Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / کشمیر میں کرفیو جیسی پابندیاں و ہڑتال ‘ یوم شہدائے کشمیرمنایا گیا

کشمیر میں کرفیو جیسی پابندیاں و ہڑتال ‘ یوم شہدائے کشمیرمنایا گیا

سری نگر ، 13جولائی (سیاست ڈاٹ کام) وادی کشمیر میں جمعرات کو کرفیو جیسی پابندیوں، سخت حفاظتی انتظامات، مکمل ہڑتال اور علیحدگی پسند رہنماؤں کی نظربندی کے بیچ 13 جولائی 1931 ء کے ‘شہدائے کشمیر’ کی یاد میں ‘یوم شہداء’ منایا گیا۔ خیال رہے کہ کشمیری عوام کے لئے حق خودارادیت کا مطالبہ کررہے حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کے سربراہان سید علی گیلانی و میرواعظ مولوی عمر فاروق اور جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے 4 جولائی کو حزب المجاہدین کمانڈر برہان مظفر وانی کی پہلی برسی کے سلسلے میں ایک ہفتے تک جاری رہنے والا احتجاجی پروگرام جاری کرتے ہوئے 13 جولائی کو 1931 ء کے شہدائے کشمیر کی یاد میں مکمل ہڑتال اور مزار شہداء نقشبند صاحب چلو کی کال دی تھی۔ انہوں نے احتجاجی پروگرام میں کہا تھا ‘ 13کو جولائی 1931ء کے شہداء کے حق میں مکمل ہڑتال ہوگی اور مزار شہداء نقشبند صاحب بعد نمازِ ظہر ایک جلسہ خراج عقیدت کا انعقاد ہوگا اور اس جلسہ میں شرکت کی غرض سے مسٹر گیلانی حیدرپورہ سے ، میر واعظ مرکزی جامع سری نگر سے اور یاسین ملک مائسمہ لالچوک سے عوامی جلسوں کی قیادت کریں گے ‘۔ 1931 ء کے شہدائے کشمیر کی یاد میں وادی کے سبھی دس اضلاع میں جمعرات کو مکمل ہڑتال کی گئی جس کی وجہ سے نظام زندگی معطل ہوکر رہ گیا۔ جمعرات کی صبح ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی، پی ڈی پی سے وابستہ بیشتر وزراء اور دوسری مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے مزار شہداء واقع خواجہ نقشبند صاحب پر حاضری دیکر 13 جولائی 1931 کے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ تاہم ریاست کی مخلوط حکومت میں شامل بی جے پی جماعت کے کسی بھی لیڈر نے مزار شہداء پر حاضری نہیں دی۔

TOPPOPULARRECENT