Saturday , June 23 2018
Home / Top Stories / کشمیر میں فوجی کیمپ پر عسکریت پسندوں کا حملہ ‘ 11 سکیوریٹی اہلکار ہلاک

کشمیر میں فوجی کیمپ پر عسکریت پسندوں کا حملہ ‘ 11 سکیوریٹی اہلکار ہلاک

سرینگر 5 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) عسکریت پسندوں نے آج جموں و کشمیر میں ایک فوجی کیمپ پر بارہمولہ ضلع کے اوری سیکٹر میں حملہ کیا ۔ اس حملہ میں تقریبا 11 سکیوریٹی اہلکار ہلاک ہوگئے جن میں ایک لیفٹننٹ کرنل بھی شامل ہے ۔ اس کے بعد سرینگر اور شوپیان میں کئی دوسرے مقامات پر بھی حملے کئے گئے ہیں۔ عسکریت پسندوں نے یہ حملے وزیر اعظم نریندر مودی ک

سرینگر 5 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) عسکریت پسندوں نے آج جموں و کشمیر میں ایک فوجی کیمپ پر بارہمولہ ضلع کے اوری سیکٹر میں حملہ کیا ۔ اس حملہ میں تقریبا 11 سکیوریٹی اہلکار ہلاک ہوگئے جن میں ایک لیفٹننٹ کرنل بھی شامل ہے ۔ اس کے بعد سرینگر اور شوپیان میں کئی دوسرے مقامات پر بھی حملے کئے گئے ہیں۔ عسکریت پسندوں نے یہ حملے وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ سے دو دن قبل کئے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ اس حملہ میں لشکر طیبہ کے ایک اعلی کمانڈر اور سات دوسرے عسکریت پسند بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔ حملوں میں ایک عام شہری کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاع ہے ۔ اطلاعات کے بموجب آج صبح کی اولین ساعتوں میں انتہائی مسلح عسکریت پسندوں نے شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع میں یوری تحصیل میں مہرہ کے مقام پر فوجی کیمپ پر حملہ کیا ۔ اس کارروائی میں انہوں نے آٹھ فوجیوں اور تین پولیس اہلکاروں کو ہلاک کردیا ۔ یہ حملہ صبح 3.10 بجے کیا گیا ۔ فوجی کیمپ لائین آف کنٹرول سے 20 کیلومیٹر اندر ہے جس پر حملہ کے دوران چھ عسکریت پسند بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔ سرکاری ذرائع نے یہ بات بتائی ۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب ریجمنٹ کے لیفٹننٹ کرنل اور سات دوسرے فوجی اہلکار ‘ اس کارروائی میں ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔ ذرائع نے کہا کہ چار فوجی عہدیداروں کی نعشیں جل کر خاکستر ہوگئی ہیں جبکہ ایک نعش پر جھلسنے کے زخم ہیں ۔ دوسری تین نعشوں پر گولیوں کے زخم پائے گئے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ حملہ کے مقام سے چھ اے کے رائفلیں ‘ 55 راونڈ میگزینس ‘ دو شاٹ گنس ‘ دو نائیٹ ویژن عینکیں ‘ چار ریڈیو سیٹس ‘ 32 غیر مستعملہ گرینیڈز ‘ ایک میڈیکل کٹ اور بھاری مقدار میں ساز و سامان ضبط کیا گیا ہے ۔ یوری سیکٹر سرینگر سے 100 کیلومیٹر شمال مغرب میں ہے جہاں وزیر اعظم نریندر مودی پیر کو بی جے پی کی انتخابی مہم میں حصہ لینے والے ہیں۔ ذرائع نے کہا کہ نریندر مودی وادی کے دورہ کو برقرار رکھے ہوئے ہیں جہاں وہ انتخابی ریلی سے خطاب کرنے والے ہیں۔ جموں علاقہ کے راجوری میں وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ پاکستان کو چاہئے کہ وہ اس طرح کے واقعات کو روکے ۔

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان ان کو روکنے میں مسائل کا شکار ہے تو اسے ہندوستان سے بات کرنی چاہئے ۔ ہم اسکی مدد کرنے کو تیار ہیں۔ چیف منسٹر جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ حملہ امن اور معمول کے حالات کو متاثر کرنے کی مایوسانہ کوشش ہے ۔ انہوں نے اپنے ٹوئیٹر پر کہا کہ ایک بار پھر واضح ہوگیا ہے کہ عسکریت پسند امن اور معمول کے حالات کو متاثر کرنے کیلئے مایوسی کی حد تک جاسکتے ہیں۔ پولیس نے کہا کہ چھ عسکریت پسند حال ہی میں پاکستان مقبوضہ کشمیر سے وادی میں گھس آئے تھے ۔ حملے کی تفصیل بتاتے ہوئے فوجی عہدیداروں نے کہا کہ انتہائی مسلح عسکریت پسندوں کا ایک گروپ فوجی کیمپ آیا اور اس نے بھاری اور خود کار ہتھیاروں سے بے دریغ فائرنگ کا سلسلہ شروع کردیا ۔ فوج نے فوری جوابی فائرنگ کا آغاز کیا اور قریبی کیمپوں سے مدد بھی لی گئی ۔ تقریبا چھ گھنٹوں تک یہ کارروائی جاری رہی ۔ انہوں نے کہا کہ ایک لیفٹننٹ کرنل اور دیگر سات فوجی جوانوں کے علاوہ جموں و کشمیر پولیس کا ایک اے ایس آئی اور دو کانسٹیبلس بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT