Thursday , December 14 2017
Home / دنیا / کشمیر میں ہندوستانی افواج کا رویہ ’’ظلم اور بزدلی‘‘

کشمیر میں ہندوستانی افواج کا رویہ ’’ظلم اور بزدلی‘‘

انسانی حقوق کی پامالی کا انتہائی کمتر درجہ، نیویارک ٹائمز کا اداریہ
نیویارک۔ 24 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) نیویارک ٹائمز دنیا کا ایک ایسا معیاری اخبار ہے جس کی خبروں کو مصدقہ تو قرار دیا جاتا ہی ہے لیکن ساتھ ساتھ اس کے اداریہ کو پڑھنے والوں  کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے۔ دنیا کا کوئی بھی واقعہ ہو اس پر اخبار کی گرفت کچھ اس طرح ہوتی ہے کہ قارئین پوری خبر پڑھے بغیر نہیں رہ سکتے۔ ہندوپاک کے درمیان مسئلہ کشمیر ناسور بن چکا ہے اور وقتاً فوقتاً مختلف اخبارات میں اداریئے تحریر کئے جاتے ہیں جن میں دونوں ممالک کے سربراہان کو ہمیشہ باہمی بات چیت کی ہی صلاح دی گئی۔ تاہم نیویارک ٹائمز نے اب کی بار کشمیر سے متعلق اپنے اداریہ میں سخت لہجہ اپنایا ہے اور سیکوریٹی کے نام پر وہاں جو کچھ کیا جارہا ہے اس سے دہشت گردی میں مزید اضافہ کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ ہفتہ کے روز شائع ہوئے اداریہ میں ہندوستانی حکومت کو انسانی حقوق کی پامالی سے گریز کرنے اور اس کا تحفظ کرنے کی صلاح دی گئی تھی۔ نیویارک ٹائمز نے یہ اداریہ اس وقت تحریر کیا جب دنیا بھر میں ایک ایسا ویڈیو وائرل ہوگیا تھا جس میں ایک کشمیری نوجوان کو ایک فوجی جیپ کے بونٹ پر ’’انسانی ڈھال‘‘ کے طور پر بندھا ہوا دکھایا گیا تھا۔ اداریئے میں مزید تحریر کیا گیا ہیکہ ہندوستانی مسلح افواج انسانی حقوق کی پامالی میں انتہائی کمتر درجہ تک پہنچ چکی ہے۔ ذرا تصور کیجئے۔ شال بنانے والے 24 سالہ فاروق احمد پر اس وقت کیا گذری ہوگی جب اسے سنگباری کرنے والے مشتعل ہجوم سے بچنے کے لئے مسلح افواج نے انسانی ڈھال کے طور پر جیپ کے بونٹ پر باندھ دیا تھا۔ اداریہ کا عنوان  ہی ’’کشمیر میں ظلم اور بزدلی‘‘ تھا۔ اداریئے کے مطابق اس واقعہ کا ہندوستانی افواج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے سخت نوٹ لیتے ہوئے فاروق احمد ڈار کو جیپ کی بونٹ پر باندھنے والے خاطی سیکوریٹی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے کا عزم کیا ہے تاہم انہوں نے یہ انتباہ بھی دیا کہ کشمیر میںسنگباری کرنے والے نوجوان اور علحدگی پسند دہشت گرد شاید آج تو بچ جائیں گے تاہم کل وہ بچ نہیں پائیں گے کیونکہ ہمارا آپریشن جاری رہے گا۔ اداریئے کے مطابق فاروق احمد ڈار کے ساتھ کئے گئے سلوک سے یا پھر ہم اسے فوج کے سفاکانہ طریقہ کار سے تعبیر کرتے ہیں تو یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ ایسا کرنے سے کشمیر میں دہشت گردی ختم نہیں ہوگی بلکہ اس میں اضافہ ہوگا۔ اداریئے کے مطابق نریندر مودی کی حکومت اگر ماہ جنوری میں شہریوں کے ایک گروپ کی جانب سے داخل کی گئی سفارشات کے ذریعہ اپنے احساسات حکومت تک پہنچائے گئے تھے جہاں یہ بھی کہا گیا تھا کہ حکومت کے امتیازی سلوک اور جھوٹے وعدے اب کشمیریوں کا دل مزید نہیں بہلا سکتے۔ شہریوں کے گروپ نے جو رپورٹ داخل کی تھی اس میں انسانی حقوق کی بہتری اور ایک دیرپا سیاسی حل کیلئے بین جماعتی بات چیت کا انعقاد بہت زیادہ ضروری ہے۔ اداریئے میں یہ انتباہ بھی دیا گیا ہیکہ اگر کشمیریوں کو بھی ملک کی دیگر عوام کی طرح امن، خوشحالی اور بہتر مستقبل کے خواب دیکھنے سے محروم کیا گیا تو ہندوستان میں جمہوریت دم توڑ دے گی لہٰذا رپورٹ میں درج سفارشات کا اطلاق کیا جائے۔ یاد رہیکہ گذشتہ سال ایک گروپ نے ’’حقائق سے آگہی‘‘ کے لئے وادی کا دورہ کیا تھا اور کشمیر  میں پائیدار قیام امن کے لئے بین جماعتی بات چیت کی ضرورت پر زور دیا تھا جس میں ’’حریت‘‘ سے بات چیت کو اولین ترجیح دیئے جانے کی سفارش بھی کی گئی تھی اور انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے اور کشمیری عوام کو بھی اپنے مستقبل پر تبادلہ خیال کرنے کی مکمل آزادی دیئے جانے کی بات کہی گئی تھی۔

TOPPOPULARRECENT