Friday , January 19 2018
Home / Top Stories / کشمیر میں سمینار منعقد کرنے علحدگی پسندوں کی کوشش ناکام

کشمیر میں سمینار منعقد کرنے علحدگی پسندوں کی کوشش ناکام

سرینگر۔14جون ( سیاست ڈاٹ کام ) عہدیداروں نے سخت گیر حُریت کانفرنس کے آج سمینار منعقد کرنے کے منصوبوں کو ناکام بنادیا جب کہ کئی قائدین بشمول سخت گیر حُریت کانفرنس کے صدر نشین سید علی شاہ گیلانی کو ان کی قیامگاہوں کو نظربند کردیا گیا ۔ گیلانی کی قیام گاہ کو غیر سرکاری قیدخانے میں تبدیل کردیا گیا تھا ۔ کسی کو بھی مکان میں داخل ہونے یا با

سرینگر۔14جون ( سیاست ڈاٹ کام ) عہدیداروں نے سخت گیر حُریت کانفرنس کے آج سمینار منعقد کرنے کے منصوبوں کو ناکام بنادیا جب کہ کئی قائدین بشمول سخت گیر حُریت کانفرنس کے صدر نشین سید علی شاہ گیلانی کو ان کی قیامگاہوں کو نظربند کردیا گیا ۔ گیلانی کی قیام گاہ کو غیر سرکاری قیدخانے میں تبدیل کردیا گیا تھا ۔ کسی کو بھی مکان میں داخل ہونے یا باہر آنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ گیلانی کے ایک قریبی بااعتماد ساتھی نے کہا کہ گیلانی کو گذشتہ ہفتہ سے قیام گاہ پر نظربند کردیا گیا ہے ۔ حُریت کے ترجمان محمد اشرف صحرائی ‘ ایاز اکبر اور راجا معراج الدین کو بھی اُن کی قیامگاہوں پر کل سے نظربند کردیا گیا ۔ گیلانی نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پُرامن پروگراموں کے بارے میں بھی عدم رواداری کا مظاہرہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مکمل طور پر نظریات کی جنگ کو دفن کردیا ہے ۔ چیف منسٹر مفتی محمد سعید کا یہی نعرہ ہے ۔ گیلانی نے اپنے بیان میں کہا کہ حُریت نے ایک سمینار منعقد کرنے کا منصوبہ بنایا تھا جس کو کئی علحدگی پسند قائدین بشمول سکھ گروپس اور عیسائی برادری کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا تھا ۔ حُریت کانفرنس نے فیصلہ کیا تھا کہ 14جون کو سرینگر میں ایک سمینار منعقد کیا جائے جس میں مختلف شعبہ ہائے حیات سے نمائندوں کو مدعو کیا جائے

جو ’’ مملکت ہندوستان کی فسطائیت کی مزاحمت کا طریقہ ‘‘ کے موضوع پر اظہار کریں گے ۔ جاریہ ہفتہ کے اوائل میں سخت گیر حُریت کانفرنس کے ترجمان نے اس کی اطلاع دی تھی ۔ جن افراد کو سمینار میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی اُن میں اکالی دل کے قائد سمرن جیت سنگھ مان ‘ دل خالصا کے قائد کنور پال سنگھ ‘ انسانی حقوق کے کارکن گوتم نولاکھا اور عیسائی برادری کے نمائندے شامل تھے ۔ڈپٹی چیف منسٹر نرمل سنگھ نے جمعہ کے دن جموں میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت ’’ہند دشمن ‘‘ سرگرمیوں کی ریاست میں اجازت نہیں دے گی ۔ ایسے کسی جلسہ عام یا سمینار کی اجازت دی جائے گی ۔ دریں اثناء سوپور سے موصولہ اطلاع کے بموجب مشتبہ بندوق برداروں نے جن پر حذب المجاہدین کے گروپ قیام نذروالا زیرقیادت گروپ کے ہونے کا شبہ کیا جارہا ہے ‘ ایک دکاندار کو گولی مار کر ہلاک کردیا ۔ شمالی کشمیر کے اس قصبہ میں جاریہ ہفتہ یہ تیسرے شہری کی ہلاکت ہے ۔معراج الدین بھٹ جو چکن فروخت کرنے کی دکان کا مالک تھا

آج اس کی دکان ۔ مکان کے باہر بادامی باغ کے علاقہ میں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا جب کہ وہ ایک گاہک کو مُرغ فروخت کررہا تھا ۔ عینی شاہدین کے بموجب حملہ آور ایک ویان میںآئے تھے اور انہوں نے اُس کا نام لیکر پُرزور آواز میں پکارا تھا جب بھٹ اُن کی طرف مڑا تو عسکریت پسندوں نے اُس پر انتہائی قریب سے پانچ گولیاں چلائیں ‘ اُسے فوری ضلع ہاسپٹل منتقل کیا گیا جہاں اُس کے مردہ ہونے کی توثیق ہوگئی ۔کسی بھی عسکریت پسند گروپ نے تاحال اس ہلاکت کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے ۔ وسیع تر پیمانے پر سمجھا جاتا ہے کہ نذروالا گروپ حالیہ واقعات کے پس پردہ ہے جس میں بندوق کے کلچر کی مخالفت کرنے والے لوگوں کو ہلاک کیا جارہا ہے ۔ یہ ممنوعہ عسکریت پسند تنظیم کے کارکن بھی ہوسکتے ہیں جنہوں نے بھٹ پر حملہ کیا تھا ۔ بھٹ جے کے ایل ایف کا رکن تھا لیکن اُس نے 1990ء کی دہائی کے اواخر میں سزائے قید بھگتنے کے بعد رہائی کے بعد خودسپردگی کرلی تھی اور اپنا خاندانی کاروبار شروع کردیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT