Saturday , November 25 2017
Home / Top Stories / کشمیر میں پرامن صورتحال ‘ کوئی واقعہ پیش نہیں آیا

کشمیر میں پرامن صورتحال ‘ کوئی واقعہ پیش نہیں آیا

چار اضلاع میں کرفیو میں نرمی کے باوجود تعلیمی ادارے بند۔ 5 دن بعد اخبارات بحال
سرینگر 21 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) کئی دن کے ہنگاموں کے بعد کشمیر میں آج صورتحال بحیثیت مجموعی پرامن رہی جبکہ پولیس نے کہا کہ وادی میں کسی بھی مقام سے کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا ۔ تاہم حکام کی جانب سے وادی کے چار اضلاع میں کرفیو میں نرمی دینے کا فیصلہ موثر ثابت نہیں ہوسکا ۔ حکام چاہتے تھے کہ نرمی کے دوران اسکولس کھولے جائیں تاہم ایسا نہیں ہوسکا اور اخبارات بھی پانچ دن کے بعد عوام تک پہونچ سکے ہیں۔ عہدیداروں نے ایسا کوئی ریمارک نہیں کیا کہ آج چار اضلاع بندی پورہ ‘ بارہمولہ ‘ بڈگام اور گندربل میں اسکولس آج دوبارہ کھلے یا نہیں تاہم وہاں سے ملنے والی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ یہاں تعلیمی ادارے بند رہے ۔ حالانکہ حکام نے چار اضلاع میں کرفیو برخواست کردیا ہے تاہم دفعہ 144 کے تحت امتناعی احکام نافذ کردئے گئے ہیں ۔ یہ اقدام احتیاطی طور پر کیا گیا ہے ۔ کرفیو چھ اضلاع میں ہنوز جاری ہے ۔ کہا گیا ہے کہ چار اضلاع میں حکام چاہتے تھے کہ چار اضلاع میں اسکولس کو دوبارہ کھول دیا جائے ۔ حکومت کے فیصلے کو دیکھتے ہوئے کرفیو میں نرمی دی گئی تھی ۔ ایک پولیس عہدیدار نے بتایا کہ آج کا دن پرامن طور پر گذر گیا ہے

اور وادی میں کسی بھی مقام سے کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا ۔ عام زندگی تاہم آج 13 ویں دن بھی کرفیو اور علیحدگی پسندوں کی معلنہ ہڑتال کی وجہ سے متاثر رہی ۔ علیحدگی پسندوں نے احتجاجیوں اور سکیوریٹی فورسیس کے مابین جھڑپوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف ہڑتال کا اعلان کیا ہے ۔ یہ جھڑپیں 8 جولائی کو حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئی تھیں۔ گذشتہ دنوں سے جاری ہنگاموں اور گڑبڑ میں جملہ 43 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد درجنوں میں ہے ۔ حکومت نے اپنے سابقہ احکام میں تبدیلی کرتے ہوئے کل تازہ احکام جاری کئے تھے تاکہ چار اضلاع میں آج سے اسکولس کی کشادگی عمل میں آسکے ۔ قبل ازیں اسکولس 18 جولائی تک بند تھے تاہم حکومت نے تعطیلات میں 25 جولائی تک توسیع کردی تھی ۔ ایک سماجی کارکن نے بندی پورہ میں بتایا کہ کچھ اساتذہ اسکولس کو آئے تھے تاہم طلبا کی غیر حاضری کی وجہ سے وہ واپس ہوگئے ۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی وزیر تعلیم نعیم اختر کے آبائی گاوں میں بھی اسکولس بند رہے ۔

وادی کشمیر میں غیر معلنہ سنسرشپ کی مذمت
صحافت کی آزادی پر راست حملہ، ایڈیٹرس کی احتجاجی قرارداد
نئی دہلی۔21 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) اخبارات کے ایڈیٹرس کے ایک اعلی ادارہ نے وادی کشمیر میں اخبارات پر غیر معلنہ سنسرشپ عائد کرنے کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اخبارات کی سنسرشپ آزادی صحافت پر راست حملہ ہے۔ آل انڈیا نیوز پیپر ایڈیٹرس کانفرنس نے اپنے شدید احتجاجی قرارداد میں اس اقدام کی پرزور مذمت کی اور کہا کہ اخبارات کی اشاعت پر پابندی اخبارات کے دفاتر پر رہا ہے اور پرنٹنگ پریسوں کو مقفل کردینا صحافت کی اازادی پر حملہ ہے۔ ریاست کی پی ڈی پی اور بی جے پی حکومت عوام کی دوست سوچ کو سمجھنے میں ناکام ہے۔ مرکز اور ریاستوں میں کوئی بھی حکومت ہمارے ملک کی بہبودی روایت کا گلہ دبا نہیں سکتی۔ صحافت کی آزادی جذبہ اور حقانیت کی حمایت کے بغیر کوئی طاقت فروغ نہیں پاسکتی۔ بدبختی کی بات یہ ہے کہ بی جے پی ۔ پی ڈی پی اتحاد نے جموں و کشمیر کو بدامنی کا شکار بنادیاج ہے اور یہ اتحاد عوام کی دوست سوچ کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ ایڈیٹرس کانفرنس کے صدر بندھو گپتا نے کہا کہ حکومت کا یہ نیا طریقہ کار غیر معلنہ سنسرشپ کے مترادف ہے۔ بی جے پی ۔ پی ڈی پی حکومت اخبارات کا گلہ دباکر چپ کرانے کا نیا طریقہ ایجاد کررہی ہے۔ وادی میں صحافت کو کچلنے کی یہ پالیسی افسوسناک ہے۔

TOPPOPULARRECENT