Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / کشمیر: چوٹی کاٹنے کا معاملہ سنگین ہوگیا، 6 تازہ واقعات سامنے آئے

کشمیر: چوٹی کاٹنے کا معاملہ سنگین ہوگیا، 6 تازہ واقعات سامنے آئے

خواتین میں ڈر و خوف کا ماحول ، تحقیقاتی کمیٹیوں کی تشکیل کے باوجود مجرمین کو پکڑنے میں کامیابی نہ مل سکی
سری نگر ، 5 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) وادی کشمیر میں خواتین کی چوٹیاں کاٹنے کا نہ تھمنے والا سلسلہ ایک انتہائی سنگین صورتحال اختیار کرچکا ہے ۔ جہاں نامعلوم افراد کے ہاتھوں خواتین کی چوٹیاں کاٹنے کے واقعات سے اہلیان وادی بالخصوص خواتین میں شدید خوف وہراس پایا جارہا ہے ، وہیں چوٹی کاٹنے کے پہلے واقعہ کو پیش آئے ایک مہینہ گزر جانے کے باوجود ریاستی پولیس اس معمے کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق وادی میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران خواتین کی چوٹی کاٹنے کے 6 نئے واقعات سامنے آئے ہیں۔ ان اطلاعات کے مطابق چند ایک جگہوں پر الرٹ خواتین نے چوٹیاں کاٹنے کی کوششیں ناکام بنادیں۔ سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں چوٹی کاٹنے کا پہلا واقعہ جمعرات کی صبح پیش آیا۔ انہوں نے بتایا ‘نامعلوم افراد نے آج صبح بارہمولہ کے خواجہ باغ میں ایک خاتون کی چوٹی کاٹ دی’۔ یہ خبر پھیلتے ہی خواجہ باغ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں لوگوں نے سڑکوں پر آکر مرتکبین کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ اس واقعہ کے محض چند گھنٹے بعد اسی ضلع کے سنگھ پورہ پٹن میں نامعلوم افراد نے ایک خاتون کی چوٹی کاٹ دی۔ تاہم موصولہ اطلاعات کے مطابق لوگوں نے اس واقعہ میں ملوث دو مبینہ چوٹی کاٹنے والوں کو پکڑ لیا ہے ۔ بعد میں پولیس نے موقع پر پہنچ کر لوگوں کی جانب سے پکڑے گئے دو افراد کو اپنی حراست میں لے لیا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق سنگھ پورہ میں چوٹی کاٹنے کا واقعہ پیش آنے کے بعد مقامی لوگوں نے قومی شاہراہ پر آکر شدید احتجاج کیا۔ جنوبی ضلع پلوامہ کے نوڈل ترال میں نامعلوم افراد نے گذشتہ رات ایک ادھیڑ عمر کی خاتون کے بال کاٹ دیے ۔ اس واقعہ کے خلاف علاقہ بھر میں گذشتہ شدید احتجاجی مظاہرے کئے گئے ۔ احتجاجی لوگ بال کاٹنے کے واقعات میں ملوث لوگوں کو فوری طور پر کیفرکردار تک پہنچانے کا مطالبہ کررہے تھے ۔ ضلع کے سانبورہ پانپور میں چوٹی کاٹنے کا تازہ واقعہ پیش آیا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق سانبورہ پانپور میں ایک نامعلوم شخص نے ایک لڑکی کی چوٹی کاٹ دی۔ تاہم مقامی لوگ اس واقعہ کے مبینہ ملزم کو پکڑنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ علاقہ میں اُس وقت احتجاجیوں اور سیکورٹی فورسز کے مابین جھڑپیں ہوئیں جب پولیس ایک پارٹی مبینہ چوٹی کاٹنے والے کو اپنی حراست میں لینے آپہنچی۔ یہ رپورٹ فائل کئے جانے تک علاقہ میں احتجاج کا سلسلہ جاری تھا۔

ادھردارالحکومت سری نگر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شہر میں جمعرات کو خواتین کی چوٹیاں کاٹنے کے دو تازہ واقعات سامنے آئے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پائین شہر کے سعدپورہ میں نامعلوم افراد نے ایک کمسن بچی کے بال کاٹ دیے ہیں۔ ایک غیرمصدقہ رپورٹ کے مطابق سری نگر کے مضافاتی علاقہ حیدرپورہ میں بھی چوٹی کاٹنے کا واقعہ پیش آیا ہے۔ سری نگر میں بدھ کے روز بھی چوٹی کاٹنے کے دو واقعات پیش آئے ۔ سری نگر میں چوٹی کاٹنے کا پہلا واقعہ یکم اکتوبر کو بتہ مالو علاقہ میں پیش آیا۔ وادی کشمیر میں چوٹی کاٹنے کے تاحال قریب چار درجن واقعات پیش آئے ہیں۔ چوٹی کاٹنے کے نہ تھمنے والے سلسلے کی وجہ سے خواتین نے اب اکیلے میں رہنے سے اجتناب کرنا شروع کردیاہے ۔ اس کے علاوہ ‘چوٹی کاٹنے والا ‘سمجھے جانے سے بچنے کے لئے بھکاریوں اور سوداگروں نے بھی لوگوں کے گھروں کو جانا بند کردیا ہے ۔ تاہم وادی میں نامعلوم افراد کی جانب سے چوٹی کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر جنوبی کشمیر کے چار اضلاع میں احتیاطی اقدامات کے طور پر 3 اکتوبر کو منقطع کردہ انٹرنیٹ خدمات اب بحال کردی گئی ہیں۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ خدمات کی معطلی کا قدم کسی بھی طرح کی افواہ بازی کو روکنے کے لئے اٹھایا گیا تھا۔ جنوبی کشمیر کے چار اضلاع اننت ناگ، پلوامہ، کولگام اور شوپیان میں انٹرنیٹ خدمات پیر اور منگل کی درمیانی شب کو کلی طور پر منقطع کی گئی تھیں۔ ان اضلاع میں تیز رفتار والی فور جی اور تھری جی موبائیل انٹرنیٹ خدمات اس سے تین روز قبل یعنی 30 ستمبر کو ہی منقطع کی گئی تھیں۔ جنوبی کشمیر کے اضلاع میں جہاں ستمبر کے مہینے میں چوٹی کاٹنے کے کم از کم تین درجن واقعات سامنے آئے ، وہیں ان واقعات کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے بھی کئے گئے ۔ ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ خواتین کی چوٹیاں کاٹنے کے واقعات میں ملوث قصورواروں کو قانون کے شکنجے میں لانے کے لئے کوششیں بڑے پیمانے پر جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لئے تحقیقاتی کمیٹیاں تشکیل دینے کے علاوہ نقدی انعام کا بھی اعلان کیا گیا ہے ۔ اس دوران جنوبی کشمیر کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس نے کہا ہے کہ خواتین کی چوٹنے کاٹنے کے واقعات کی تہہ تک جانے کے لئے کولگام اور اننت ناگ اضلاع میں ریاستی پولیس کی خصوصی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ہیلپ لائن نمبرات بھی جاری

TOPPOPULARRECENT