Wednesday , September 26 2018
Home / Top Stories / کشمیر میں ہڑتال سے معمول کی زندگی متاثر، جامع مسجد میں نماز جمعہ پر پابندی

کشمیر میں ہڑتال سے معمول کی زندگی متاثر، جامع مسجد میں نماز جمعہ پر پابندی

سری نگر ، 6 اپریل (سیاست ڈاٹ کام ) وادی کشمیر میں جمعہ کے روز ’غیرمعلنہ ہڑتال‘ اور ’کرفیو جیسی پابندیوں‘سے معمول کی زندگی بری طرح متاثر رہی۔ ایک رپورٹ کے مطابق جموں خطہ کے ضلع رام بن کے بانہال علاقہ میں بھی جمعہ کو مکمل ہڑتال کی گئی جس دوران دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے ۔ گرمائی دارالحکومت سری نگر میں پابندیوں کے باعث پائین شہر کے نوہٹہ علاقہ میں واقع 600 سال پرانی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز ادا نہیں کی جاسکی۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ نقص امن کے خدشے کے پیش نظر سری نگر، شوپیان اور گاندربل اضلاع کے علاقوں میں جمعہ کو پابندیاں نافذ رکھی گئیں۔انہوں نے بتایا کہ احتیاطی طور پر ریل سروس کو بند جبکہ تعلیمی اداروں میں درس وتدریس کا عمل معطل رکھا گیا۔ ریاستی پولیس نے ’کشمیر زون پولیس‘کے ٹویٹر ہینڈل سے ٹویٹ کرتے ہوئے پابندیوں کے نفاذ کی تصدیق کی۔ ٹویٹ میں کہا گیا ‘امن وامان کی صورتحال کو بنائے رکھنے کے لئے آپ کا پولیس اپنے شہریوں سے تعاون طلب کرتا ہے ۔آج (جمعہ کے روز) آپ کو سری نگر، کنگن اور شوپیان کے کچھ حصوں میں پابندیاں نظر آئیں گی۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ پابندیاں آپ کے لئے پریشانی کا سبب بنیں گی لیکن ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ان کو ایک عارضی وقت کے لئے نافذ کیا گیا ہے ‘۔حریت کانفرنس (ع) چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق ،جو ہر جمعہ کو جامع مسجد میں اپنا معمول کا خطبہ دیتے ہیں، نے پابندیاں نافذ کرنے اور گرفتاریاں عمل میں لانے پر ریاستی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ہر ایک بار پھر کرفیو پابندیوں کا نفاذ عمل میں لایا گیا اور گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔ لوگوں اور لیڈرشپ کو مساجد بشمول جامع مسجد سری نگر میں نماز جمعہ ادا کرنے سے روکا گیا۔عوامی ایکشن کمیٹی کے 81 سالہ معمر اور علیل قائد غلام محمد ذکی کو بھی نہیں بخشا گیا۔ اسے ایک شبانہ چھاپے کے دوران سوپور میں اپنے گھر سے گرفتار کرکے تھانہ بند کیا گیا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق وادی کے درجنوں مقامات پر جمعہ کو حالیہ ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے گئے ۔متعددمقامات پر احتجاجیوں کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔ بتادیں کہ جنوبی کشمیر کے دو اضلاع شوپیان اور اننت ناگ میں یکم اپریل کو ہوئے تین مسلح تصادموں میں 13 مقامی جنگجوؤں اور 4 عام شہریوں کے جاں بحق ہونے اور کم از کم 100 دیگر کے زخمی ہونے کے بعد سے وادی میں کشیدگی کی فضا بنی ہوئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT