Sunday , November 19 2017
Home / Top Stories / کشمیر پر کھلے دل سے بات کرنے کیلئے تیار ہوں

کشمیر پر کھلے دل سے بات کرنے کیلئے تیار ہوں

علیحدگی پسندوں کو مذاکرات کے میز پر آنے بالواسطہ دعوت :راجناتھ سنگھ

اننت ناگ۔10ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ وہ دل و دماغ بند کرکے کشمیر نہیں آئے ہیں بلکہ کسی سے بھی کھلے دل سے بات چیت کرنے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو کوئی شکوہ شکایت ہے تو وہ ہم سے کہے۔ انہوں نے وادی کے عوام سے اپیل کی کہ وہ کشمیر کو دہشت گردی سے نجات دلائیں۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار آج جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں ڈسٹرکٹ پولیس لائنز میں جموں وکشمیر پولیس کے اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی چیف منسٹر ڈاکٹر نرمل سنگھ، ریاستی پولیس سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید، کشمیر زون کے انسپکٹر جنرل آف پولیس منیر احمد خان اور دوسرے سینئر پولیس عہدیداروں کے علاوہ وزارت داخلہ کے سینئر عہدیدار بھی موجود تھے ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ جموں وکشمیر کے ہر پولیس اسٹیشن کو بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کرنے کے احکامات جاری کردیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پولیس اہلکاروں کو بلٹ پروف جیکٹ فراہم کرنے اور پولیس اسٹیشنوں کی اپ گریڈیشن کے لئے بھی رقومات جاری کردی گئی ہیں۔

راجناتھ سنگھ نے ریاستی پولیس کو ہر طرح کی سہولت فراہم کرنے کا یقین دلاتے ہوئے اے ایس آئی عبدالرشید کی بیٹی زہرہ اور ہفتہ کو جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں جاں بحق ہونے والے پولیس کانسٹیبل امتیاز احمد میر کا ذکر کیا۔انہوں نے علیحدگی پسندوں کو بالواسطہ طور پر بات چیت کی میز پر آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا ‘میں یہاں تین دنوں کیلئے آیا ہوں۔ یہ پہلا موقعہ ہے کہ کسی وزیر داخلہ نے ایک سال میں چار مرتبہ کشمیر کا دورہ کیا۔ میں بار بار آؤں گا۔ سب سے اپیل کروں گا۔ کسی کو کوئی شکوہ شکایت ہے تو ہم سے شکایت کرے ۔ میں کھلے دل سے بات چیت کرنے کو تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں دنیا کی کوئی طاقت اسے پھر سے کشمیر کو جنت ارضی بنانے سے نہیں روک سکتی’۔مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ کشمیر میں ریاستی پولیس کے بدولت امن وامان کی صورتحال بہتر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی پولیس کے اہلکار کشمیر، کشمیریوں اور کشمیریت کی حفاظت کے لئے لڑرہے ہیں۔ اس لئے میں آپ کی بہادری کو سلام پیش کرنا چاہتا ہوں۔ کچھ دہشت گرد ایسے ہیں جو صرف دہشت گردی سے مطلب رکھتے ہیں۔

راج ناتھ کشمیر کے مسائل حل کریں گے : بی جے پی
جموں۔10 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام)بی جے پی نے آج کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کھلے ذہن کے ساتھ وادی کے دورہ پر آئے ہیں اور اس یقین کا اظہار کیا کہ ان کی ملاقاتوں سے ریاست کے مسائل حل ہوں گے۔ جموں و کشمیر ریاستی بی جے پی جنرل سیکریٹری اشوک کول نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ راج ناتھ سنگھ نے پہلے ہی واضح کردیا ہے کہ وہ کھلے دل اور ذہن کیساتھ عوام سے بات چیت کیلئے یہاں آئے ہیں۔ ان سے جو بھی ملاقات کرے گا ، وہ اس سے بات چیت کریں گے۔ کول نے کہا کہ جموں و کشمیر میں تمام طبقات کو ان سے ملاقات کرتے ہوئے اپنا نقطہ نظر پیش کرنا چاہئے۔

وزیر داخلہ نے اپنے خطاب میں اے ایس آئی عبدالرشید کی بیٹی زہرہ اور ہفتہ کو جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں جاں بحق ہونے والی پولیس کانسٹیبل امتیاز احمد میر کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا ‘میں نے عبدالرشید کی بیٹی زہرہ کی تصویر دیکھی ۔ آنسوؤں سے بھیگا ہوا اس کا وہ چہرہ مجھیمتاثر کرگیا۔ کل ہی ہمارے ایک بہادر جوان امتیاز بھی شہید ہوئے ۔ بڑی تعداد میں آپ نے شہادتیں دی ہیں۔ آپ کی ان شہادتوں کی قیمت نہیں چکائی جاسکتی ۔ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ وہ صرف اپنا ذاتی نہیں بلکہ وزیر اعظم نریندر مودی کا بھی پیغام لیکر ریاستی پولیس کے اہلکاروں کے پاس آئے ہیں۔ مودی نے بھی آپ کی بہادری، ہمت اور صبر کی تعریف کی ہے اور اس کو تسلیم کیا ہے ۔ آپ لوگوں سے ملکر میرا بھی حوصلہ بلند ہوا ہے ‘۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی پولیس اور سی آر پی ایف کے جوانوں کا الاؤنس بڑھانے پر بات چیت جاری ہے ۔ انہوں نے کہا ‘بہت ساری سہولیات کی بات کی گئی ہے ۔ بلٹ پروف جیکٹ اور جدید ہتھیار ہمارے جوانوں کو ملنے چاہیے ۔ ان سہولیات کو دستیاب بنانے کیلئے رقومات مہیا کی گئی ہے اور آگے بھی رقومات فراہم کی جائیں گی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ریاستی اور مرکزی حکومتیں ریاستی پولیس کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاکر کھڑی ہیں۔ انہوں نے کہا ‘آج کے موقع پر مجھے اس سے زیادہ کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ہاؤزنگ کا ایک مسئلہ ہے ۔ اس کے بارے میں بھی میں نے بات چیت کی ہے ۔آپ کے کنبے کیسے محفوظ جگہوں پر رہ سکیں، اس پر بھی بات چیت چل رہی ہے ۔ اور یقین دلاتا ہوں کہ جتنے بھی تعاون کی ضرورت ہوگی ہم مرکزی سرکار سے ہر ایک چیز فراہم کریں گے ۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ریاست اور مرکزی دونوں حکومتیں آپ کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاکر کھڑی ہیں’۔

TOPPOPULARRECENT