Tuesday , February 20 2018
Home / اداریہ / کشمیر میں پے درپے حملے

کشمیر میں پے درپے حملے

زمیں پہ اب نہ لہو آدمی کا گرپائے
نہ جنگ ہو کہیں بس بات ہی سے بات چلے
کشمیر میں پے درپے حملے
جموں و کشمیر میں فوج نے دہشت گرد کارروائیوں کو ناکام بنانے کے لئے اپنی تمام تر کوششوں کو بحسن و خوبی جاری رکھا ہے۔ سرینگر کے کرن نگر علاقہ میں سیکورٹی فورس کی دلیرانہ کارروائی سے ہی ایک دہشت گرد حملے کو ناکام بنایا گیا اور روپوش دہشت گردوں کا انکاؤنٹر کے ذریعہ کام تمام کردیا گیا۔ سی آر پی ایف کے 23ویں بٹالین کے سپاہیوں کی کارروائیوں کی ستائش کی جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں ہندوستانی فوجی کیمپوں کو نشانہ بناکر دہشت گردوں نے ہندوستانی فوجی عہدیداروں سمیت سپاہیوں اور شہریوں کو ہلاک کیا تھا۔ اس طرح کی کارروائیوں کے بعد فوج کو اپنی جوابی کارروائی کے ذریعہ دہشت گردوں کو سبق سکھانا ضروری سمجھا جارہا تھا۔ وادی میں فوج کا رول جوکھم بھرا بنتا جارہا ہے۔ دہشت گردوں سے نمٹنے میں فوج کی صلاحیتوں اور اس کی چوکسی پر اب تک اُٹھنے والے کئی سوالوں کے درمیان فوج نے دو دہشت گردوں کو مار گرانے میں کامیابی حاصل کی ہے تو اس طر ح کی کارروائیوں کے لئے حکومت کی سطح پر کی جانے والی تیاریوں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کی جانب توجہ دلاتی ہیں۔ سرحد پار سے دہشت گردوں کو ہندوستان کی جانب دھکیلنے میں کامیاب دہشت گرد تنظیموں نے ہندوستانی فوج اور ان کے ارکان خاندان کو نشانہ بنایا ہے۔ ہندوستانی فوج کے خلاف ہونے والی اس کارروائی کو ہندوستان کے سرجیکل اسٹرائیک کا جواب بتایا گیا ہے مگرسرحد پر پائے جانے والے حالات کو دو ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھانے بہانہ کہاجائے تو پھر آنے والے دنوں میں ہندو پاک سرحدی کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔ پاکستان نے پہلے ہی ہندوستان کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس طرح کی کارروائیوں کے جواب میں اگر اس نے سرحد عبور کرکے حملہ کیا تو جوابی حملے کئے جائیں گے۔ دونوں جانب ایسی کشیدگی پیدا کرنے والی کارروائیوں کو کم کرنے کے بجائے اس میں اضافہ ہی ہورہا ہے تو یہ ایک خطرناک عمل ہے۔ پاکستان نے اپنی سرزمین پر سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے ہندوستان کو خبردار کیا ہے تو یہ ایک افسوسناک ردِ عمل ہے۔ جموں کے قریب فوجی کیمپ پر حملہ کیا گیا جس کو حالیہ مہینوں میں کئے گئے حملوں میں سب سے زیادہ بھیانک تباہ کن سمجھا گیا ہے، اس میں پانچ ہندوستانی سپاہی اور ایک سپاہی کے والد ہلاک ہوئے۔ خواتین اور بچے بھی اس حملے کا شکار ہوئے ہیں۔ ہندوستان نے ہر حملے کے بعد پاکستان کو دہشت گرد تنظیموں کے نام ظاہر کئے ہیں اس پر پاکستان کو جوابی قدم اُٹھاتے ہوئے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے کی ضرورت تھی لیکن پاکستان کی وزارت خارجہ نے غیر ذمہ دارانہ بیان دیتے ہوئے ہندوستان کو ہی نشانہ بنایا کہ یہ ہندوستان کی عادت بن گئی ہے کہ وہ ہمسایہ ملک پر الزامات عائد کرتے ہوئے غیر ذمہ دارانہ بیانات دے۔ جس واقعہ کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اس پر دونوں ملکوں کے ذمہ داروں کو غور کرنے کے بجائے الزامات و جوابی الزامات کا سلسلہ شروع کیا جاتا ہے۔ کسی واقعہ کی مناسب تحقیقات کا عمل شروع ہی نہیں ہوتا کہ بیان بازی کے ذریعہ تحقیقاتی عمل کو نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ دونوں ملکوں کی فوج کا کام ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف کاررائیوں کو مؤثر طور پر انجام دیں۔ وادی کشمیر میں پاکستان کی دہشت گرد تنظیموں کے رول کے بارے میں اکثر یہی الزام عائد کیا جاتا ہے کہ لشکر طیبہ اور جیش محمد کے کارکن یہاں سرگرم ہیں۔ کشمیر میں ہزاروں ہندوستانی سپاہیوں کے ساتھ تصادم کرنے آئے جیش محمد کے کارکن دوبارہ ابھر رہے ہیں، ان کے پاس عصری اسلحہ ہوتے ہیں اور خود کار اسلحہ کے ذریعہ حملے کئے جاتے ہیں تو ہندوستانی فوج کو بھی اس سے زیادہ موثر ہتھیاروں سے لیس کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دہشت گرد حملوں کی صورت میں وہ اپنا بچاؤ کرتے ہوئے حملوں کو ناکام بناسکیں۔ 2016 میں ہندوستان نے کہا تھا کہ اس کی عصری ہتھیاروں سے آراستہ چوکس فوج نے سرحد عبور کرکے پاکستان میں سرجیکل اسٹرائیک کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔ اس کا جوابی سلسلہ حالیہ دنوں میں دیکھا جارہا ہے تو یہ ایک نازک صورتحال سمجھی جائے گی۔ خط قبضہ پر ناعاقبت اندیشانہ کارروائیوں کو فوری روکتے ہوئے امن کی جانب بات کرنے پر توجہ دینی چاہیئے۔ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لیا ہے، لیکن اپوزیشن کانگریس نے اس ریاست کی سیکورٹی صورتحال کو نہایت ہی ابتر قرار دے کر حکومت کی توجہ اس حقیقت کی جانب مبذول کروائی ہے کہ حکومت کو اپوزیشن کی باتوں کا جائزہ لے کر کشمیر میں دن بہ دن بگڑتی سیکورٹی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔ جموںو کشمیر کی سیکورٹی صورتحال پر گزشتہ سال ہی پارلیمانی کمیٹی نے رپورٹ پیش کی تھی اور انٹلی جنس ایجنسیوں کی ناکامی پر توجہ دلائی تھی۔ اس کے باوجود حکومت ہند خاص کر وزارت داخلہ نے جموں و کشمیر میں فوج اور انٹلی جنس کی خامیوں کو دور کرنے کی کوشش نہیں کی۔ نتیجہ میں آج دراندازی کے واقعات اور دہشت گرد حملوں میں اضافہ دکھائی دے رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT