Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / کشمیر میں مسلسل پانچویں دن عام زندگی مفلوج

کشمیر میں مسلسل پانچویں دن عام زندگی مفلوج

سرینگر ۔ 13 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) وادی کشمیر کے پاسپور اور کوپوارہ ٹاؤنس کے بشمول چند حصوں میں کرفیو برقرار ہے اور ساری وادی میں عوام کی نقل و حرکت پر تحدیدات عائد کردی گئی ہیں۔ اس دوران سیکورٹی فورسیس اور احتجاجیوں کے درمیان جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 34 تک پہنچ گئی ہے۔ حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی جمعہ کو سیکورٹی فورسیس کے ساتھ مبینہ انکاؤنٹر میں ہلاکت کے بعد پھوٹ پڑنے والی جھڑپوں میں مزید سات افراد کی ہلاکت کی حکام نے توثیق کی ہے۔ ایک پولیس عہدیدار نے کہا کہ ’’ہجوم کے تشدد میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد آج 34 تک پہنچ گئی جن میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہے۔ علاوہ ازیں ایک سویلین بھی شامل ہے جو ایس کے آئی ایم ایس ہاسپٹل میں آج صبح زخموں سے جانبر نہ ہوسکا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ایک عام شہری مشتاق احمد ڈار ہفتہ کی صبح ضلع کلگام کے کھڈوانی علاقہ میں زخمی ہوگیا تھا آج صبح فوت ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ اکثر افراد ہفتہ کو اس وقت ہلاک ہوئے جب جنوبی کشمیر میں ہجوم کی جانب سے پولیس اور سیکوریٹی تنصیبات پر حملے کئے جارہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہفتہ کو تمام اموات کا شمار نہیں کیا جاسکا کیونکہ حالات نے قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو اس کا موقع نہیں دیا تھا۔ ڈیویژنل کمشنر کشمیر، اصغر سمعون نے کہا کہ جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے عام شہریوں کی تعداد 22 ہے۔ سیکوریٹی فورسیس کے ساتھ جھڑپوں میں سویلیئنس کی ہلاکتوں کے خلاف علحدگی پسند گروپوں کے احتجاج کے سبب وادی کشمیر میں لگاتار پانچویں دن آج بھی عام زندگی مفلوج رہی۔

 

زخم مندمل کئے جائیں گے، محبوبہ مفتی کا وعدہ
سرینگر۔ 13 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر جموں و کشمیر محبوبہ مفتی نے وادی میں ہلاکتوں پر انتہائی رنج کا اظہار کرتے ہوئے ان زخموں کو مندمل کرنے کا وعدہ کیا۔ انہوں نے جموں و کشمیر میں تشدد اور خونریزی کو ختم کرنے کیلئے عوامی تائید کی خواہش کی۔ محبوبہ مفتی نے 1931 کے شہداء کو خراج پیش کرنے کے بعد کہا کہ 27 سال سے جاری تشدد نے ہر گھر کو متاثر کیا ہے اور ہمارے عوام کو مزید خونریزی و تباہی سے روکنا ہوگا۔
محبوبہ حکومت کی بے شرمی ، حالات بحال ہونے کا جھوٹا تاثر
کیا مودی کیرالا کی طرح ماہرین کو روانہ کریں گے ؟ عمرعبداللہ کا ٹوئیٹ
اپوزیشن نیشنل کانفرنس لیڈر عمر عبداللہ نے محبوبہ مفتی حکومت پر ترجیحات کو بدل دینے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ چیف منسٹر محبوبہ مفتی بے شرمی سے یہ پیام دینے کی کوشش کررہی ہیں کہ تشدد سے متاثرہ ریاست میں عام حالات بحال ہوچکے ہیں۔ انہوں نے ٹوئیٹر پر لکھا کہ محبوبہ مفتی حکومت کیلئے یہ انتہائی شرمناک پہلو ہیکہ سرکاری تقریب کیلئے پولیس کی بسوں میں عوام کو لے جایا جارہا ہے اور یہ تاثر دیا جارہا ہیکہ عام حالات بحال ہوچکے ہیں۔ ان کا اشارہ 1931 یوم شہیدان تقریب کی طرف تھا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت انتہائی بے شرم ہے جسے امن کی بحالی پر توجہ دینی چاہئے تھی اس کے علاوہ ان ڈاکٹرس کی مدد کرنی چاہئے جو 1200 سے زائد زخمیوں کا علاج کررہے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کو بھی مخاطب کرتے ہوئے ٹوئیٹ کیا کہ کیرالا میں آتشزدگی پر ماہرین کے گروپ پر مشتمل ڈاکٹرس کو ذریعہ طیارہ روانہ کیا جاتا ہے۔ کیا وزیراعظم کشمیر کو بھی ماہرین امراض چشم ؍ ٹراما روانہ کریں گے؟
علحدگی پسند گروپس نے وادی میں جاری ہڑتال میں 15 جولائی تک توسیع کا اعلان کیا ہے۔ حریت کانفرنس کے گروپس نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہیکہ وہ 14 اور 15 جولائی کو بھی مکمل ہڑتال کریں۔ اس سے پہلے 11 جولائی تک ہڑتال کی گئی تھی جس میں دو دن توسیع کی گئی۔ اس دوران کشمیر میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف جنتر منتر، دہلی میں طلبہ، حقوق انسانی کارکنوں اور وکلاء کی کثیر تعداد نے خاموش جلوس نکالا۔

TOPPOPULARRECENT