Sunday , November 19 2017
Home / ہندوستان / کشمیر کا خصوصی موقف بعض کیلئے ناقابل برداشت :عمر عبداللہ

کشمیر کا خصوصی موقف بعض کیلئے ناقابل برداشت :عمر عبداللہ

سری نگر 14ستمبر (سیاست ڈاٹ کام ) نیشنل کانفرنس کے کارگذار صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ ملک میں کئی ایسے لوگ ہیں جن سے جموں وکشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کی وجہ سے اس ریاست کی خصوصی پوزیشن برداشت نہیں ہوتی۔انہوں نے کہ آج دفعہ 35 اے پر حملے اس لئے کئے جارہے ہیں کیونکہ بقول ان کے اہلیان جموں وکشمیر کی اپنی جماعت نیشنل کانفرنس کمزور ہے ۔ عمر عبداللہ نے الزام لگایا کہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کو وجود میں لانے کا مقصد نیشنل کانفرنس کو ختم کرنا تھا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے والد مرحوم مفتی محمد سعید نے اس مقصد کو عملی جامہ پہنانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی اور بقول ان کے مرحوم لین دین کے ماہر تھے ۔ عمر عبداللہ جمعرات کو یہاں نیشنل کانفرنس پارٹی ہیڈکواٹر نوائے صبح کمپلیکس میں پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کے ایک اجتماع سے خطاب کررہے تھے ۔ اس موقع پر سینئر ایڈوکیٹ نذیر احمد ملک نے نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کی۔این سی کارگذار صدر نے ریاست کی خصوصی پوزیشن کے خلاف ہورہی مبینہ سازشوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ‘جس ملک کا ہم حصہ ہے وہاں کئی ایسے لوگ ہیں جن سے جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن برداشت نہیں ہوتی۔جن کا ماننا ہے کہ جموں وکشمیر کا اپنا جھنڈا نہیں ہونا چاہیے ۔ وہ پریشان ہیں کہ جموں وکشمیر کے وزراء اپنے آئین پر حلف کیوں اٹھاتے ہیں؟ ملک کے آئین پر حلف کیوں نہیں اٹھاتے ۔ وہ پریشان ہیں کہ غیرریاستی باشندے یہاں زمین کیوں نہیں خرید سکتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اس طرح کے قوانین ہندوستان کی کئی دوسری ریاستوں میں بھی ہیں۔ شاید ان کی پریشانی کی وجہ یہ ہے کہ جموں وکشمیر ایک مسلم اکثریتی ریاست ہے ‘۔عمر عبداللہ نے کہ آج دفعہ 35 اے حملے اس لئے کئے جارہے ہیں کیونکہ بقول ان کے اہلیان جموں وکشمیر کی اپنی جماعت نیشنل کانفرنس کمزور ہے ۔انہوں نے کہا ‘آج اگر دفعہ 35 اے پر حملہ کیا جارہا ہے ۔ وہ صرف اور صرف اس بات کا نتیجہ ہے کہ نیشنل کانفرنس کمزور ہے ۔ آج اگر ہم مضبوط ہوتے اور آج اگر ہماری حکومت ہوتی تو ہمیں ان (بی جے پی والوں) کے ساتھ کی ضرورت نہیں پڑتی۔ تو شاید ہی یہ مسئلہ یہاں تک پہنچ گیا ہوتا’۔

TOPPOPULARRECENT