Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / کشمیر میں ’رائے شماری‘ کرائی جائے : جیوتر ادتیہ سندھیا

کشمیر میں ’رائے شماری‘ کرائی جائے : جیوتر ادتیہ سندھیا

جس حکومت کو عوام کے ساتھ ہونا چاہئے وہی ان کیخلاف ہتھیار استعمال کررہی ہے، لوک سبھا میں بیان

نئی دہلی ۔ 20 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس لیڈر جیوتر ادتیہ سندھیا نے آج لوک سبھا میں کہا کہ کشمیر میں ’’استصواب عامہ‘‘ کرانا چاہئے کیونکہ وادی کی صورتحال انتہائی ابتر ہوچکی ہے اور پی ڈی پی ۔ بی جے پی حکومت نے ہندوستان کے ’’تاج‘‘ کی توہین کی ہے۔ آج ایوان میں کشمیر کی صورتحال پر بحث شروع کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یہاں استصواب عامہ کی ضرورت ہے۔ سندھیا نے اردو لفظ ’’رائے شماری‘‘ کا استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی ۔ بی جے پی حکومت نے تمام اصولوں کو بالائے طاق رکھ دیا ہے۔ انتظامیہ منقسم ہے اور حکومت کا بھی یہی حال ہے۔ جسے عوام کی تائید کرنی چاہئے تھی وہ ان ہی کے خلاف ہتھیار استعمال کررہے ہیں۔ سندھیا نے کہا کہ جو زخم پہنچائے گئے ہیں انہیں صرف انسانیت کے ذریعہ ہی مندمل کیا جاسکتا ہے۔ مرکز اور ریاستی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کانگریس کے چیف وہپ نے کہا کہ جموں کشمیر میں امن اور ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ ترقی کا ماحول فراہم کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کشمیر کو ہر ہندوستانی کے دل کا اہم حصہ قرار دیا اور کہا کہ آج کی صورتحال بالکل برعکس ہوچکی ہے جہاں اس تاج کی توہین کی جارہی ہے۔ ان کی نظر میں یہ انتہائی غیرذمہ دارانہ طرزعمل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یو پی اے حکومت نے ہر شخص کو ترقی کے سفر میں شامل کرتے ہوئے امن و ہم آہنگی کا ماحول تیار کیا تھا لیکن حقیقت یہ ہیکہ جموں و کشمیر میں اس وقت بغیر رضامندی کی شادی طئے پائی ہے۔ ان کا اشارہ پی ڈی پی اور بی جے پی کے مابین اتحاد کی طرف تھا۔

حقیقت یہ ہیکہ ریاستی حکومت میں آج شناخت کا بحران پایا جاتا ہے۔ یہ بالکل واضح ہوچکا ہیکہ ریاست میں سیاسی حالات ٹھیک نہیں اور عسکریت پسندی کو بڑھاوا مل رہا ہے۔ ریاست کی 60 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر کی  ہے۔ اگر ہم انہیں مواقع فراہم نہیں کریں گے تو وہ عسکریت پسندی کی راہ پر ڈھکیل دیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت وادی کے عوام کو تحفظ اور سلامتی فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ گذشتہ دو سال کے دوران مداخلت کاری کے واقعات میں 65 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح فوجیوں کی ہلاکت کے واقعات میں 47 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے حکومت کو زور دیا کہ وہ سرحدوں کو محفوظ بنائے۔ عوام کا تحفظ یقینی بنایا جائے قبل اس کے کہ دیر ہوجائے۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں لیکن آپ کو منصوبہ بند طور پر کام کرنا ہوگا۔

زائد خودمختاری دی جائے ورنہ بھاری قیمت چکانی پڑیگی : چدمبرم
نئی دہلی ۔ 20 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) کشمیر کی صورتحال کے فوری اور ضروری حل کے طور پر سینئر کانگریس لیڈر اور سابق وزیرداخلہ پی چدمبرم نے وسیع تر خودمختاری کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کشمیر کے ہندوستان سے الحاق کے وقت کیا مراعات کو بحال کرنے کی وکالت کی اور خبردار کیا کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں ملک کو ’’بھاری قیمت‘‘ چکانی پڑے گی۔ انڈیا ٹوڈے پر کرن تھاپر کے پروگرام میں پی چدمبرم نے کہا کہ حکومت کا موجودہ رویہ وہ سمجھتے ہیں غلط ہے۔ ہم نے ان عظیم مراعات کو نظرانداز کردیا جس کے تحت کشمیرکو ہندوستان میں شامل رکھا گیا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے یہ بھروسہ ختم کردیا۔ ہم نے ان وعدوں کو بھی فراموش کردیا اس کا نتیجہ یہ ہیکہ ہم بھاری قیمت چکا رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس مسئلہ کا بہترین حل یہی ہوسکتا ہے کہ مرکزی حکومت کشمیر کے عوام کو یہ تیقن دے کہ کشمیرکے الحاق کے دوران جن مراعات کا وعدہ کیا گیا تھا ان کا پورا احترام کیا جائے گا۔ چدمبرم نے کہا کہ ہوسکتا ہے ان کی یہ تجویز غلط ہو لیکن ضروری ہے کہ اس وعدہ کو برقرار رکھنے کا تیقن دیا جائے۔ کشمیر کے عوام کو خود اپنا قانون جہاں تک ممکن ہوسکے بنانے کا موقع دیا جانا چاہئے اور یہ دستور کے مغائر بھی نہیں ہے۔ چدمبرم نے کہاکہ ہمیں اس بات کی یقین دہانی کرانی ہوگی کہ کشمیری عوام کی شناخت، تاریخ، تہذیب، مذہب کا احترام کیا جائے گا۔ سری لنکا کو شمال اور مشرقی ٹامل علاقوں میں زیادہ اختیارات تفویض کرنے کا ہندوستان نے مشورہ دیا تھا۔ انہوں نے اس کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم جو سبق سری لنکا کو سکھا رہے ہیں ضرورت اس بات کی ہیکہ خود بھی اس پر عمل کریں۔ چدمبرم نے کہا کہ کشمیر کی صورتحال سے سرینگر اور نئی دہلی میں پیشرو حکومتوں نے صحیح طور پر نہیں نمٹا اور موجودہ حکومت نے تو اس صورتحال کو مزید ابتر بنادیا۔

TOPPOPULARRECENT