Sunday , September 23 2018
Home / اداریہ / کشمیر میں پھر کشیدگی

کشمیر میں پھر کشیدگی

بد سے بدتر کس لئے حالات ہیں سوچو ذرا کیوں مسلسل نت نئی آفات ہیں سوچو ذرا کشمیر میں پھر کشیدگی

بد سے بدتر کس لئے حالات ہیں سوچو ذرا
کیوں مسلسل نت نئی آفات ہیں سوچو ذرا
کشمیر میں پھر کشیدگی
جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات میں منقسم رائے کے بعد پی ڈی پی ۔ بی جے پی اتحاد نے مخلوط حکومت تشکیل دی ہے ۔ ریاست میں نئی حکومت کے تشکیل پانے کے بعد سے حالات نے یکسر تبدیلی اختیار کی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ایک بار پھر کشمیر جل رہا ہے ۔ پہلے تو مفتی محمد سعید کی زیر قیادت حکومت نے علیحدگی پسند لیڈر مسرت عالم کو جیل سے رہا کردیا جس پر بی جے پی نے بھی اعتراض جتایا لیکن مفتی حکومت پر یہ اعتراض کوئی اثر نہیں دکھا سکا ۔ اس کے ساتھ ہی ریاست میں مسلح افواج کو خصوصی اختیارات دینے کے قانون کی تنسیخ کا مطالبہ بھی زور پکڑنے لگا تھا ۔ بی جے پی اور مرکزی حکومت بھی اس قانون کی تنسیخ کے مخالف ہیں۔ خود فوج نے اس تعلق سے کوئی واضح موقف اختیار کرنے سے گریز کیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس تعلق سے کوئی بھی فیصلہ کرنا مرکزی حکومت کا کام ہے ۔ اسے کشمیر میں جو فرائض سونپے گئے ہیں وہ اس کی جانب سے ادا کئے جاتے رہیں گے ۔ یہ قیاس کیا جا رہا تھا کہ مفتی سعید حکومت اس سلسلہ میں باضابطہ طور پر مرکزی حکومت سے درخواست کریگی کہ اس قانون کو منسوخ کیا جائے ۔ اس کے بعد ہی ریاست میں حالات بدلنے لگے ہیں اور اچانک ہی پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ ایک دن میں تین مقامات پر عسکریت پسندوں کی جانب سے حملے کئے گئے ۔ ان میں تین پولیس اہلکاروں کی ہلاکت بھی واقع ہوئی تھی ۔ بعض گوشوں کا خیال ہے کہ مسلح افواج کو خصوصی اختیارات کے قانون کی تنسیخ کا جو مطالبہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اس کو کمزور کرنے کیلئے اس طرح کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ علاوہ ازیں احتجاج کے دوران پولیس کی فائرنگ میں اموات کے نتیجہ میں بھی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور ریاست کے عوام میں جو برہمی ہے وہ بھی بڑھنے لگی ہے ۔ ریاست میں ایک عوامی ووٹ کے ذریعہ منتخب کردہ حکومت کے قیام کے بعد حالات میں بہتری اور مثبت تبدیلی کی امید کی جا رہی تھی لیکن اب جو حالات ہیں وہ منفی رجحان کو اور حالات کی ابتری کو ظاہر کرتے ہیں ۔ یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے کہ ریاست میں امن قائم ہونے کی بجائے تشدد بڑھ رہا ہے ۔اس سے نہ صرف ریاست کے بلکہ سارے ملک کے عوام کو مایوسی ہو رہی ہے ۔
جس طرح سے پولیس اور نیم فوجی دستوں کی فائرنگ میں عام شہری ہلاک ہوئے ہیں اس پر ریاست میں ہمیشہ ہی برہمی کا اظہار کیا جاتا ہے اور عوام سڑکوں پر اتر کر احتجاج کرتے ہیں۔ جمہوری انداز میں احتجاج کرنا اور اپنے حق کیلئے جدوجہد کرنا سب کا حق ہے لیکن حالات کو بہتر بنانے کی بجائے اسے بگاڑنے کی سمت ہر دو فریقین کی جانب سے اپنا اپنا رول ادا کیا جا رہا ہے ۔ ریاست میں نئی حکومت کی تشکیل کے بعدا مید کی جا رہی تھی کہ وہاں عام زندگی معمول پر آتی جائیگی ۔بتدریج ایسے اقدامات نئی حکومت کی جانب سے کئے جائیں گے جن کے نتیجہ میں ریاست کے عوام میں اعتماد بحال ہوگا ۔ انہیں اپنے ہی ملک میں اجنبی پن کا جو احساس ہے اسے دور کرنے میں حکومت مدد کریگی ۔ جس طرح یہ ادعا اٹل ہے کہ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اسی طرح یہ خیال بھی مستحکم ہوگا کہ کشمیری عوام بھی ہندوستانی عوام ہی ہیں اور انہیں بھی ہندوستانی ہونے کے ثمرات سے مستفید ہونے کا موقع ملے گا ۔ برہمی اور مایوسی کو دو رکرتے ہوئے ان میں اعتماد اور بھروسہ کی فضا پیدا کی جائیگی لیکن ایسا کچھ ہونے کی بجائے الٹا حالات نے مزید ابتری کی سمت سفر کیا ہے اور منفی اثرات کے نتیجہ میں ریاست کے عوام میں پائی جانے والی برہمی میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ یہ صورتحال نہ کشمیر کیلئے بہتر ہے نہ کشمیری عوام کیلئے بہتر ہے اور نہ ملک کیلئے بہتر کہی جاسکتی ہے ۔ یہ حالات ریاست کی مفتی محمد سعید کی حکومت کیلئے بھی اچھے نہیں کہے جاسکتے ۔ ان حالات کو سیاسی نقطہ نظر کو ترک کرتے ہوئے بہتر بنانے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے ۔
کشمیر میں حکومت کو چاہئے کہ وہ ریاست کے عوام کو ملک کے قومی دھارے میں شامل کرنے کی کوشش کرے ۔ مرکزی حکومت جس طرح سے کشمیری پنڈتوں کو ان کے مقامات کو واپس لانے کی فکر کر رہی ہے اسی طرح اسے تمام کشمیری عوام کو ان کا حق دلانے کیلئے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ کشمیری عوام کو ملک کی ترقی کے ثمرات میں حصہ دار بنانے کیلئے اقدامات کئے جا نے چاہئیں ۔ پولیس ہو یا نیم فوجی دستے ہوں ان کی کارروائیوں پر جوابدہی کا عمل شروع کرنے کی ضرورت ہے ساتھ ہی عوام میں بھی احتجاج کو جمہوری ڈھانچہ میں رکھنے کا شعور بیدار کرنے کی ضرورت بھی ہے ۔ جب تک تمام فریقین حالات کو بہتر بنانے اپنا اپنا رول ادا نہیں کرینگے اس وقت تک حالات کو معمول پر لانا ممکن نہیں ہوگا اور یہ صورتحال ملک کے مفادات کے مغائر ہے ۔

TOPPOPULARRECENT