Sunday , July 22 2018
Home / ہندوستان / کشمیر کا ایک اور نوجوان مسلح گروپ سے ناطہ توڑ کر گھر واپس

کشمیر کا ایک اور نوجوان مسلح گروپ سے ناطہ توڑ کر گھر واپس

یہ رجحان وادی کیلئے اچھی خبر، سربراہ ریاستی پولیس شیش پال کا تبصرہ
سری نگر20نومبر (سیاست ڈاٹ کام ) جنوبی کشمیر میں ایک اور نوجوان نے مسلح عسکری گروپ سے ناطہ توڑ کر گھر واپسی اختیار کی ہے ۔ جموں وکشمیر پولیس نے پیر کو اپنے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں کہا ‘جنوبی کشمیر میں ایک اور نوجوان نے والدین کی اپیل پر گھر واپسی اختیار کی۔ اس نے جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی۔ریاستی پولیس کے سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید نے اس پیش رفت کو ایک بہت اچھی خبر قرار دیتے ہوئے کہا کہ کولگام کے دورے کے دوران مجھے بتایا گیا کہ ایک اور مقامی جنگجو نے اپنی والدہ اور دیگر افراد خانہ کی اپیل پر گھر واپسی اختیار کی ہے ۔ یہ ایک بہت ہی اچھی خبر ہے !’۔ تاہم سیکورٹی عہدیداروں کی جانب سے گھر واپسی اختیار کرنے والے نوجوان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ایک پولیس عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا ‘ جی ہاں۔ ایک سرگرم جنگجو نے تشدد کا راستہ ترک کرکے گھر واپسی اختیار کی ہے ۔ جب ہمیں اطمینان ہوگا کہ اس کی زندگی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے ، ہم اس کی شناخت ظاہر کریں گے ‘۔مقامی میڈیا کی ایک رپورٹ میں سرکاری عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ جنوبی ضلع کولگام کے چمر دمہال ہانجی پورہ کے رہنے والے ایک 16 سالہ نوجوان نثار احمد ڈار نے اپنے والدین کی اپیل پر پولیس کے سامنے خودسپردگی اختیار کی ہے ۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق گھر واپسی اختیار کرنے والے نوجوان نے رواں برس 27 ستمبر کو جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی۔ایک اور رپورٹ میں کشمیر زون کے انسپکٹر جنرل آف پولیس منیر احمد خان کے حوالے سے کہا گیاکہ نہ اُس نے خودسپردگی اختیار کی ہے اور نہ اسے گرفتار کیا ہے ۔ وہ اپنے آپ واپس اپنے گھر آگیا ہے ۔ یہ پیش رفت جنوبی ضلع اننت ناگ میں فٹ بالر سے لشکر طیبہ جنگجو بننے والے 20 سالہ ماجد خان عرف شان پولاک کی ایک فوجی کیمپ میں خودسپردگی کے تین دنوں بعد سامنے آئی ہے ۔

 

TOPPOPULARRECENT