Thursday , July 19 2018
Home / ہندوستان / کشمیر میں پاکستان کی شلباری میں چار فوجی بشمول بی ایس ایف سب انسپکٹر ہلاک

کشمیر میں پاکستان کی شلباری میں چار فوجی بشمول بی ایس ایف سب انسپکٹر ہلاک

عوام کا تخلیہ ، تعلیمی ادارے تین دن بند ۔ ہندوستانی ڈپٹی ہائی کمشنر کی پاکستان میں طلبی ہندوستان پر بلااشتعال فائرنگ کا الزام و احتجاج

جموں ۔ 5 فبروری ۔(سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر کے ضلع راجوڑی میں لائن آف کنٹرول کے قریب پاکستانی فوج کی فائرنگ اور شلباری میں زخمی بی ایس ایف کا ایک سب انسپکٹر ہلاک ہوگیا ۔ راجوڑی کے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری نے کہاکہ ’’ضلع راجوڑی میں لائن آف کنٹرول پر پاکستانی فوج کی طرف سے رات بھر بلاوقفہ شلباری جاری رہی ‘‘ ۔ انھوں نے کہاکہ بی ایس ایف کا ایک سب انسپکٹر کل رات دیر گئے راجوڑی کے سرحدی علاقہ کیری میں زخمی ہوگیا تھا جس کو دواخانہ میں شریک کیا گیا تھا ۔ چودھری نے کہاکہ کسی عام شہری کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے ۔ سرحدی علاقوں سے عام شہریوں کے نقل مقام کی اطلاعات بھی موصول ہورہی ہیں۔ نقصانات کے تخمینہ کے لئے ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں آج 88 اسکولوں کو تین دن کیلئے بند کردیا گیا اور کیمپوں کو متحرک کردیا گیا ہے ۔ اضلاع پونچھ اور راجوڑی میں گزشتہ روز پاکستانی فوج کی بھاری شلباری میں ایک 28 سالہ فوجی افسر کپل کنڈو اور تین جوان ہلاک اور دیگر چار زخمی ہوگئے تھے ۔ جنگ بندی کی خلاف ورزی کے طورپر پاکستان کی طرف سے کی گئی فائرنگ و شلباری میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت کیپٹن کپل کنڈو ساکن موضع رانسکا ضلع گڑگاؤں ہریانہ ، 42 سالہ حولدار روشن لال ضلع سامبا جموں و کشمیر ، رائفل مین 23 سالہ شبھم سنگھ ضلع کتھوا جموں و کشمیر رائفل مین 27 سالہ رام اوتار گوالیار مدھیہ پردیش کی حیثیت سے کی گئی ہے ۔ ایک پولیس عہدیدار نے کہا کہ ضلع پونچھ کے شاھپور سیکٹر میں سرحد پار سے شلباری کے نتیجہ میں 15 سالہ شہناز بانو اور 14 سالہ یٰسین عارف اور ایک فوجی جوان کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ فوج نے آج واضح طورپر نشاندہی کی کہ وہ چار فوجیوں کی ہلاکت پر خطِ قبضہ پر ضلع راجوری میں پاکستانی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کی جوابی کارروائی کرے گی۔ نائب سربراہ فوج لیفٹننٹ جنرل سرت چند نے کہا کہ فوج پاکستان کی شلباری کا مناسب جواب دے رہی ہے اور پاکستان کی ایسی کارروائیوں کا منہ توڑ جواب دینا جاری رکھے گی ۔ اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس نے الزام عائد کیا کہ این ڈی اے حکومت قومی سلامتی کی قیمت پر سمجھوتے کررہی ہے ۔ مرکزی وزارت داخلہ کو چاہئے کہ فوجیوں کی ہلاکت کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور پاکستان کی جانب سے جموں و کشمیر میں خطِ قبضہ کے پاس بلااشتعال جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر پاکستان کو منہ توڑ جواب دینا چاہئے ۔ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے واقعات میں اضافہ پر اظہارتشویش کرتے ہوئے کانگریس قائد پرمود تیواری نے کہاکہ حکومت قومی سلامتی کا تحفظ کرنے سے قاصر رہی ہے ۔ قبل ازیں اسلام سے موصولہ اطلاع کے بموجب پاکستان نے آج یہاں ہندوستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو طلب کیا اور لائن آف کنٹرول کے اُس پار سے ہندوستانی فوج کی مبینہ ’بلااشتعال فائرنگ ‘کی مذمت کی ۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ ہندوستانی فوج کی مبینہ فائرنگ میں دو پاکستانی ہلاک ہوئے ہیں۔ دفتر خارجہ نے کہاکہ ڈائرکٹر جنرل ( جنوبی ایشیاء و سارک ) محمد فیصل نے جے پی سنگھ کو طلب کیا اور ہندوستانی فوج کی طرف سے جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں کی مذمت کی ۔ دفتر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ نیزاپیر ، نکیال اور کاریلا سیکٹرس میں 4 فبروری کو کی گئی فائرنگ میں دو پاکستانی شہری ہلاک ہوگئے تھے جن کی شناخت 18 سالہ رفاقت علی اور 25 سالہ تسلیم بیگم کی حیثیت سے کی گئی ہے ۔ ان کے علاوہ بشمول دو بچے سات افراد زخمی ہوئے تھے ۔ فیصل نے دعویٰ کیا کہ ہندوستانی فورس نے لائن آف کنٹرول اور کارگذار سرحد پر گنجان آبادی والے علاقوں میں عام شہریوں کو مورٹار حملوں اور خودکار اسلحہ سے فائرنگ کا نشانہ بنارہے ہیں ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ 2018 ء میں ہندوستانی فورسیس نے جنگ بندی کی 190 مرتبہ خلاف ورزی کی جس کے نتیجہ میں پاکستان کے 13 عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ محمد فیصل نے کہا کہ ہندوستان کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ 2017 ء سے جاری ہے ۔ اس دوران جنگ بندی کی 1970 مرتبہ خلاف ورزی کی گئی اور ایسے اضافہ کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔انھوں نے دعوٰی کیا کہ گنجان آبادی والے علاقوں کو دانستہ نشانہ بنانا یقینا افسوسناک اور انسانی وقار ، بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانیت کے قوانین کے مغائر ہے ۔ فیصل نے ہندوستان پر زور دیاکہ جنگ بندی سے متعلق 2003ء کے سمجھوتہ کا احترام کیا جائے اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کے واقعات کی تحقیقات کروائی جائیں۔

TOPPOPULARRECENT