹ استعمال کئے جاچکے تھے۔ ایک 65 سالہ رائے دہندہ غلام احمد پارے نے کہا کہ رائے دہی کا بائیکاٹ آج کل کوئی معنی نہیں رکھتا۔ ہم برسوں سے دیکھ رہے ہیں کہ ایک رکن اسمبلی اس کو حاصل ووٹوں کا لحاظ کئے بغیر منتخب ہوجاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جتنی کم رائے دہی ہو، اتنا ہی غلط آدمیوں کے لئے اتنا ہی مفید ہوتا ہے۔ ایک حقیقی نمائندہ وہی ہوتا ہے جو اپنے حلقہ کے عوام کے سامنے جوابدہ رہے۔ رائے دہندوں کی طویل قطاریں ڈنگرپورہ، گنڈ خلیل، نائد کھائی، باندی پورہ اور سمبل مراکز رائے دہی پر دیکھی گئیں۔ دہشت گردوں نے ایک مرکز رائے دہی پر نائد کھائی میں بم حملہ کیا تھا لیکن بم مرکز رائے دہی سے کچھ فاصلے پر پھٹ پڑا۔ رائے دہندے دوڑنے کے بجائے قطار میں پرسکون انداز میں کھڑے رہے اور اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ ایسا ہی ایک اور واقعہ نوپورہ میں پیش آیا۔ لیہہ میں ہڈیوں کو ٹھٹھڑا دینے والی سردی بھی رائے دہندوں کو حق رائے دہی سے استفادہ کرنے سے باز نہ رکھ سکی۔ علی الصبح ووٹ دینے والوں میں بی جے پی کے امیدوار چھیرنگ ڈورجی اور حلقہ لیہہ کے ایم پی تھوپ اسٹانگ چھیونگ بھی شامل تھے۔

TOPPOPULARRECENT