Saturday , October 20 2018
Home / Top Stories / کشمیر میں واجپائی کی ’’انسانیت کی راہ‘‘ پر عمل

کشمیر میں واجپائی کی ’’انسانیت کی راہ‘‘ پر عمل

سرینگر ۔ 3 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر ارون جیٹلی نے آج کہا ہیکہ وزیراعظم نریندر مودی کی زیرقیادت حکومت جموں کشمیر میں اٹل بہاری واجپائی کی دکھائی ہوئی ’’انسانیت کی راہ ‘‘اختیار کئے ہوئے ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے بڈگام فائرنگ واقعہ کا حوالہ دیا جس میں فوج نے 9 سپاہیوں کو ماخوذ کیا ہے۔ مرکزی وزیرفینانس نے آج بی جے پی کے زیراہتمام

سرینگر ۔ 3 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر ارون جیٹلی نے آج کہا ہیکہ وزیراعظم نریندر مودی کی زیرقیادت حکومت جموں کشمیر میں اٹل بہاری واجپائی کی دکھائی ہوئی ’’انسانیت کی راہ ‘‘اختیار کئے ہوئے ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے بڈگام فائرنگ واقعہ کا حوالہ دیا جس میں فوج نے 9 سپاہیوں کو ماخوذ کیا ہے۔ مرکزی وزیرفینانس نے آج بی جے پی کے زیراہتمام سیول سوسائٹی کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ جب سے مودی حکومت نے اقتدار سنبھالا ہے ہماری پالیسی یہ رہی ہیکہ اگر ناانصافی ہو تو اس معاملہ کی تحقیقات کی جائے۔ جب حقائق سامنے آجائیں تو ہر چیز خود بخود درست ہوجائے گی۔ جیٹلی نے کہا کہ بعض لوگ بشمول بی جے پی کے مخالفین بھی جموں و کشمیر کے بارے میں واجپائی کے بیان کو نمایاں طور پر پیش کرتے رہے ہیں کہ اسے انسانیت کے دائرہ کار میں حل کیا جانا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ مرکزی حکومت یہی طرزعمل اختیار کئے ہوئے ہے۔ چند ماہ قبل وہ وزیردفاع تھے اور انہیں چھترگام واقعہ کے فوری بعد وزیراعظم نریندر مودی سے یہ پیام موصول ہوا کہ اس واقعہ کی تحقیقات کرائی جائے اور سچائی کا پتہ چلایا جائے۔ اس واقعہ میں دو نوجوان ہلاک اور دیگر دو زخمی ہوگئے تھے۔ ارون جیٹلی نے کہا کہ انہوں نے دونوں طرف سے واقعہ کی تحقیقات کی اور اندرون دو گھنٹے ٹوئیٹر پر پیام جاری کرتے ہوئے واقعہ کی نہ صرف مذمت کی بلکہ معذرت خواہی کی تھی۔ ایسا ہندوستان کی تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ ضلع بڈگام کے چھترگام علاقہ میں 3 نومبر کو یہ واقعہ پیش آیا تھا جہاں فوج کی فائرنگ میں دو نوجوان ہلاک ہوگئے اور دیگر دو زخمی ہوگئے تھے۔ فوج کو اس واقعہ کی اندرون 3 ہفتہ تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیا گیا۔ جیٹلی نے کہا کہ انہوں نے معاملہ کی تحقیقات دیانتداری سے کرنے کی فوج کو ہدایت دی تھی۔ دوسرے دن فوج سے یہ بھی کہا گیا کہ عہدیداروں کو مہلوک نوجوانوں کے ارکان خاندان کے پاس بھیجا جائے اور معاملہ کی پوری دیانتداری سے تحقیقات کی جائے۔ شاید ایسا پہلی مرتبہ ہوا کہ فوج نے کم وقت میں اپنے سپاہیوں کو قصوروار قرار دیا ہے۔ ارون جیٹلی نے بتایا کہ ان کی سوچ 2010ء میں ایک کالج طالبہ سے ملاقات کے بعد تبدیل ہوئی۔ اس وقت وہ کل جماعتی وفد کا حصہ تھے جس نے گرمائی احتجاج کی شدت کے دوران کشمیر کا دورہ کیا تھا۔ اس طالبہ نے وفد سے کہا تھا کہ وہ ہندوستان کی شہری ہیں اور علحدگی پسندوں کی تائید نہیں کرتی۔

اس کے ساتھ ساتھ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ نہیں چاہتی کہ اس کے گھر کے باہر پولیس تعینات نظر آئے یا پولیس اس سے کالج کے راستہ میں کئی مرتبہ شناختی کارڈ کا سوال کرے۔ ارون جیٹلی نے کہا کہ ملک میں کہیں بھی رہنے والے عوام کو یکساں حقوق ملنے چاہئے۔ انسانیت یہ نہیں کہتی کہ ہم دہشت گردی میں ملوث ہوں۔ انسانیت بندوق اٹھا لینے اور دوسروں کو ہلاک کرنے کا سبق نہیں سکھاتی۔ انسانیت یہ نہیں کہتی کہ سیکوریٹی فورسیس انتقامی کارروائی میں بے قصوروں کو ہلاک کرے۔ انسانیت یہ بھی نہیں کہتی کہ ایک عام آدمی جو غلط ہو اس کی بات نہ سنی جائے۔ انسانیت یہ نہیں کہتی کہ کوئی ملک کو تخریب کا شکار بنانے کیلئے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ انسانیت ایک باشعور سماج کا نام ہے۔ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے جہاں ہر ایک کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔ اگر کوئی ان حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT