Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / کشمیر کو 21000 پلاسٹک بلٹس کی فراہمی

کشمیر کو 21000 پلاسٹک بلٹس کی فراہمی

پلٹ گنس کا استعمال کم کرنے ’ کم مہلک ‘ کارتوس متعارف
میرٹھ ۔ /7 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) سی آر پی ایف نے وادی کشمیر میں احتجاجیوں سے نمٹنے کے لئے جدید تیار شدہ اور ’ کم مہلک‘ پلاسٹک گولیوں کے 21,000 راؤنڈ کارتوس روانہ کئے ہیں ۔ دفاعی تحقیقی و ترقی کے ادارہ (ڈی آر ڈی او) نے ان بلٹس کو فروغ دیا تھا اور پونے میں واقع آرڈیننس فیکٹری نے تیار کیا ۔ ان کارتوسوں کو اے کے سیریز کے رائفلس میں استعمال کیا جاسکتا ہے اور یہ مختلف گوشوں سے تنقید و مذمت کا نشانہ بننے والے پلٹ شاٹ گنس کا متبادل بہتر متبادل ہوسکتے ہیں ۔ سی آر پی ایف کے ڈائرکٹر جنرل آر آر بھٹناگر نے پی ٹی آئی سے کہا کہ ’’معائنہ و تجربہ سے ظاہر ہوگیا ہے کہ پلاسٹک کے یہ کارتوس ’ کم مہلک‘ ہیں اور اس سے پلٹ گنس اور دیگر غیر مہلک اسلحہ پر ہمارا انحصار کم سے کم ہوگا جو (اسلحہ) ہجوم پر کنٹرول کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر میں سنگباری میں ملوث افراد اور احتجاجی ہجوم سے نمٹنے کے لئے یہ جدید ترین کم مہلک اسلحہ ہیں جو اس فورس کی طرف سے متعارف کئے گئے ہیں ۔ ڈی جی نے مزید کہا کہ ’’ 21000 راؤنڈ کارتوس تقسیم کے لئے ہمارے تمام یونٹوں کو روانہ کئے گئے ہیں ‘‘ ۔ سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کو جموں و کشمیر میں امن و قانون کی برقراری اور انسداد تخریب کاری کی کارروائیوں کیلئے تعینات کیا گیا ہے ۔
10 ٹرمپ بھی نیوکلیئر سمجھوتہ کے فوائد واپس نہیں لے سکتے : حسن روحانی
تہران ۔ /7 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ایران کے صدر نے عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015 ء میں طئے شدہ سمجھوتہ کی مدافعت کرتے ہوئے کہا کہ 10 ڈونالڈ ٹرمپس بھی ان (صدر روحانی) کے ملک کو ملنے والے سمجھوتے کے فوائد کو واپس نہیں لے سکتے ۔ حسن روحانی نے آج یہ تبصرہ ایک ایسے وقت کہ جب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ اس سمجھوتہ کو ختم کرنے کیلئے اپنے عہد پر عمل آوری کی مہم میں شدت پیدا کررہے ہیں اور اس کے بجائے ایران کے خلاف مزید سخت اقدامات پر غور کررہے ہیں ۔
صدر حسن روحانی نے تہران یونیورسٹی میں طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم ناقابل تنسیخ فوائد حاصل کئے ہیں ۔ جنہیں کوئی بھی واپس نہیں لے سکتا نہ تو ایک ٹرمپ اور نہ ہی 10 ٹرمپس ( ان فوائد کو واپس لے سکتے ہیں ) ‘‘ ایران نے اس سمجھوتہ کے تحت اپنے نیوکلیئر پروگرام پر چند پابندیوں کو قبول کیا ہے جس کے جواب میں ایران کو تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں کی برخاستگی کے بشمول دیگر کئی فوائد حاصل ہوئے ہیں ۔ توقع کی جارہی ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ اب ایرانی پاسداران انقلاب اور ایرانی تائید یافتہ شیعہ ملییشاء گروپ حز ب اللہ کے خلاف نئے اقدامات کریں گے ۔

TOPPOPULARRECENT