Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / کشمیر میں مصالحت کار کے تقرر سے فوجی کارروائیوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا

کشمیر میں مصالحت کار کے تقرر سے فوجی کارروائیوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا

حکومت کی حکمت عملی موثر ہونا ثابت، ہم طاقت کی بنیاد پر مذاکرات کررہے ہیں: فوجی سربراہ جنرل بپن راوت
نئی دہلی۔25 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) فوجی سربراہ جنرل بپن راوت نے آج کہا کہ کشمیر میں حکومت کی حکمت عملی موثر ترین ثابت ہوچکی ہے اور یہ کہ ہم بنیادی سطح سے طاقت کے بل پر مذاکرات کررہے ہیں۔ فوجی سربراہ کے حوالے سے کیا گیا ہے کہ کشمیر کے بارے میں حکومت کی حکمت عملی کام آچکی ہے۔ ہم طاقت کے نکتہ نظر سے ہی مذاکرات کررہے ہیں۔ وادی کی صورتحال بہتر ہورہی ہے اور دراندازی کے واقعات کم ہوچکے ہیں۔ جب ان سے انٹلیجنس بیورو کے سابق سربراہ دنیشورشرما کو جموں و کشمیر کے مصالحت کار کی حیثیت سے تقرر عمل میں لانے مرکز کے فیصلے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ مرکزی نمائندہ کی حیثیت سے دنیشور شرما کے تقرر کا فوجی کارروائیوں پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ وادی میں فوج اپنا کام کرے گی۔ حکومت نے انہیں مقرر کیا ہے تو انہیں کام کرنے دیجئے۔ اس تقرر کا ہمارے کام پر اثر نہیں پڑے گا۔ فوجی آپریشن غیرمتاثر رہیں گے۔ فوجی سربراہ نے بتایا کہ فوج اب الیکٹرانک وار فیر (EW) سسٹم کو حاصل کرنا چاہتی ہے۔ یہ سسٹم نہ صرف سرحد پر بلکہ اندرونی حصوں میں بھی استعمال کیا جائے گا۔ ہم اس ای ڈبلیو سسٹم کے حصول کیلئے کوشاں ہیں تاکہ فوج کو نہ صرف سرحدوں پر اس سسٹم کے ذریعہ چوکس رکھا جائے بلکہ اندرون حصوںل میں بھی اس کی مدد لی جائے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مغربی اور شمالی سرحدوں پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ فوج کو مطلوب تمام انٹلیجنس، سرویلنس اور دیگر اہم معلومات بھی فراہم کئے جائیں گے اور یہ صرف مربوط ٹیکنالوجی کے ذریعہ ہی ممکن ہوسکے گا۔ میان پاور کے ساتھ مربوط ٹیکنالوجی کی مدد سے سرحدی علاقوں کی نگرانی کی جائے گی۔ یہاں ایک سمینار سے خطاب کرتے ہوئے فوجی سربراہ نے صنعتی گھرانوں کے نمائندوں کو فوجی ڈیزائن بیورو کے ساتھ رابطہ کی دعوت دی تاکہ حکومت کے ’’میک اِن انڈیا‘‘ اقوام کو ترقی دی جاسکے، خاص کر ڈیفنس میں میک اِن انڈیا کے اختراعی کام انجام دیئے جاسکیں۔ فوجی ڈیزائن بیورو ایک ہی چھت کے نیچے دفاعی صنعت کو فروغ دینا ہے۔ جنرل راوت نے کہا کہ فوج کو عصری تقاضوں سے آراستہ کرنے کیلئے اس صنعت کو فوج کی جانب سے تمام معلومات اور ضروریات کی تفصیلات پیش کی جائیں گی۔ جنرل راوت نے مزید کہا کہ فوج کو عصری بنانے کے منصوبوں کو دیسی ساختہ ہتھیاروں کے ذریعہ پورا کیا جائے گا۔ انہوں نے اندرون ملک سکیورٹی ڈھانچہ کو بہتر بنانے پر خاص توجہ دی اور زور دیا کہ اُری اور پٹھان کوٹ جیسے دہشت گرد واقعات کو روکنے کیلئے انٹلیجنس اور نگران کار سسٹم کو تعینات کرنا ضروری ہے۔ ملک کے اندرونی حصوں میں سکیورٹی کے ٹھکانوں پر حملوں کی تشویش کے پیش نظر سکیورٹی سخت ہونی چاہئے۔ اس نے فوج نے الیکٹرانک ڈیوائس لگانے پر غور کیا ہے۔ حکومت نے وادیٔ کشمیر میں تشدد کو روکنے کیلئے اقدامات کئے ہیں اور تشدد میں گزشتہ ایک سال کے اندر 140 عسکریت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔ فوج کو عصری بنانے کیلئے منعقدہ سمینار سے خطاب میں فوجی سربراہ نے کہا کہ فوج کے لئے ایک وارننگ سسٹم کا ہونا ضروری ہے کیونکہ 18 ستمبر 2016ء کو کشمیر کے اُری سیکٹر میں فوجی کیمپ پر حملہ میں 19 سپاہی ہلاک ہوئے تھے۔ دس دن بعد ہندوستانی فوج نے لائن آف کنٹرول عبور کرکے پاک مقبوضہ کشمیر میں دہشت گرد ٹھکانوں کو تیار کررہا تھا۔ اس سال 2 جنوری کو پاکستان کے مسلح دہشت گردوں نے پٹھان کوٹ فوجی ٹھکانے پر حملہ کیا تھا جس میں 6 سپاہی ہلاک ہوئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT