Monday , November 20 2017
Home / ہندوستان / کشمیر میں سنگباری سے نمٹنے فورسس کو خصوصی ٹریننگ

کشمیر میں سنگباری سے نمٹنے فورسس کو خصوصی ٹریننگ

جے کے پولیس، آر می اور سی آر پی ایف میں تال میل کے ساتھ پیشرفت: ڈی جی بھٹناگر
سری نگر۔ 16اگست (سیاست ڈاٹ کام) پولیس اور نیم فوجی سی آر پی ایف کے جوانوں کو معیاری طریقوں سے تربیت دی جارہی ہے تاکہ وہ کشمیر میں سنگباری کے واقعات سے بہتر طور پر نمٹ سکے، سی آر پی ایف ڈائرکٹر جنرل آر آر بھٹناگر نے آج یہ بات کہی۔ انہوں نے بتایا کہ حکمت عملی، ٹریننگ اور نئے طریقوں کو استعمال میں لایا جارہا ہے۔ زیادہ تر غیر مہلک اسلحہ استعمال کئے جارہے ہیں اور اہم نے جے کے پولیس کے ساتھ مل کر حکمت عملی ترتیب دی ہے جسے ہڑتالوں اور پتھرائو کے واقعات کے دوران بروئے کار لایا جائے گا اور آپ اس کا اثر عنقریب دیکھیں گے۔ ڈائرکٹر جنرل ایک تقریب کے موقع پر میڈیا والوں سے بات چیت کررہے تھے۔ یہ تقریب ڈیوٹی پر مارے جانے والے پیرا ملٹری پرسونل کی بیوائوں کے لیے منعقد کی گئی۔ اس طرح کے مہلوکین میں کمانڈنٹ پرمود کمار بھی تھے جو گزشتہ سال 15 اگست کو عسکری حملے میں ہلاک ہوئے۔ کشمیر میں انسداد شورش پسندی آپریشنس کے بارے میں بھٹناگر نے کہا کہ سکیوریٹی فورسس کامیابی کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ جے کے پولیس، آر می اور سی آر پی ایف کے درمیان اچھا تال میل ہے اور وہ تمام ایک جٹ ہوکر کام کررہے ہیں اور ان کے آپریشنس مستقبل میں بھی جاری رہیں گے۔ حزب المجاہدین کے آپریشنل کمانڈر یاسین ایتو کی گزشتہ ہفتے ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے ڈی جی سی آر پی ایف نے کہا کہ اس سال 7 کمانڈروں کو مارا گیا اور 132 دہشت گروں کو بے اثر کیا گیا۔ آنے والے وقت میں ہمیں مزید کامیابی حاصل ہوگی۔ بھٹناگر نے وادی میں سرگرم عسکریت پسندوں کی تعداد کے بارے میں لب کشائی سے انکار کیا لیکن دہرایا کہ انسداد عسکریت پسندی آپریشنس جاری ہیں اور جو کوئی اس راہ کو اختیار کرے گا اسے کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ علیحدگی پسندوں اور دہشت گردی کو فنڈس کے تعلق سے جاری این آئی اے تحقیقات کے بارے میں بھٹناگر نے کہا کہ اس سے ضرور اثر پڑے گا۔ غیر قانونی چیزیں، غیر قانونی فنڈس یا تو دہشت گردی کے لیے ہوتے ہیں یا لا اینڈ آرڈر کو بگاڑنے یا سنگباری کی حوصلہ افزائی کے لیے ہوتے ہیں۔ این آئی اے کے ان کے خلاف دھاوئوں کا اثر ضرور ہوگا۔ مثبت اثر معلوم ہونا شروع ہوگیا ہے۔ ڈی جی سی آر پی ایف نے کشمیر کی صورتحال کو بلاشبہ قابو میں بتایا۔

TOPPOPULARRECENT