کشمیر میں علیحدگی پسند تنظیموں کے بند سے عام زندگی متاثر

سرینگر 11 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) کشمیر میں آج علیحدگی پسند گروپس کی جانب سے بند کی اپیل پر عام زندگی متاثر ہوگئی جبکہ وادی میں مہاجر اقلیتی برادری (کشمیری پنڈت) کیلئے علیحدہ ٹاؤن شپ کے قیام کی تجویز کے خلاف یہ احتجاج کیا گیا تھا۔ سرینگر میں دوکانات، تجارتی اور تعلیمی ادارے اور پٹرول پمپس بند رکھے گئے جبکہ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں

سرینگر 11 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) کشمیر میں آج علیحدگی پسند گروپس کی جانب سے بند کی اپیل پر عام زندگی متاثر ہوگئی جبکہ وادی میں مہاجر اقلیتی برادری (کشمیری پنڈت) کیلئے علیحدہ ٹاؤن شپ کے قیام کی تجویز کے خلاف یہ احتجاج کیا گیا تھا۔ سرینگر میں دوکانات، تجارتی اور تعلیمی ادارے اور پٹرول پمپس بند رکھے گئے جبکہ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں ملازمین کی حاضری معمولی رہی۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ عوامی ٹرانسپورٹ سڑکوں سے ہٹادیا گیا جبکہ خانگی کاریں، کیابس اور آٹو رکشا بعض مقامات پر چلائے گئے۔ وادی کشمیر کے دیگر اضلاع ہیڈکوارٹرس سے بھی اسی نوعیت کی رپورٹس موصول ہوئی ہیں۔ علیحدگی پسند تنظیموں بشمول جے کے ایل ایف اور حریت کانفرنس کے منقسمہ گروپس نے آج وادی میں کشمیری پنڈتوں کے لئے خصوصی کالونیوں کی تعمیر کے خلاف بند منانے کا اعلان کیا تھا۔ چیف منسٹر مفتی محمد سعید نے ریاستی اسمبلی میں یہ وضاحت کردی تھی کہ کشمیری پنڈتوں کیلئے علیحدہ ٹاؤن شپ کی تعمیر کا کوئی منصوبہ نہیں ہے

لیکن اقلیتی برادری کی وادی کشمیر کو واپسی کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔ اس تجویز کے خلاف لال چوک کے علاقہ میسومہ اور دیگر مقامات پر کل بھی احتجاجی مظاہرے کئے گئے تھے۔ وادی میں مقیم کشمیری پنڈتوں کا ایک گروپ جے کے ایل ایف کے احتجاج میں شامل ہوگیا تھا اور کہا تھا کہ مہاجر پنڈتوں کیلئے خصوصی کالونیوں کی تعمیر کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ دریں اثناء وشوا ہندو پریشد نے آج مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ کشمیری پنڈتوں کی وادی کو واپسی کے منصوبہ بندی سے قبل انھیں اعتماد میں لینے کیلئے مشاورت کریں۔ دائیں بازو کی کٹر ہندو تنظیم نے یہ اعلان کیا ہے کہ علیحدگی پسندوں کو بے نقاب کرنے کیلئے ملک گیر سطح پر بیداری مہم چلائی جائے گی جوکہ کشمیری پنڈتوں کی وادی کو واپسی کے مخالف ہیں۔ وی ایچ پی کے ریاستی سرپرست رما کانت دوبے نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ وادی کشمیر میں عزت و احترام کے ساتھ پنڈتوں کی بازآبادکاری کی جانی چاہئے

کیونکہ گزشتہ 5000 سال سے کشمیر میں وہ حق ملکیت رکھتے ہیں لیکن پنڈتوں کی واپسی اور بازآبادکاری سے قبل انھیں اعتماد میں لیا جائے۔ اُنھوں نے یہ شکایت کی کہ حکومت نے اب تک پنڈتوں کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی اور نہ ہی کشمیر میں بازآبادکاری کے طریقہ کار کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔ واضح رہے کہ جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے عروج کے زمانہ میں عسکریت پسندوں نے کشمیری پنڈتوں کو بھی نشانہ بنایا تھا جس کے باعث کشمیریت کا جذبہ مجروح ہوگیا اور اپنی جان بچانے کے لئے کشمیری پنڈت محفوظ علاقوں بالخصوص قومی دارالحکومت نئی دہلی میں پناہ حاصل کرلی تھی۔ چونکہ پنڈتوں کی واپسی کیلئے ہنوز حالات سازگار نہیں ہیں جس کے پیش نظر ہندو تنظیمیں فرقہ وارانہ خطوط پر کشمیر کو تقسیم کرنے کیلئے مہم چلارہی ہیں اور اس مقصد کے لئے چیف منسٹر مفتی محمد سعید پر زبردست دباؤ ڈالا جارہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT