Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / کشمیر میں سکیورٹی فورسیس سے جھڑپیں ، 11ہلاک ، امرناتھ یاترا معطل

کشمیر میں سکیورٹی فورسیس سے جھڑپیں ، 11ہلاک ، امرناتھ یاترا معطل

حزب کمانڈر برہان کی انکاؤنٹر میں ہلاکت پر پُرتشدد احتجاج ، جلوس جنازہ میں ہزارہا افراد شریک ، کئی سرکاری عمارتیں نذر آتش
سرینگر ، 9 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) کشمیر آج بڑے پیمانے پر ہجوم کے تشدد اور جھڑپوں سے دہل گیا جس کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک اور 96 سکیورٹی فورسیس جوانوں کے بشمول 126 دیگر زخمی ہوگئے جبکہ ساری وادی میں کرفیو نافذ کردیا گیا اور موبائل انٹرنٹ سرویسیس معطل کردی گئیں تاکہ عسکری کمانڈر برہان وانی کے انکاؤنٹر کے اثرات پر قابو پایا جاسکے۔ ایک اعلیـ عہدہ دار نے کہا کہ ساری وادی میں کرفیو لگادیا گیا ہے اور مزید گڑبڑ کو ٹالنے کیلئے تحدیدات عائد کی گئی ہیں۔ پولیس نے کہا کہ تین پولیس ملازمین لاپتہ بھی ہیں جبکہ بڑے ہجوم نے ایک پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا، اسے نذر آتش کردیا اور وہاں کے اسلحہ سے فائرنگ کرتے ہوئے تین پولیس والوں کو زخمی کیا۔ احتجاجوں کے درمیان عسکریت پسندوں نے پلوامہ کے ایک پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا، جسے سکیورٹی فورسیس نے ناکام بنایا۔ کشیدہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے امرناتھ یاترا کو معطل بھی کردیا گیا، جس کے تعلق سے پولیس کا کہنا ہے کہ جیسے ہی یاتریوں کی سکیورٹی یقینی بنانا ممکن ہوجائے اسے بحال کردیا جائے گا۔ چیف منسٹر محبوبہ مفتی نے احتجاجوں کے دوران اموات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے تحمل برتنے کی اپیل کی اور سکیورٹی فورسیس سے کہا کہ ہجوم پر کنٹرول کیلئے طاقت کے بیجا استعمال سے گریز کریں۔ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ مرکز وادیٔ کشمیر میں معمول کی صورتحال واپس لانے کیلئے ریاستی حکومت کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے۔ انھوں نے کشمیر میں تشدد کے واقعات میں قیمتی جانوں کے نقصان پر گہرے تاسف کا اظہار بھی کیا

اور امن کیلئے اپیل کی۔ عسکریت پسند تنظیم حزب المجاہدین کے ’پوسٹر بوائے‘ 21 سالہ برہان کو اُس کے آبائی مقام ترال میں سپردِ لحد کیا گیا اور اس موقع پر پُرتشدد ہجوموں نے وادی کے مختلف مقامات پر پولیس اور پیراملٹری فورسیس کی تنصیبات پر حملے کئے اور تین پولیس اسٹیشنوں کے بشمول کئی عمارتوں کو آگ لگا دی، جس کے بعد سے تین پولیس ملازمین لاپتہ ہیں۔ برہان کے جلوس جنازہ میں ہزارہا افراد شریک ہوئے۔ ترال اور پڑوسی علاقوں میں سکیورٹی فورسیس کی کوئی تعیناتی نہ تھی تاکہ جلوسِ جنازہ میں حصہ لینے کیلئے آنے والے لوگوں کے ساتھ ٹکراؤ کو ٹالا جاسکے۔ ’’ہمارے لئے آج نہایت مشکل دن گزرا‘‘ یہ الفاظ اے ڈی جی پی (سی آئی ڈی) جے اینڈ کے پولیس ایس ایم سہائے کے ہیں، جنھوں نے بعض حصوں کی صورتحال کو خراب قرار دیا، شمالی کشمیر جیسے علاقوں کے تعلق سے کہا کہ وہاں کے حالات نازک نہیں ہیں اور سرینگر کی حالت کو قابو میں بتایا۔ برہان کے انکاؤنٹر کے ایک روز بعد آج وادی کے مختلف مقامات پر پُرتشدد احتجاجیوں اور سکیورٹی فورسیس کے درمیان جھڑپوں میں گیارہ افراد ہلاک ہوگئے۔ سہائے نے کہا کہ آٹھ کی ہلاکت سکیورٹی فورسیس کی جانب سے ’’جوابی‘‘ کارروائی میں ہوئی، نیز ایک شخص کی موت غرقابی سے ہوئی۔ مختلف سوالات پر جس میں یہ شامل ہے کہ کیوں برہان کو گولی مار دی گئی اور زندہ نہیں پکڑا گیا، سہائے نے کہا: ’’ہم بلاشبہ ہمارے اپنے سماج کے نوجوانوں کو ہلاک کردینا نہیں چاہتے ہیں۔‘‘ انھوں نے کہا کہ حزب کمانڈر اور دو دیگر تب مارے گئے جب فورسیس نے جوابی کارروائی کی کیونکہ تینوں نے اپنی روپوشی والے مکان سے فائرنگ شروع کردی تھی۔ اُس فائرنگ میں دو جوان زخمی ہوئے۔

TOPPOPULARRECENT