Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / کشمیر کیلئے مصالحت کار کا تقرر صرف تشہیری حربہ : کانگریس

کشمیر کیلئے مصالحت کار کا تقرر صرف تشہیری حربہ : کانگریس

مسئلہ کشمیر کی یکسوئی کے لئے این ڈی اے حکومت کے ’’ارادے‘‘ مشتبہ ، اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد کا بیان

نئی دہلی ۔ 24 اکتوبر۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس نے آج کہا کہ مسئلہ کشمیر کی یکسوئی کیلئے مصالحت کار کا تقرر صرف ایک سیاسی حربہ ہے ، اس مسئلہ کو حل کرنے میں این ڈی اے حکومت کے ارادوں پر شبہ ظاہرکرتے ہوئے کانگریس نے کہاکہ اگر حکومت کو مسئلہ حل کرنا ہی ہوتو اُسے درست اقدامات کرنے چاہئے ۔ ایک مصالحت کار کا تقرر کرتے ہوئے صرف تشہیری حربہ اختیار نہ کیا جائے ۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے کہاکہ کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیاں حکومت سے سوال کرتی ہیں کہ آیا وہ اعتمادسازی اقدامات کے ذریعہ وادی کشمیر میں سیاسی مسئلہ کو حل کرنے کے لئے تمام دعویداروں سے بات چیت کرنے تیار ہے ۔ حکومت کو مصالحت کار جیسے اقدام کے بجائے اصل میں بات چیت کی پہل کرنی چاہئے ۔ حکومت نے مسئلہ کشمیر کو گرماتے ہوئے گزشتہ ساڑھے تین سال کے دوران نہ صرف وقت ضائع کیا بلکہ کشمیری نوجوانوں کی قیمتی جانوں کی بھی بھینٹ چڑھائی ہے ۔ ہم حکومت کے فیصلے کے خلاف نہیں ہیں ، لیکن ان کی مدت کے ختم ہونے کے قریب ان لوگوں نے یہ قدم اُٹھایا ہے ۔ یہ صرف ایک پبلسٹی حربہ ہے ۔ اس حکومت کو وادی کشمیر کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور نہ ہی اس کے پاس کشمیر کیلئے کوئی پالیسی ہے ۔ ان کے پاس نوٹ بندی ، جی ایس ٹی ، کسانوں کے مسائل پر بھی کوئی پالیسی نہیں ہے اور بیروزگاری بڑھتے جارہی ہے اس لئے ہمیں حکومت کے ارادوں پر شبہ ہورہا ہے کہ کشمیر کے لئے بھی اس کے پاس کوئی پالیسی نہیں ہے ۔

ان کے پاس صرف اس ملک کو کس طرح پھوٹ کا شکار بنایا جائے اور حکومت کی جائے کی پالیسی کے سواء کچھ نہیں ہے ۔ یہی پالیسی کو بیرونی حکمرانوں نے اختیار کیا تھا ۔ انھوں نے اپوزیشن قائدین کی ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مرکزی حکومت نے ثابت کردیا ہے کہ اس کے پاس عوام کے لئے کوئی پالیسی نہیں ہے ۔ غلام نبی آزاد جن کے ہمراہ ٹی ایم سی کے ڈیرک اوبرائن اور جنتادل یو (شردیادو) بھی تھے ۔ حکومت نے اب تک ایسے کونسے اقدامات کئے ہیں جو کانگریس زیرقیادت اپوزیشن نے تجویز رکھی تھی۔ اگر کانگریس کی تجویز کو یہ حکومت قبول کرتی تو وادی کشمیر میں سپاہیوں اور شہریوں کی قیمتی جانوں کو بچانے کے ساتھ ساتھ پیالٹ گنس کے باعث کئی نوجوان لڑکیوں کی زندگی کو بچایا جاسکتا تھا ۔ گزشتہ ساڑھے تین سال کے دوران بی جے پی صرف ماحول کو گرمانے کی بات کررہی ہے ۔ ہم تمام اپوزیشن پارٹیوں نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ہر جگہ وادی کشمیر میں اعتماد سازی کے اقدامات کرنے کی بات کی ہے ۔ حکومت پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ ماحول کو گرمانے سے گریز کرے ۔ غلام نبی آزاد نے کہاکہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے ، اسے سیاسی طورپر ہی حل کیا جانا چاہئے ۔ کوئی بھی سیاسی مسئلہ گرما گرمی اختیار کرنے سے حل نہیں ہوسکتا۔ ہم نے حکومت سے یہ بھی کہا تھا کہ وہ وادی کشمیر کے تمام دعویداروں سے بات چیت کرے ۔ اگر آپ کو کوئی سیاسی فیصلہ کرنا ہو تو ہمیں تمام فریقین سے بات چیت کرنی ہوگی ۔ کیا حکومت نے گزشتہ تین سال کے دوران ایسا کوئی قدم اُٹھایا ہے ؟ یہ بات ہرگز نہیں دیکھی گئی ۔ اگر ایسا ہوتا تو وادی کشمیر میں خون خرابہ نہیں ہوتا۔

TOPPOPULARRECENT